آج (31 مئی 2026) کو آسمان پر طلوع ہونے والا چاند بنیادی طور پر بلیو مائیکرو مون ہوگا۔
یہ کوئی عام مکمل چاند نہیں بلکہ ایک مہینے میں دوسرا مکمل چاند ہے، اس سے قبل یکم مئی کو مکمل چاند نظر آیا تھا۔
یہ غیر معمولی ہوتا ہے کیونکہ عموماً چاند کا ایک چکر ساڑھے 29 دن کا ہوتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر مہینے میں ایک بار ہی مکمل چاند نظر آتا ہے۔
مگر کئی بار ایک مہینے میں 2 مکمل چاند نظر آتے ہیں اور ایسے دوسرے چاند کو بلیو مون کہا جاتا ہے۔
اس سے ہٹ کر ایک سیزنل بلیو مون بھی ہوتا ہے اور یہ اصطلاح فلکیاتی سیزن کے دوران نظر آنے والے 'اضافی' مکمل چاند کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
یعنی 3 ماہ میں 3 کی بجائے 4 مکمل چاند نظر آئیں تو اس چوتھے چاند کے لیے سیزنل بلیو مون کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
تو مائیکرو مون کیا ہے؟
اس اصطلاح کا استعمال زمین سے نظر آنے والے چاند کے حجم کے لیے کیا جاتا ہے۔
چاند ہمیشہ زمین سے یکساں فاصلے پر نہیں رہتا بلکہ وہ زمین کے گرد مدار میں گھومتا رہتا ہے۔
جب مکمل چاند اس وقت نظر آئے جب وہ زمین کے سب سے قریب ہوتا ہے تو اس کے لیے سپر مون کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جبکہ زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر موجود چاند کو مائیکرو مون کہا جاتا ہے۔
ویسے تو اس اصطلاح سے لگتا ہے کہ چاند بہت چھوٹا نظر آئے گا مگر مائیکرو مون معمول کے چاند سے محض 6 فیصد جبکہ سپر مون سے 14 فیصد چھوٹا نظر آتا ہے۔
تو 31 مئی کا بلیون خاص کیوں ہے؟
عام طور پر اس طرح کا بلیو مون ہر 2 سال میں ایک بار نظر آ جاتا ہے جبکہ مائیکرو مون ہر سال 2 سے 3 بار نظر آتے ہیں۔
مگر بلیو مائیکرو مون دہائیوں بعد نظر آتا ہے اور اگلی بار دیکھنے کے لیے کافی برس تک انتظار کرنا ہوگا۔
خیال رہے کہ بلیو مون سے مراد یہ نہیں کہ چاند کا رنگ نیلگوں مائل ہو جائے گا۔
31 مئی کو چاند زمین سے 4 لاکھ 6 ہزار کلومیٹر کی دوری پر موجود ہوگا جبکہ معمول کے مقابلے میں 7 فیصد چھوٹا اور 30 فیصد کم روشن نظر آئے گا۔