چینی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی "لیٹن آٹو گروپ" نے پنجاب میں چھوٹے الیکٹرک وہیکلز کی تیاری کے لیے پلانٹ لگانے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے جنرل منیجر کی قیادت میں 15 رکنی وفد نے لاہور میں صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین سے ملاقات کی اور منصوبے کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا۔
صوبائی وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت پنجاب مکمل تعاون فراہم کرے گی اور سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی معاشی زونز میں پلانٹ لگانے پر دس سال کی انکم ٹیکس چھوٹ اور مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد جیسی سہولیات دستیاب ہیں۔
ماہرین کے مطابق پنجاب غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک پسندیدہ مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں نئی سرمایہ کاری معیشت کو مضبوط کرنے کے ساتھ ہزاروں روزگار کے مواقع بھی فراہم کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ لیٹن آٹو نے 2023 میں چین میں دیوالیہ پن کی درخواست دی تھی اور 2024 میں اپنی تنظیم نو مکمل کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی اب پاکستان، خاص طور پر پنجاب کو نہ صرف مقامی پیداوار بلکہ برآمدات کے لیے بھی مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہے، کیونکہ یہاں امریکہ کو برآمد کرنے پر سب سے کم 19 فیصد ٹیرف لاگو ہوتا ہے۔
پاکستان میں چینی الیکٹرک وہیکلز کی آمد کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
بی وائے ڈی، چانگان اور ایم جی جیسے برانڈز پہلے ہی مارکیٹ میں قدم جما چکے ہیں جبکہ دیگرکمپنیاں بھی اسمبلنگ اور پیداواری امکانات پر غورکر رہی ہیں۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ مقابلے کے نئے دور میں جاپانی اور کوریائی کمپنیوں کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔
کار ساز اداروں کاکہنا ہے کہ چینی گاڑیاں اگر مناسب قیمت پر متعارف ہوئیں تو جلد مارکیٹ پر قبضہ جما سکتی ہیں، صارفین کو بہتر اور سستی متبادل گاڑیاں مل سکیں گی۔
جبکہ مقامی صنعت میں ٹیکنالوجی منتقلی، پرزہ جات کی تیاری اور بیٹری انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کی آمد پاکستانی آٹو مارکیٹ میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔
پنجاب کیلئے یہ منصوبے نہ صرف صنعتی بنیادکو مضبوط کریں گے بلکہ روزگار، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔