طالبان حکومت دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے: افغان وزیراعظم

افغانستان کے وزیراعظم محمد حسن اخوند فائل فوٹو افغانستان کے وزیراعظم محمد حسن اخوند

افغانستان کے وزیراعظم محمد حسن اخوند نے کہا ہے کہ افغان حکومت دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنگ زدہ ملک کی مدد جاری رکھیں۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والی قوم سے اپنی پہلی تقریر میں طالبان حکومت کے وزیراعظم محمد حسن اخوند نے کہا کہ ہم تمام ممالک کو یقین دلاتے ہیں کہ کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور سب کے ساتھ بہترین معاشی تعلقات رکھنا چاہتےہیں۔

محمد حسن اخوند نے قوم سے اپنا پہلا خطاب ایک ایسے موقع پر کیا جب اگلے ہفتے دوحہ میں امریکا سے طالبان کے مذاکرات ہونے جارہے ہیں جبکہ قومی سطح پر درپیش چیلنج کے باجود حکومت سنبھالنے کے بعد خاموشی پر سوشل میڈیا پر تنقید کا بھی سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے تمام فلاحی اداروں سےمطالبہ کرتے ہیں وہ اپنی امداد معطل نہ کریں اور ہماری جنگ زدہ قوم کی مدد کریں تاکہ لوگوں کے مسائل حل کیے جائیں۔

طالبان نے 15 اگست کو افغانستان کی حکومت حاصل کی تھی لیکن اس کے بعد ملک میں موجود تمام غیرملکی واپس چلے گئے تھے اور افغانستان میں معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے۔

افغانستان میں مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے اور بینکنگ کے شعبے کو بھی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

امریکا نے کابل کے 10 ارب ڈالر کے اثاثے بھی منجمد کر دیے ہیں اور دوسری جانب عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے بھی فنڈ تک افغانستان کی رسائی معطل کردی ہے۔

امریکا کی سربراہی میں غیر ملکی عطیات دہندگان نے افغانستان کی گزشتہ حکومت کے 20 سالہ دور میں سرکاری اخراجات کا 75 فیصد حصہ فراہم کیا تھا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے اداروں نے افغانستان میں انسانی بحران کے خدشات سے بھی خبردار کیا ہے کہ ملک کی نصف آبادی 38 لاکھ افراد سردیوں کے موسم میں بھوک کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ملک کی بگڑتی معاشی حالت کے باعث شہری کھانے اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے گھریلو اشیا فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

گزشتہ ہفتے حکومت کے محکمہ ریونیو کے ترجمان معراج محمد معراج نے کہا تھا کہ 2 سے ڈھائی ماہ کے عرصے میں 26 ارب افغانی (تقریباً 27 کروڑ 70 لاکھ ڈالر) ریونیو حاصل کرنے کے بعد اب حکام تنخواہیں ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

ایک نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت تمام شعبہ جات فعال نہیں بلکہ صرف 20 سے 25 فیصد معیشت فعال ہے‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ حکام غریب لوگوں اور یتیموں کے لیے امدادی منصوبوں کی غرض سے ایک نیا اسلامی ٹیکس متعارف کرائیں گے۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store