نیب قانون میں میرے اور شریف خاندان کے لیے دُہرا معیار کیوں ہے: شرجیل میمن

سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ نیب قانون میں میرے اور شریف خاندان کے لیے دُہرا معیار کیوں ہے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما شرجیل میمن کو نیب نے 23 اکتوبر کو ضمانت منسوخ ہونے پر سندھ ہائیکورٹ سے حراست میں لیا تھا جس کے بعد انہیں عدالت نے جیل بھیج دیا۔

شرجیل میمن کو بکتر بند میں اسمبلی لایا گیا

ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی کی درخواست پر انہیں اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے لایا گیا تو پیپلزپارٹی کے ارکان نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔

پارٹی کے ارکان نے شرجیل میمن کی آمد پر ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ان کے حق میں نعرے بازی بھی کی جب کہ اس دوران میڈیا نے سابق وزیر سے بات کرنے کی کوشش کی جس پر انہوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔

سابق وزیر کا اسمبلی میں اظہار خیال

اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ جو شخص ملک میں نہیں اس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا طریقہ کار سمجھ میں نہیں آیا، نئے چیرمین نیب سے گزارش ہے کہ نام ای سی ایل میں ڈالنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیں۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ نیب نے مجھے کوئی سمن جاری کئے بغیر ہی گرفتار کیا، جیسے ہی اسلام آباد ایئرپورٹ پر طیارے کی آخری سیڑھی پر قدم رکھا تو نیب اہلکاروں نے پھرتی دکھاتے ہوئے مجھے گرفتار کر لیا جب کہ گرفتاری کے وقت میرے پاس ضمانت کے کاغذات موجود تھے۔

مزید جانئیے: میگا کرپشن کیس؛ شرجیل میمن کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

سابق وزیر نے میاں نوازشریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کیپٹن صفدر اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تو انہی نیب اہلکاروں کو ایئرپورٹ جانے کی اجازت نہیں تھی، اس صورت حال کو کیا میں نیب کی مسلم لیگ (ن) سے محبت کا نام دوں؟

’ملک میں ہونے کے باوجود نام ای سی ایل میں ہے‘

پی پی رہنما نے کہا کہ گزشتہ 7 ماہ سے ملک میں موجود ہوں اور ہر پیشی پر عدالت میں پیش بھی ہو رہا ہوں لیکن اس کے باوجود میرا نام تاحال ای سی ایل میں شامل ہے۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور ان کی پوری فیملی کے خلاف نیب ریفرنسز دائر ہیں جب کہ اسحاق ڈار ریفرنسز کے باوجود پوری دنیا میں گھوم پھر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ نیب کے قانون میں میرے لیے اور میاں صاحب کے لئے دوہرا معیار کیوں ہے؟

شرجیل میمن کی گرفتاری کیخلاف قرارداد منظور

دوسری جانب سندھ اسمبلی میں نیب کی جانب سے شرجیل میمن کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور گرفتاری کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی۔

جب کہ مسلم لیگ فنکشنل کی رہنما نصرت سحر عباسی نے قرارداد کی سخت مخالفت کی۔

install suchtv android app on google app store