بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف دیا اور عالمی مہنگائی کی لہر سے بچایا، وزیرِ اعظم

بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف دیا اور عالمی مہنگائی کی لہر سے بچایا، وزیرِ اعظم فائل فوٹو بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف دیا اور عالمی مہنگائی کی لہر سے بچایا، وزیرِ اعظم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ مہینوں میں عوام کو عالمی مہنگائی کی لہر سے جس قدر ممکن ہو سکا بچانے کی بھرپور کوشش کی اور بجٹ میں بھی ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ایران جنگ بندی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے خطے میں کشیدگی کے بادل چھٹے اور امن کے قیام کی کوششیں بر آئیں۔

اس بات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے خواتین ارکان پارلیمنٹ کا خیر مقدم کیا اور بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ میں ملک میں خواتین کو خودمختار بنانے اور انکی قومی دھارے میں شمولیت میں اضافے کیلئے اقدامات شامل ہیں۔ پاکستانی خواتین کو ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے با اختیار بنانا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

ایران جنگ بندی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے خطے میں کشیدگی کے بادل چھٹے اور امن کے قیام کی کوششیں بر آئیں۔ انہوں نے دوست ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے امن کے قیام کی کوششوں میں بھرپور ساتھ دیا۔

معاہدے میں پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ کشیدگی کے آغاز سے ہی حکومت پاکستان بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور حکومت پاکستان کی پوری ٹیم امن کے قیام کی کوششوں میں خلوص نیت کے ساتھ سرگرم عمل رہی۔

ایران جنگ اور پھر امن معاہدے کے اثرات پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ مہینوں میں عوام کو عالمی مہنگائی کی لہر سے جس قدر ممکن ہو سکا بچانے کی بھرپور کوشش کی۔ اللہ کے فضل و کرم سے خطے کے دیگر ممالک کی طرح نہ تو ملک میں کوئی بحران آیا اور نہ ہی ایندھن کیلئے لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ حالات میں ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے وفاق اور صوبوں نے مکمل تعاون کیا جس پر صوبائی حکومتوں کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔ اس تمام صورتحال کے دوران ملکی معیشت کے استحکام میں عوامی تعاون کا بہت بڑا کردار رہا، جس پر پاکستان کے عوام کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے اور عالمی امن کے دیر پا قیام سے ہی پاکستان اور دیگر ممالک کی معاشی ترقی کا خواب پورا ہوگا۔ خطے میں امن اور صورتحال معمول پر آنے کے بعد مثبت معاشی اثرات عوام کو منتقل کئے جائیں گے۔

بجٹ پر مزید بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومتی ٹیم کی بہتر منصوبہ بندی کی بدولت نہ صرف عوام کو پریشانی سے جس قد ممکن ہوا بچایا گیا بلکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعاون سے متوسط و معاشی طور پر کمزور طبقوں کیلئے تاریخی پیکیج دیا گیا۔

انہوں نے خواتین اراکین کو بتایا کہ حالیہ بحران میں سب سے پہلے قربانی کا آغاز کابینہ اور سرکاری اداروں سے کیا۔ یہ ممکن نہیں کہ اس ملک کے عوام قربانی دیں اور اشرافیہ مراعات حاصل کرتی رہے۔ حکومت نے 128 ارب روپے کی سبسڈی اور بڑے پیمانے پر کفایت شعاری مہم سے عوام کی پریشانیوں کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مشکل معاشی صورتحال میں عوام دوست بجٹ پیش کیا، جس سے صنعت کا پہیہ تیز ہوگا، اور برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ ملے گا۔ آئندہ سال کے بجٹ میں ہماری توجہ ملکی مفادات بالخصوص آبی ذخائر میں اضافہ، آئی ٹی، زراعت اور معدنیات پر مرکوز ہے تاکہ پاکستانی معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کریں۔

خواتین اراکین پارلیمنٹ کو عالمی و خطے میں امن کے قیام کی کاوشوں پر اور حکومتی معاشی ٹیم کو بجٹ میں خواتین کو با اختیار بنانے اور انہیں یکسان تعلیم و ترقی کے مواقع فراہم کرنے کیلئے اقدامات شامل کرنے پربھرپور خراج تحسین پیش کیا۔

ملاقات کے دوران اراکین پارلیمنٹ نے وزیراعظم کو متعلقہ حلقوں میں عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے جاری منصوبوں اور بجٹ کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔

شرکاء نے ملک بھر میں تعلیم، صحت، نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع، صنعت و پیداوار، مواصلات، غذائی تحفظ اور دیگر شعبوں میں اقدامات کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔

ملاقات میں ارکان پارلیمنٹ سیدہ نوشین افتخار، بیگم تہمینہ دولتانہ، شائستہ خان، طاہرہ اورنگزیب، شائستہ پرویز، منیبہ اقبال، نزہت صادق، مسرت آصف خواجہ، رومینہ خورشید عالم، زیب جعفر، کرن عمران ڈار، زہرہ ودود فاطمی، آسیہ ناز تنولی، صبا صادق، فرح ناز اکبر، شہناز سلیم ملک، زینب محمود بلوچ، کرن حیدر، اختر بی بی، غزالہ انجم، مس شاہین، ثمر ہارون بلور، سعیدہ جمشید، تمکین اختر نیازی، سائرہ تاررڑ، ہما اختر چغتائی، ماہ جبین خان عباسی، گلناز شہزادی، شمائلہ رانا، شازیہ فرید، سیدہ آمنہ بتول، رابعہ نسیم فاروقی، ارم حامد حمید اور مس نیلم شریک تھیں.

اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، وزیرِ برائے امور عامہ یونٹ رانا مبشر اقبال، وزراء مملکت شزرا منصب علی خان کھرل، وجیہہ قمر اور معاون خصوصی طلحہ برکی بھی شریک تھے۔

install suchtv android app on google app store