سحری کے بعد شدید پیاس کیوں لگتی ہے؟ ماہرین نے اہم وجوہات اور حل بتا دیے

سحری کے بعد شدید پیاس فائل فوٹو سحری کے بعد شدید پیاس

رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کے دوران سحری کا درست انتخاب نہ کیا جائے تو دن بھر شدید پیاس، تھکن اور ڈی ہائیڈریشن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق سحری میں پانی اور متوازن خوراک کا استعمال توانائی برقرار رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

نوئیڈا کے مانس اسپتال کی ماہر غذائیت کامنی سنہا کے مطابق سحری میں 2 سے 3 گلاس پانی آہستہ آہستہ پینا بہتر ہے تاکہ جسم میں پانی کی کمی پوری ہو سکے۔ ایک دم زیادہ پانی پینے کے بجائے چھوٹے گھونٹ لینا زیادہ مفید ہے۔

کن غلطیوں سے پیاس بڑھتی ہے؟

سحری میں زیادہ میٹھے مشروبات کا استعمال

چائے اور کافی جیسے کیفین والے مشروبات پینا

نمکین، مصالحہ دار اور تلی ہوئی اشیا کھانا

پانی کم پینا یا ایک ساتھ زیادہ مقدار میں پینا

کیا کھائیں تاکہ پیاس کم لگے؟

ماہرین کے مطابق ناریل پانی بہترین انتخاب ہے کیونکہ اس میں قدرتی الیکٹرولائٹس ہوتے ہیں جو جسم میں پانی کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ دودھ یا کم چکنائی والے دہی سے بنی اسموتھی بھی مفید ہے، خاص طور پر اگر اس میں کیلا، کھجور یا بھیگے ہوئے چیا سیڈز شامل کیے جائیں۔ چیا سیڈز پانی جذب کر کے جیل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس سے جسم میں نمی زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔

لیموں پانی، سادہ لسی اور ہلکا نمک ملا مشروب بھی الیکٹرولائٹ بیلنس کے لیے مفید ہیں۔ اس کے علاوہ اوٹس، دلیہ، مکمل اناج، انڈے، سبزیاں اور پانی والے پھل جیسے تربوز، کھیرا اور سنترا سحری میں شامل کرنا چاہیے۔

پروٹین اور فائبر سے بھرپور غذا توانائی کو آہستہ آہستہ جاری کرتی ہے جس سے دن بھر کمزوری اور پیاس کم محسوس ہوتی ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر کسی کو بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دیگر طبی مسائل ہوں تو روزہ رکھنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا ڈائٹیشن سے مشورہ ضرور کریں۔

 

 

install suchtv android app on google app store