ادویات کا استعمال انسان کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟ جانئے

ادویات فائل فوٹو ادویات

کسی بھی دوا کا استعمال صرف اس کی ضرورت تک ہی کرنا چاہیے بصورت دیگر زیادہ ادویات لینے کی وجہ سے اس کے مضر اثرات (سائیڈ افیکٹس) جسم پر لازمی پڑتے ہیں۔مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ایلوپیتھک ادویات اس صدی کی بہت بڑی دریافت ہیں۔

اگرچہ یہ ادویات جلدی اثر کر کے صحت بخشتی ہیں لیکن بیماری کو ختم کرتے کرتے کچھ ایسے اثرات بھی چھوڑ سکتی ہیں جن کا بیماری کے علاج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام گڈ مارننگ پاکستان میں ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے ادویات کے استعمال اور اس حوالے سے کی جانے والی احتیاط کے بارے میں ناظرین کو آگاہ کیا۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تقریباً تمام ایلوپیتھک ادویات کھانے سے مختلف قسم کے مضر اثرات (سائیڈ افیکٹس) ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

یہ بیماریوں کے علاج کے دوران ظاہر ہونے والے ناپسندیدہ اثرات ہیں، جو دوا کے غلط استعمال، زیادہ مقدار، یا دیگر عوامل سے پیدا ہوسکتے ہیں۔

ادویات کے مضر اثرات کے سبب کچھ ہلکی علامات جیسے پیٹ میں گڑبڑ سے لے کر شدید پیچیدگیاں یا تکلیف میں اضافہ شامل ہیں لہٰذا ان سے محفوظ رہنے کے لیے ڈاکٹر یا فارماسسٹ کی ہدایت پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔

ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اگر سو افراد مل کر کھانا کھا رہے ہیں اگر ان میں سے 5 فیصد لوگوں کی طبیعت بگڑ جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھانے میں خرابی تھی بلکہ ان افراد کے نظام ہاضمہ یا کوئی اور وجہ تھی جس کے سبب ایسا معاملہ ہوا، بالکل اسی طرح ادویات کا معاملہ بھی ہے بعض دوائیں ہر کسی کو راس نہیں آتیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ زیادہ دوائیں لینے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مضر اثرات دماغ کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے ڈیمینشیا یعنی بھولنے کی بیماری بڑھ سکتی ہے اور اس میں بعض اوقات کمی بھی ہوجاتی ہے۔

install suchtv android app on google app store