ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، اس دوران مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر حملہ کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی اور آگ بھی لگا دی۔
علاوہ ازیں شہر کے بعض مقامات پر بھی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ شہر کے اہم علاقوں نمائش چورنگی، عباس ٹاؤن اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور سڑکوں پر نعرے بازی کی۔ مظاہرین بعد ازاں امریکی قونصل خانے کی جانب بڑھ گئے جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش جاری ہے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔
پولیس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے امریکی قونصل خانے پر پتھراؤ کیا گیا جس پر پولیس اور رینجرز نے کارروائی کرتے ہوئے آنسو گیس شیل کا استمال کیا اور مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان بھی امریکی قونصل خانے پہنچ گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق امریکن قونصل خانے کے قریب پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں چند افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے 6 کی حالت تشویشناک ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق احتجاج کے باعث سلطان آباد سے مائی کولاچی کی طرف جانے والی سڑک بند کردی گئی ہے جبکہ اطراف میں ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے۔