وطن عزیز کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں آج یوم دفاع و شہداء ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔
دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں31 توپوں جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔
ملک بھر کی مساجد میں فجر کی نماز کے بعد 6 ستمبر کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں گئیں۔
6 ستمبر پاکستانی قوم کے لیے بہادری، اتحاد، عزم اور وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کے عزم کی علامت ہے۔ 6 ستمبر 1965ء کی جنگ قومی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جب پاک افواج نے پوری قوم کی حمایت سے دشمن کے عزائم ناکام بناتے ہوئے جرات و شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی۔
یومِ دفاع و شہداء ارضِ پاک کی سرحدوں کے بے باک محافظوں، غازیوں اور شہداء کی لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرنے کا دن ہے۔
قوم اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ وطن کی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف اٹھنے والی ہر ناپاک نظر اور سازش کے سامنے پوری قوم متحد ہو کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوگی۔
قوم کا کہنا ہے کہ شہداء کے بے مثال ایثار اور غازیوں کے جرات مندانہ عزم کی بدولت پاکستان کا چمن امن و سلامتی کا گہوارہ ہے، جبکہ سرحدوں پر مامور جوانوں کی وطن سے محبت اور عوام کی مخلصانہ کوششوں سے سبز ہلالی پرچم عالمی افق پر سربلند ہے۔
1965ء کی جنگ کا پس منظر
1965ء کی جنگ کے پس منظر میں بنیادی مسئلہ مقبوضہ کشمیر کا تنازع تھا۔ تقسیم ہند کے بعد کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔ رَن آف کچھ میں پاکستان سے جھڑپ کے بعد بھارت نے مبینہ طور پر اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کیا۔
6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے رات کی تاریکی میں میجر جنرل نرنجن پرشاد کی قیادت میں 25ویں ڈویژن، ٹینکوں اور توپ خانے کی مدد سے لاہور پر تین اطراف سے حملہ کیا۔ بھارتی قیادت کا خیال تھا کہ وہ لاہور پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔
دشمن کی پیش قدمی روکنے کے لیے ستلج رینجرز کے جوانوں نے قربانیاں دیں اور بی آر بی نہر کا پل تباہ کرکے بھارتی فوج کی لاہور کی جانب پیش قدمی مشکل بنا دی۔ اسی محاذ پر میجر عزیز بھٹی شہید، نشانِ حیدر نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عظیم قربانی پیش کی۔
چونڈہ: ٹینکوں کا بڑا معرکہ
1965ء کی جنگ میں سیالکوٹ کا چونڈہ محاذ بھی تاریخ ساز ثابت ہوا۔ بھارت نے لاہور محاذ سے پاکستانی افواج کی توجہ ہٹانے کے لیے تقریباً 600 ٹینکوں اور ایک لاکھ فوج کے ساتھ چارواہ، باجرہ گڑھی اور نکھنال کے علاقوں میں حملہ کیا۔
پاکستانی فوج نے شدید مزاحمت کرتے ہوئے بھارتی پیش قدمی روک دی۔ چونڈہ کا محاذ دشمن کے سیکڑوں ٹینکوں کی تباہی کے باعث جنگ کی نمایاں لڑائیوں میں شمار ہوا۔
اس محاذ پر پاکستانی فوج کی قیادت جنرل ٹکا خان نے کی جن کی قیادت میں پاک فوج نے سیالکوٹ کا دفاع کیا اور بھارتی فوج کی جی ٹی روڈ کو کاٹنے کی کوشش بھی ناکام بنا دی۔
اس معرکے کو دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی بڑی جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
پاک فضائیہ کی بھرپور کارروائیاں
6 ستمبر کو پاک فضائیہ نے بھارتی فضائی اڈوں پٹھان کوٹ، آدم پور اور ہلواڑہ کو بھی نشانہ بنایا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پٹھان کوٹ میں پاک فضائیہ کی کارروائی کے دوران بھارت کے 10 طیارے تباہ اور متعدد کو نقصان پہنچا۔
17 روزہ جنگ سے متعلق فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے مجموعی طور پر 35 بھارتی طیارے فضا میں اور 43 زمین پر تباہ کیے جبکہ 32 بھارتی طیارے طیارہ شکن توپوں کا نشانہ بنے یوں بھارتی طیاروں کے مجموعی نقصانات کی تعداد 110 بتائی جاتی ہے۔ History
1965ء کی جنگ میں جنگی سازوسامان کی محدود تعداد کے باوجود پاکستانی افواج اور قوم نے جوش، ولولے، اتحاد اور جذبۂ شہادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ وطن کی مقدس سرزمین کے دفاع کے لیے پوری قوم ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
آج یوم دفاع و شہداء کے موقع پر قوم اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کر رہی ہے کہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری، سالمیت اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔