دفتر خارجہ کی مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ بچی کے مبینہ ریپ کے واقعے کی شدید مذمت

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل فائل فوٹو دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل

دفتر خارجہ نے بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں 8 مئی کو ہونے والے 3 سالہ بچی کے مبینہ ریپ کے واقعے کی مذمت کی ہے، جس کے بعد وادی میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ 'باندی پورہ کے علاقے میں 3 سالہ کشمیری بچی کے ریپ کا واقعہ ہولناک ہے، بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'مظاہرین پر پیلٹ گن کی فائرنگ کے تازہ واقعات سے متعلق رپورٹس بھارتی ظلم کی عکاسی کررہے ہیں'۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بچی کے ساتھ بدھ کے روز ضلع باندی پورہ کے علاقے سنبل میں افطار سے قبل مبینہ طور پر ریپ کیا گیا، جس کے بعد وادی میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔

متاثرہ بچی کے اہل خانہ کی جانب سے درج کروائی گئی شکایت کے مطابق ملزم نے بچی کو ٹافی دی تھی اور اغوا کرنے کے بعد بچی کا ریپ کیا، 'ہمیں بچی قریبی علاقے سے ملی جس کے بعد ہم نے پولیس کو اطلاع دی'۔

واقعے کے حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ ،متاثرہ بچی کو سری نگر کے ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ملزم، جو علاقے کا رہائشی ہے، کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) باندی پورہ راہول ملک کا کہنا تھا کہ 'واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جسے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے'۔

باندی پورہ کے ڈپٹی کمشنر شاہ زیب مرزا کا کہنا تھا کہ 'بچی کے ریپ کی تحقیقات کی جارہی ہیں، ہم یقین دہانی کرواتے ہیں کہ واقعے میں ملوث ملزم کو انصاف کے کٹھہرے میں لایا جائے گا، ہم عوام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ پُر امن رہیں اور کسی قسم کی افواہوں کو خاطر میں نہ لائیں'۔ 

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store