ڈینیئل پرل قتل کیس: سندھ حکومت کی حکم امتناع کی استدعا مسترد

 ڈینیئل پرل قتل کیس فائل فوٹو ڈینیئل پرل قتل کیس

سپریم کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں سندھ حکومت کی حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی۔

سپریم کورٹ میں ڈینیئل پرل قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت وکیل سندھ حکومت نے کہا کہ ملزمان کو ایم پی او کے تحت حراست میں رکھا ہوا ہے، ایم پی او قانون کی مدت دو جولائی کو مکمل ہوجائے گی جس کے بعد ملزمان کو حراست میں نہیں رکھا جا سکے گا۔

جسٹس یحییٰ خان آ فریدی نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی بریت کے بعد ان کو کیسے دہشتگرد کہہ سکتے ہیں؟ ملزمان کو ایک عدالت نے بری کیا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ایک ملزم بھارت اور دوسرا افغانستان میں دہشتگرد تنظیم کے ساتھ کام کرتا رہا، ملزمان آذاد ہوئے تو سنگین اثرات ہوں سکتے ہیں۔

جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ بریت کے حکم کو ٹھوس وجہ کے بغیر کیسے معطل کیا جا سکتا ہے، فیصلے میں کوئی سقم ہو تب ہی معطل ہو سکتا ہے، حکومت چاہے تو ایم پی او میں توسیع کر سکتی ہے،عدالت نے سندھ حکومت کی حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی اور کیس کی سماعت ستمبر تک ملتوی کردی۔

سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع کی استدعا کی تھی، ہائی کورٹ نے مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کر دیا تھا، ہائی کورٹ نے مقدمہ میں نامزد تمام شریک ملزمان کو بری کر دیا تھا۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store