اگلے چار سال دنیائے فٹبال پر کس کی حکمرانی ہوگی؟ فیصلہ آج امریکا میں ہوگا۔ ارجنٹینا کے لیونل میسی اور اسپین کے لامین یمال کے علاوہ بھی دونوں ٹیموں میں کئی ایسے پلیئرز ہیں جو کسی بھی وقت کھیل کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ ورلڈکپ کا فائنل میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے شروع ہوگا۔
نیویارک نیوجرسی اسٹیڈیم میں ورلڈکپ فٹبال کا فائنل دفاعی چیمپین ارجنٹینا اور سابق عالمی چیمپئن اسپین کے درمیان کھیلا جائےگا۔
ارجنٹینا کے لیونل میسی اور اسپین کے لامین یمال کے علاوہ بھی دونوں ٹیموں میں کئی ایسے پلیئرز ہیں جو کسی بھی وقت کھیل کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ ورلڈکپ کا فائنل میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بجے شروع ہوگا۔
میچ میں لیونل میسی کا تجربہ بھی انتہائی اہم کردار ادا کرے گا، ان کے ساتھ مارٹینز اور فرنانڈز کی برق رفتاری بھی ٹیم کو فاتح بناسکتی ہے۔
دوسری جانب اسپین میں ہے نوجوان لامین یمال جو کسی بھی دفاعی لائن کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پھر ٹیم کے ٹاپ اسکورر مائیکل اویرزبال بھی ہیں جو ارجنٹینا کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ بھی دونوں ٹیموں میں کئی ایسے پلیئرز ہیں جو کسی بھی وقت کھیل کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔
دنیا بھرکے شائقین فٹبال فائنل میں ارجنٹینا اور اسپین کے لیے اپنی اپنی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں، اسی طرح فلسطینی شائقین اسپین کی حمایت کر رہے ہیں اور ہسپانوی ٹیم کی جیت کے لیے پرجوش ہیں۔
غزہ کے شہریوں کا اسپین کی حمایت کا اعلان
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق غزہ میں فٹبال کے بہت سے شائقین نے اتوار کو ارجنٹینا کے خلاف ہونے والے ورلڈکپ فائنل میں اسپین کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپین نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اسی لیے وہ اسپین کی کامیابی کے خواہاں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کے بہت سے لوگوں کی یہی رائے ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ اسرائیلی جارحیت کے دوران فلسطینیوں کے حوالے سے ہسپانوی حکومت کا مؤقف اور اسپین کی معروف کھیلوں کی شخصیات، خصوصاً بارسلونا کے نوجوان اسٹار لامین یمال کی جانب سے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے۔
غزہ کے ایک شہری احمد البزم نے لامین یمال کے لیے اپنے پیغام میں کہا کہ فلسطین کی جانب سے ہم آپ سے محبت کرتے ہیں، ہم دل سے آپ کی حمایت کرتے ہیں اور امیدکرتے ہیں کہ آپ ورلڈکپ ٹرافی جیتیں اور اس کے ساتھ فلسطین کا پرچم بھی بلند کریں۔
غزہ کے معذور افراد کی فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ حاتم المغربی نے کہا کہ پورا فلسطین چاہتا ہے کہ اسپین ورلڈکپ جیتے۔ہمارے ان کھلاڑیوں نے اپنی ٹانگیں اور بازو ضرور کھوئے ہیں لیکن انہوں نے فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کے لیے اپنی محبت، شکرگزاری اور احترام کا جذبہ نہیں کھویا۔
سابق فلسطینی فٹبالر عدنان العفیفی کا کہنا تھا کہ اسپین کی حمایت کا مطلب ارجنٹینا سے دشمنی نہیں، ہم ہر ٹیم کا احترام کرتے ہیں، اسپین کی حمایت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم ارجنٹینا کے مخالف ہیں، ہم ان کے لیے بھی نیک تمنائیں رکھتے ہیں۔
لاطینی امریکا میں شائقین اسپین کی حمایت کیوں کررہے ہیں؟
دوسری جانب خلاف روایت اس مرتبہ لاطینی امریکا میں کئی شائقین ورلڈکپ فائنل میں ارجنٹینا کے بجائے اسپین کی حمایت کر رہے ہیں۔ روایتی طور پر ماضی میں لاطینی امریکا کے ممالک اپنے ریجن کی ٹیموں کو سپورٹ کرتے رہے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق لاطینی امریکا کے مختلف ممالک میں بہت سے لوگ اتوار کے فائنل میں ارجنٹینا کے بجائے اسپین کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں۔
ارجنٹینا کے ماہر عمرانیات نکولاس کابریراکہتے ہیں کہ ماضی میں لاطینی امریکی عوام عموماً کسی بھی یورپی ٹیم کے مقابلے میں اپنے خطے کی ٹیم کی حمایت کرتے تھے، مگر حالیہ برسوں میں یہ رجحان کافی بدل گیا ہے۔
ان کے مطابق پہلے یہ رویہ زیادہ تر ارجنٹینا کے روایتی حریف ممالک خصوصاً برازیل، یوراگوئے اور چلی تک محدود تھا، لیکن اب میکسیکو، کولمبیا اور ایکواڈور جیسے ممالک کے بعض شائقین بھی ارجنٹینا کے خلاف دوسرے فریق کی حمایت کرنے لگے ہیں۔
ان کے مطابق لاطینی امریکا میں بڑھتی ہوئی کلب فٹبال نے بھی اس رقابت کو مزیدگہرا کیا ہے اور شائقین کے درمیان مسابقت اور چھیڑ چھاڑ بڑھ گئی ہے اور سوشل میڈیا نے بھی اس صورت حال کو مزید شدت دی ہے۔
ان کے مطابق نفرت انگیز زبان، نسل پرستی، غیرملکیوں سے تعصب اور امتیازی رویے اب سوشل میڈیا کے ذریعے پہلےکے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں اور تیزی سے پھیلنے لگے ہیں، حالانکہ ماضی میں ایسے رویے نسبتاً محدود اور کم نظر آتے تھے۔