دنیا بھر میں لاکھوں افراد اپنے دن کا آغاز کافی کے بغیر ادھورا سمجھتے ہیں، مگر ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ آیا کافی ان کے خون میں شکر کی سطح کے لیے مفید ہے یا مضر؟
ماہرینِ صحت کے مطابق کافی کا بلڈ شوگر پر اثر کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جن میں یہ شامل ہیں کہ کافی کس وقت پی جاتی ہے، اس میں کون سے اجزاء شامل ہیں اور پینے والا فرد کیفین کے اثرات کے حوالے سے کتنا حساس ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق سادہ بلیک کافی عموماً خون میں شکر کی سطح میں نمایاں اضافہ نہیں کرتی۔
امریکی ڈائیبیٹیز ایسوسی ایشن کے مطابق بغیر چینی کے کافی معتدل مقدار میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے قابلِ قبول ہو سکتی ہے، تاہم انفرادی ردعمل مختلف ہو سکتا ہے۔
انسانی جسم میں شکر کی سطح دن بھر قدرتی طور پر اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے، خاص طور پر کھانے کے بعد، جب کاربوہائیڈریٹس گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں۔
ایسے میں کافی کا اثر دیگر غذائی عوامل کے ساتھ مل کر ظاہر ہوتا ہے۔
کن صورتوں میں کافی نقصان دہ ہو سکتی ہے؟
ماہرین کے مطابق اگر کافی میں چینی، میٹھے سیرپ یا زیادہ کیلوریز والے کریمر شامل کیے جائیں تو یہ بلڈ شوگر میں عارضی اضافہ کر سکتے ہیں۔
اسی طرح کیفین بعض افراد میں اسٹریس ہارمونز، خصوصاً کورٹیسول، کو متحرک کر سکتی ہے۔
طبی اداروں کی جانب سے جاری عمومی رہنما اصولوں کے مطابق زیادہ کیفین کا استعمال بعض افراد میں میٹابولک ردعمل کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں جگر سے اضافی گلوکوز خارج ہو سکتا ہے۔
یہ اثر خاص طور پر خالی پیٹ کافی پینے کی صورت میں زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔
کیفین کے حساس افراد میں یہ اثرات نسبتاً زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہو سکتے ہیں۔
بلڈ شوگر پر منفی اثرات کم کرنے کے طریقے
کافی کو کھانے کے ساتھ پینا بہتر ہے، خاص طور پر اگر خوراک میں پروٹین یا صحت مند چکنائی شامل ہو۔
• چینی اور میٹھے سیرپ کے استعمال سے گریز کیا جائے یا شوگر فری متبادل اختیار کیا جائے۔
• خالی پیٹ زیادہ کیفین والی کافی پینے سے پرہیز کیا جائے۔
• بلڈ شوگر کی باقاعدہ نگرانی کی جائے تاکہ انفرادی ردعمل کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔