امریکا کے بعد فرانس نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپ میں بھارتی رافیل طیارے پاکستانی فضائیہ کے سامنے ناکام رہے۔ فرانسیسی نیول ایئربیس کے کمانڈر کیپٹن یوک لونے نے کہا کہ مسئلہ رافیل طیارے میں نہیں بلکہ بھارتی پائلٹس کی کمزور تربیت اور ناقص مہارت میں تھا۔
شمال مغربی فرانس میں منعقدہ بین الاقوامی انڈو پیسفک کانفرنس کے دوران کیپٹن لونے نے بتایا کہ پاکستان کی فضائیہ اس رات بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ میدان میں موجود تھی، اور پاکستانی پائلٹس نے منظم، پرسکون اور مؤثر انداز میں صورتحال سنبھالی۔
انہوں نے کہا کہ اس رات 140 سے زائد لڑاکا طیارے فضا میں تھے، جس سے ماحول انتہائی پیچیدہ ہو گیا، لیکن پاکستانی فضائیہ نے بہترین کمانڈ اور کنٹرول کے ساتھ ہر لمحے کی صورتِ حال کو بھارت کے مقابلے میں بہتر طریقے سے ہینڈل کیا۔
کیپٹن لونے نے مزید واضح کیا کہ بھارتی پائلٹس جدید رافیل ریڈار اور سسٹمز سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے، اور ’’ریڈار یا رافیل سسٹم ناکام نہیں ہوا، اصل مسئلہ اسے چلانے والے بھارتی پائلٹس کی کمزوری تھی۔‘‘
انڈو پیسفک کانفرنس میں ماہرین نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کا یہ فضائی معرکہ عالمی دفاعی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ 6 اور 7 مئی کو ہونے والی جھڑپ میں جدید جنگی جہازوں، تربیت یافتہ پائلٹس، اور ایئر ٹو ایئر میزائلوں کی کارکردگی حقیقی جنگی ماحول میں پہلی بار اس قدر واضح طور پر دیکھی گئی۔
دنیا بھر کی عسکری قیادت نے اس جھڑپ کو باریک بینی سے مانیٹر کیا تاکہ مستقبل کی فضائی حکمتِ عملی کے لیے اہم نتائج اخذ کیے جا سکیں۔