ہندوکش ہمالیائی خطے کے 63 ہزار 700 گلیشیئرز میں سے صرف 38 کی فیلڈ مانیٹرنگ، سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

  • اپ ڈیٹ:
ہندوکش ہمالیائی خطے (HKH) میں موجود تقریباً 63 ہزار 700 گلیشیئرز میں سے صرف 38 گلیشیئرز کی فیلڈ لیول پر مانیٹرنگ ہو سکی ہے فائل فوٹو ہندوکش ہمالیائی خطے (HKH) میں موجود تقریباً 63 ہزار 700 گلیشیئرز میں سے صرف 38 گلیشیئرز کی فیلڈ لیول پر مانیٹرنگ ہو سکی ہے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ہندوکش ہمالیائی خطے (HKH) میں موجود تقریباً 63 ہزار 700 گلیشیئرز میں سے صرف 38 گلیشیئرز کی فیلڈ لیول پر مانیٹرنگ ہو سکی ہے۔

سینیٹر شیری رحمان کی زیرصدارت اجلاس میں گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، ارلی وارننگ سسٹمز، موسمیاتی ڈیٹا اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

گلوبل چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر (GCISC) کی ڈاکٹر قرۃ العین نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہندوکش ہمالیائی خطے میں تقریباً 63 ہزار گلیشیئرز موجود ہیں، جبکہ گلگت بلتستان میں 13 ہزار 32 گلیشیئرز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریموٹ سینسنگ ڈیٹا کے مطابق 1920 سے 2020 کے دوران ہندوکش ہمالیائی خطے میں گلیشیئرز کے رقبے میں تقریباً 12 فیصد کمی ہوئی۔

ڈاکٹر قرۃ العین کے مطابق ہزاروں گلیشیئرز کی فزیکل مانیٹرنگ ایک مہنگا اور مشکل عمل ہے، تاہم سیٹلائٹ اور ریموٹ سینسنگ ڈیٹا کے ساتھ زمینی مشاہدات کو مربوط کرنا ضروری ہے تاکہ گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں اور موسمیاتی خطرات کا زیادہ درست اندازہ لگایا جا سکے۔

اجلاس میں گلگت بلتستان کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام اور ارلی وارننگ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔

ڈی جی ڈیزاسٹر مینجمنٹ گلگت بلتستان عطا الرحمن کاکڑ نے بتایا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان میٹرو لوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) کے تازہ ترین ہائی رسک ہیزرڈ ڈیٹا اور اپ ڈیٹس تک براہ راست رسائی حاصل نہیں۔

ان کے مطابق کسی ممکنہ موسمیاتی یا قدرتی آفت کی صورت میں ارلی وارننگ سسٹم کی معلومات پہلے پی ایم ڈی تک پہنچتی ہیں، جہاں ڈیٹا پراسیس ہونے کے بعد گلگت بلتستان کو فراہم کیا جاتا ہے، جس سے بروقت معلومات کے حصول میں تاخیر کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

عطا الرحمن کاکڑ نے پی ایم ڈی، این ڈی ایم اے، سپارکو اور دیگر متعلقہ اداروں کو ایک مرکزی ڈیش بورڈ کے ذریعے منسلک کرنے کی تجویز دی، تاکہ موسمیاتی اور ڈیزاسٹر سے متعلق معلومات تمام متعلقہ اداروں کو بیک وقت دستیاب ہو سکیں۔

انہوں نے گلگت بلتستان میں نصب ارلی وارننگ سسٹمز اور دیگر آلات کی تنصیب کے بعد مینٹیننس، دوبارہ انتظامی تحویل اور مستقل فنڈنگ کے لیے واضح نظام بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی متعلقہ اداروں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ اور رابطے کے لیے مرکزی نظام پر کام کر رہی ہے، جس کے ذریعے معلومات تمام متعلقہ اداروں کو بیک وقت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں گلیشیئرز، موسمیاتی ڈیٹا، سیٹلائٹ معلومات، ارلی وارننگ سسٹمز اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ گلیشیئر سے متعلق ہنگامی صورتحال میں متاثرہ آبادی تک بروقت وارننگ پہنچائی جا سکے۔

سینیٹر شیری رحمان نے گلیشیئرز کی باقاعدہ مانیٹرنگ، قابل اعتماد موسمیاتی ڈیٹا کے حصول اور ارلی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

install suchtv android app on google app store