پرپلیکسی اے آئی نے منگل کے روز گوگل کو اس کے مشہور ویب براؤزر "کروم" کے لیے 34.5 ارب ڈالر کی پیشکش کی ہے۔
یہ وہ براؤزر ہے جسے ممکنہ طور پر گوگل کو انسدادِ اجارہ داری کی کارروائیوں کے نتیجے میں فروخت کرنا پڑ سکتا ہے۔
پرپلیکسی کی جانب سے پیش کی گئی یہ خطِ ارادہ میں دی جانے والی خطیر رقم اس اسٹارٹ اپ کی اپنی حالیہ مالیت، جو کہ ایک فنڈنگ راؤنڈ میں 18 ارب ڈالر بتائی گئی تھی، سے تقریباً دگنی ہے۔
پرپلیکسی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، اروند سرنیواس نے اس خط میں لکھا:
"یہ تجویز عوامی مفاد میں انسدادِ اجارہ داری کے ممکنہ حل کے طور پر دی جا رہی ہے، تاکہ کروم جیسے بڑے براؤزر کو ایک قابل، خودمختار آپریٹر کے سپرد کیا جا سکے، جو تسلسل، کھلے پن اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائے۔"
گوگل اس وقت امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج امیت مہتا کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔
جو طے کریں گے کہ گوگل کے خلاف غیر قانونی اجارہ داری کے تاریخی فیصلے کے بعد کون سی "سزا یا اقدامات" لاگو کیے جائیں۔
امریکی حکومت کے وکلا کا مؤقف ہے کہ گوگل کو کروم براؤزر سے دستبردار ہونا چاہیے۔
کیونکہ مصنوعی ذہانت (AI) گوگل کے انٹرنیٹ پر غلبے کو مزید مضبوط بنانے والی ہے۔
ادھر، گوگل نے جج سے درخواست کی ہے کہ وہ کروم کے بٹوارے کی تجویز کو رد کر دیں۔
اور توقع ہے کہ فیصلہ اسی ماہ کے آخر تک سنا دیا جائے گا۔
گوگل نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دوسری جانب، بیئرڈ ایکویٹی ریسرچ کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پرپلیکسی کی پیشکش کروم کی اصل مالیت سے کہیں کم ہے اور اسے "سنجیدہ پیشکش نہیں سمجھا جانا چاہیے"۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، چونکہ پرپلیکسی کے پاس پہلے ہی ایک براؤزر موجود ہے جو کروم کا مقابلہ کر رہا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ یہ اقدام دوسرے ممکنہ خریداروں کو ترغیب دینے یا انسدادِ اجارہ داری کیس کے فیصلے پر اثر ڈالنے کی ایک کوشش ہو۔
"کسی بھی صورت میں، ہمارا ماننا ہے کہ پرپلیکسی ایک آزاد کروم — یا گوگل سے علیحدہ کروم — کو اپنے لیے فائدہ مند سمجھے گا کیونکہ وہ براؤزر مارکیٹ میں حصہ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے،"۔
بیئرڈ کے تجزیہ کاروں نے سرمایہ کاروں کو بتایا۔
گوگل کا مؤقف ہے کہ امریکی حکومت اس مقدمے کے دائرہ کار سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔
خاص طور پر جب وہ کروم کو الگ کرنے یا اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کی فروخت جیسے سخت اقدامات تجویز کر رہی ہے۔
کیٹو انسٹیٹیوٹ کی سینیئر فیلو برائے ٹیکنالوجی پالیسی، جینیفر ہیڈلسٹن نے کہا:
"کروم کی فروخت پر مجبور کرنا یا ڈیفالٹ معاہدوں پر پابندی لگانا مقابلے کو فروغ نہیں دے گا، بلکہ یہ جدت کو نقصان پہنچائے گا، چھوٹے کاروباروں کو متاثر کرے گا اور صارفین کو کم معیاری مصنوعات کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا۔"
گوگل کے وکیل، جان شمڈلین نے عدالت میں کہا کہ کروم کے 80 فیصد سے زائد صارفین امریکہ سے باہر ہیں، اس لیے اس کی فروخت کے بین الاقوامی اثرات ہوں گے۔
"جو بھی کروم فروخت کیا جائے گا، وہ موجودہ کروم کا سایا ہی ہوگا،" شمڈلین نے کہا۔
"اور جب ہم اس دنیا میں پہنچ جائیں گے، تو یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کوئی بھی اس سے بہتر ہوگا۔"
یہ تمام بحث اس وقت ہو رہی ہے جب مائیکروسافٹ، چیٹ جی پی ٹی، اور پرپلیکسی جیسے حریف جنریٹو مصنوعی ذہانت کو استعمال کر کے انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کرنے کے نئے طریقے لا رہے ہیں۔
گوگل بھی ان ٹیکنالوجیز میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ اے آئی کی دوڑ میں آگے رہے، اور وہ اپنے سرچ اور دیگر آن لائن سروسز میں اے آئی کو شامل کر رہا ہے۔