پاکستان کو بھارت کی جانب سے دہلی میں 20 سے 22 نومبر تک شیڈول شنگھائی تعاون تنظیم (ای سی او) کے اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ذمہ دار ملک کی حیثیت سے علاقائی اور عالمی فورمز پر مثبت روابط اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، پڑوس میں امن پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران صحافیوں کو اس بارے مزید بتایا کہ پاکستانی قیادت شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ ادارہ جاتی مشاورت اور طے شدہ ضابطہ کار کی تکمیل کے بعد کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ذمہ دار ملک کی حیثیت سے علاقائی اور عالمی فورمز پر مثبت روابط اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، پڑوس میں امن پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے سعودی عرب کے شہروں پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 26 اکتوبر کو سعودی عرب کے علاقوں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کی تھی، جن میں مقدس مقامات کے قریبی علاقے بھی شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ان حملوں کو سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی اور اسلام کے مقدس ترین مقامات کے تقدس اور شہریوں کی سلامتی کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔
سجاد حیدر نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور بیرونی جارحیت یا خطرات کے خلاف حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے اپنے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 28 اکتوبر کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے پہلے سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے وزارت خارجہ میں ملاقات کی۔
ترجمان کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم نے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کیا اور خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ 23 اکتوبر کو پاکستان سمیت آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطین اور یمن سمیت اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
ان کے مطابق وزرائے خارجہ نے 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
انہوں نے فوری طور پر تشدد کے خاتمے، غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔
سجاد حیدر نے بتایا کہ وزرائے خارجہ نے یمن میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کی اور یمنی حکومت اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا گیا جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سمیت جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ 23 اکتوبر کو آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات میں امریکا، اسرائیل کے ایران اور فلسطین کے ساتھ جاری تنازعات، سعودی عرب اور یمن پر حوثیوں کے حملوں اور آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ اسود میں بحری سلامتی سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سجاد حیدر کے مطابق وزرائے خارجہ نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل کے عزم کا اعادہ کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے 24 اکتوبر کو اردن کے ایک چرچ میں نماز جنازہ کے جلوس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی بھی شدید مذمت کی تھی۔
پاکستان نے اردن کی حکومت اور عوام، بالخصوص جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اردن کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کی دوطرفہ سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے سرکاری دورہ پاکستان کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ان سے ملاقات کی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک مخلص ثالث کی حیثیت سے ممکنہ تمام سہولت کاری فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 47 سال سے ایک دوسرے سے بات نہ کرنے والے 2 ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا، دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر کامیاب دستخط پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ثبوت ہیں۔
سجاد حیدر کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، پاکستان نے دیگر ممالک کو بھی ایک پلیٹ فارم پر لا کر امن و استحکام پر بات چیت کا موقع فراہم کیا، علاقائی امن صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور اس سے باہر کے ممالک کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کے لیے سہولت کاری اور سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھے گا، امن کا قیام جنگ کے بجائے سیاسی مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ بالاآخر خطے میں امن و استحکام قائم ہوگا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق بیان پر تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا، مذاکرات اور ثالثی کے عمل میں وقت لگ سکتا ہے تاہم مسائل کا حل سفارت کاری سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں، پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔