پولیو کے خلاف جنگ میں کامیابی؛ 2026 کے پہلے دو ماہ میں وائرس کی شرح میں نمایاں کمی

پاکستان کے پولیو خاتمے کے پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق 2026 کے پہلے دو ماہ کے دوران جمع کیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں سے زیادہ تر میں پولیو وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی۔

ذرائع کے مطابق فروری میں ملک بھر سے جمع کیے گئے 126 ماحولیاتی نمونوں میں سے 111 منفی پائے گئے۔

گزشتہ سال کے پہلے دو ماہ کے مقابلے میں مثبت ماحولیاتی نمونوں میں تین گنا سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔ 2025 کے پہلے دو ماہ میں 144 مثبت نمونے رپورٹ ہوئے تھے جب کہ 2026 میں یہ تعداد 39 رہی۔

گذشتہ سال پہلے دو ماہ میں 6 بچے پولیو سے معذور ہوئے تھے جب کہ رواں سال صرف ایک بچہ متاثر ہوا ہے جب کہ صوبائی سطح پر بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

بلوچستان میں 2025 میں 38 کے مقابلے میں 11 مثبت نمونے رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 27 کے مقابلے میں صرف ایک، خیبرپختونخوا میں 26 کے مقابلے میں 6 اور سندھ میں 50 کے مقابلے میں 27 مثبت نمونے سامنے آئے۔

ذرائع کے مطابق پولیو پروگرام کے سربراہ انوار الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان کو آخر کار مثبت خبریں مل رہی ہیں کہ ملک بھر میں ماحول میں موجود وائرس میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ شمالی وزیرستان کے علاوہ وزیرستان کے بیشتر علاقوں کو پولیو منفی قرار دے دیا گیا ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی وائرس کے دوبارہ پھیلنے کا سبب بن سکتی ہے۔ جنوبی خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی خدشات کے باعث تقریباً 120,000 بچے ویکسینیشن سے محروم ہورہے ہیں جو وائرس کے پھیلاؤ کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ سے پولیو کی منتقلی کا موسم شروع ہوسکتا ہے اس لیے پروگرام کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ نکاسی آب کے نظام کی کمی کے باعث بعض علاقوں سے ماحولیاتی نمونے جمع کرنا ممکن نہیں جہاں سے وائرس دوبارہ پھیل سکتا ہے۔

install suchtv android app on google app store