سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور لیگی وفاقی وزرا عوامی نمائندے نہیں، فارم 47 کی پیداوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں نے صحت، تعلیم، توانائی اور دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج وفاقی حکومت کے بعض وزرا اسی ترمیم کے خلاف بات کر رہے ہیں۔
سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ایوان کی کارروائی کے دوران ایم کیو ایم کی رکن قراۃ العین نے قرارداد پیش کی کہ تمام ہائی ویز پر اسٹریٹ لائٹس لگائی جائیں ۔ اس پر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ملک کی تمام ہائی ویز وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے رکن اسمبلی سے کہا کہ وہ اپنے پارٹی ارکان سےکہیں کہ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں آواز اٹھائیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے خود مختار ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، احسن اقبال، خواجہ آصف اور مصطفی کمال پر اٹھارویں ترمیم کے خلاف بیانات دینے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا جناح اسپتال پہلے وفاق کے پاس تھا، آج جناح اسپتال اور این آئی سی وی ڈی میں پورے ملک سے لوگ علاج کروا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اٹھارویں ترمیم کے مرہون منت ہے ۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن کے وفاقی وزراء فارم 47 کی پیداوار ہیں اور یہ حقیقی عوامی نمائندے نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں نے صحت، تعلیم، توانائی اور دیگر شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج وفاقی حکومت کے بعض وزرا اسی ترمیم کے خلاف بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء کو پہلے اس ترمیم کے فوائد اور اس کے نتیجے میں صوبوں کی کارکردگی کو دیکھنا چاہیے۔ توانائی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ آج تھر سے ساڑھے 3 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ یہ بجلی صرف سندھ یا کسی ایک شہر کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ہے اور نیشنل گرڈ میں شامل ہو رہی ہے۔ سندھ کے وسائل سے پیدا ہونے والی یہ توانائی پورے ملک کو فائدہ پہنچا رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح صحت، تعلیم اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں سندھ نے اٹھارہویں ترمیم کے بعد نمایاں پیش رفت کی ہے۔ سکھر جیسے شہروں میں یونیورسٹیز اور جدید طبی سہولیات قائم ہوئی ہیں۔
سینئر وزیر نے گزشتہ چند دنوں میں وفاقی وزراء کے صوبوں اور اٹھارہویں ترمیم سے متعلق بیانات کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے مصطفیٰ کمال، احسن اقبال، خواجہ آصف سمیت دیگر وفاقی وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اٹھارہویں ترمیم یا صوبوں کے اختیارات پر کوئی اعتراض ہے تو پارلیمنٹ میں آکر بات کریں ۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں ہمارے نمائندے موجود ہیں، جو آپ کی ہر بات کا آئینی، قانونی اور اعداد و شمار کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ میڈیا کے سامنے یا عوامی اجتماعات میں بیٹھ کر بیانات دے سکتے ہیں، لیکن اگر واقعی دلیل اور مؤقف ہے تو اسمبلی میں آکر بات کریں ۔
انہوں نے وفاقی وزراء سے کہا کہ پہلے عوام کے درمیان جائیں، عوام سے ووٹ لے کر منتخب ہو کر آئیں، پھر قوم کے فیصلوں پر بات کریں۔ خیراتی یا مصنوعی مینڈیٹ پر بیٹھے ہوئے لوگ قوم کے فیصلے نہیں کر سکتے ۔
ایوان کی کارروائی کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے توجہ دلائی کہ ساڑھے 4 ماہ سے کچھ پاکستانی شہری صومالی قزاقوں کے قبضے میں ہیں۔ وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ انہیں فوری رہا کرایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آج اس معاملے پراحتجاج کرنے والوں کو پولیس نے اٹھالیا ہے۔
اجلاس کے دوران اسپیکر اویس قادر شاہ نے سندھ میں بجلی کے بحران اور لوڈ شیڈنگ پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے اس معاملے پر بات کی جائے اور خط لکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صرف سندھ کے خلاف بات کرتی ہے ۔ اسپیکر نے ہدایت دی کہ متعلقہ کمیٹی کے اجلاس میں پاور کمپنیوں کے سربراہوں کو طلب کیا جائے۔
بعد میں اجلاس منگل کی دوپہر تک ملتوی کر دیا گیا۔