بھارتی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کنول جیت سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پانی کی دستیابی اور دریاؤں پر کنٹرول کی طاقت کسی بھی ملک کے لیے جغرافیائی اور سٹریٹجک فائدہ فراہم کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان پانی کے وسائل کے حوالے سے موجود حساس مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ماہرین بین الاقوامی قوانین کے تحت پانی کے ہتھیار کے استعمال کے خطرات پر بھی روشنی ڈال رہے ہیں اور دونوں ممالک کو سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
ایکس پر ان کا انٹرویو کلپ وائرل ہوا ہے جس میں جنرل ریٹائرڈ کنول جیت سنگھ نے کہا کہ بھارت کے پاس پانی روکنے اور چھوڑنے کی بھرپور صلاحیت ہے
بھارت اچانک پانی روک کر پھر پاکستان کی طرف چھوڑ دے گا، جس سے سیلاب آئے گا اور پاکستان اس پانی کو سنبھال نہیں سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت فصلوں کے موسم میں پانی روک سکتا ہے اور بارشوں کے موسم میں جب پانی کی ضرورت نہیں ہوتی، تب چھوڑ سکتا ہے.
کنول جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی نہیں بلکہ دو طرفہ معاہدہ ہے، اس لیے بھارت اپنی مرضی سے پانی روکنے یا چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت نے دریائے راوی، جہلم، ستلج اور چناب میں پانی چھوڑا، جس سے پاکستان میں غیر معمولی سیلابی صورتحال پیدا ہوئی.
درجنوں افراد جاں بحق ہوئے، کھیت تباہ ہوئے اور گھروں کو نقصان پہنچا۔