مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کی حلف برداری کا معاملہ، اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے اجلاس ملتوی کردیا۔ کے پی اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد شروع ہوا تھا۔ ایک خاتون رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ تلاوت کے دوران کوئی کورم کی نشاندہی نہیں کرسکتا۔
پی ٹی آئی کے صرف چار ارکان کے پی اسمبلی میں موجود تھے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ کی مخصوص نشستوں کے لیے اتوار کو طلب کیا گیا اجلاس تاخیر کا شکار رہا، جب کہ کورم پورا نہ ہونے کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا.
جس کے نتیجے میں مخصوص نشستوں پر حلف برداری کا عمل بھی مؤخر ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق، اپوزیشن اراکین اسمبلی میں پہنچتے رہے، تاہم حکومتی بینچوں سے صرف ایک رکن، عبدالسلام، نے شرکت کی۔
اجلاس شروع ہونے کے کچھ دیر بعد کورم کی نشاندہی پر اسے ملتوی کر دیا گیا۔
اس صورتحال پر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کورم کی نشاندہی کی گئی تو اپوزیشن کے پاس متبادل راستے موجود ہیں۔
انہوں نے کہا، "حلف برداری ہو کر رہے گی، اگر نہ ہوئی تو یہ پی ٹی آئی ہے، کچھ بھی ممکن ہے۔"
ڈاکٹر عباد اللہ کے مطابق سینیٹ الیکشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فارمولا طے پا چکا ہے، اور اگر حلف برداری نہ ہوئی تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا تھا۔
ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق ارکان اسمبلی کو اسمبلی ہال نہ جانے کی ہدایت دی گئی تھی، اور پارلیمانی پارٹی اجلاس میں آئندہ کے فیصلے کیے گئے۔
صوبائی وزیر سجاد بارکوال نے کہا کہ حلف برداری اسپیکر کی ذمہ داری ہے، حکومتی اراکین کو اجلاس کا نوٹس ملا تھا اور وہ اجلاس میں شریک ہونے کو تیار تھے۔
ان کے مطابق، پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد لائحہ عمل طے کیا گیا۔