امریکا کا مقابلہ کرنے لئے دنیا کا سب سے بڑا جوہری طاقت والا ملک بننا چاہتے ہیں: شمالی کوریا

 امریکا کا مقابلہ کرنے لئے دنیا کا سب سے بڑا جوہری طاقت والا ملک بننا چاہتے ہیں: شمالی کوریا فائل فوٹو امریکا کا مقابلہ کرنے لئے دنیا کا سب سے بڑا جوہری طاقت والا ملک بننا چاہتے ہیں: شمالی کوریا

 شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ امریکی سامراج کی جوہری بالادستی کا مقابلہ کرنے اور اپنے ملک اور عوام کے وقار و خودمختاری کے تحفظ کے لیے دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقت بننا چاہتے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ملک کے سب سے بڑے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بنانے والے درجنوں فوجی افسران کو ترقی اور اسناد دینے کی تقریب سے خطاب کیا۔ اس بیلسٹک میزائل سے متعلق جاپان کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکا تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تقریب سے خطاب میں کم جونگ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ہدف دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقت بننا ہے جس کی اس صدی میں مثال نہیں ملتی اور یہ کہ ملک کی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ ریاست اور عوام کے وقار اور خودمختاری کا ضامن ہوگا۔

شمالی کوریا کے حکمراں نے حال ہی میں تجربہ کیے گئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’’ Hwasong-17‘‘ کو دنیا کا سب سے مضبوط اسٹریٹجک ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ میزائل شمالی کوریا کی فوج کو دنیا کی سب سے مضبوط فوج بنا سکتا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ حکمراں کم جونگ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ Hwasong-17‘‘ میزائل نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ عوامی جمہوریہ کوریا(شمالی کوریا کا خوساختہ اور متنازع نام) ایک مکمل جوہری طاقت ہے جو امریکی سامراج کی جوہری بالادستی کے خلاف کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

حکمراں کم جونگ اُن کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے سائنسدانوں نے بیلسٹک میزائلوں پر جوہری وار ہیڈز کو نصب کرنے کی ٹیکنالوجی میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے اور توقع ہے کہ ملک کی جوہری ڈیٹرنٹ صلاحیتوں کو غیر معمولی تیز رفتاری سے بڑھایا جائے گا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق فوجی انجینیئرز کو سراہنے کی تقریب میں حکمراں جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے کم جونگ اُن کے “مکمل اختیار” کے دفاع کا عہد کیا، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمارے میزائل صرف اس سمت میں بھرپور طریقے سے پرواز کریں گے جس جانب کم جونگ اُن اشارہ کریں گے۔

اس تقریب میں شمالی کوریا کے حکمراں کے بیٹی بھی موجود تھیں۔ وہ پہلی مرتبہ Hwasong-17 کے ٹیسٹ کے موقع پر اپنے والد کے ہمراہ منظر عام پر آئی تھیں اور اب یہ دوسرا اہم موقع ہے جس سے لگتا ہے کہ شمالی کوریا کی حکمرانی اب چوتھی نسل میں منتقل ہونے والی ہے۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے امریکا تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ 18 نومبر کو کیا تھا جس پر امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر شمالی کوریا کو اس جارحیت پر جواب دینے اور مزید پابندیوں پر زور دیا تھا۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store