منکی پاکس کیسز کا خدشہ؛ محکمہ صحت نے ہائی الرٹ رہنے کی ایڈوائزری جاری کر دی

منکی پاکس فائل فوٹو منکی پاکس

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے وفاقی اور صوبائی محکمہ صحت کے حکام کو منکی پاکس کیسز کے خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ رہنے کی ایڈوائزری جاری کردی۔

وفاقی وزارت کی جانب سے دنیا کے مخلتف ممالک میں منکی پاکس کے کیسز سامنے آنے کے بعد تمام اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر ملک میں داخلی راستوں کی نگرانی کرنے والے سینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کو چوکس و چوکنا رہنے کا کہا گیاہے۔

قومی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر کے فوری نفاذ کے لیے اس کا بروقت پتا لگانا اور اس کی تشخیص کرنا ضروری ہے اور اس سلسلے میں تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وائرس کے علاج کے لیے آئسولیشن اور علاج کے لیے تیاری کو یقینی بنائیں۔

 

محکمہ صحت کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق برطانیہ، اسپین اور کینیڈا سمیت مختلف ان ممالک میں جن میں عام طور پر اس وائرس کے کیس نہیں پائے جاتے وہاں منکی پاکس کے کیسز میں اضافے کی اطلاع ہے جب کہ اب تک کل 92 کیسز کی تصدیق ہوچکی اور 28 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے تمام ممالک کو نگرانی اور اس پر نظر رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے جب کہ قومی ادارہ صحت کا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور اس سلسلے میں تمام صورتحال سے تمام اسٹیک ہولڈرز کو باخبر کرتا رہے گا۔

جاری الرٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بیماری، وائرس سے متاثرہ جانوروں، انسانوں یا وائرس سے آلودہ چیز کو چھونے کے ذریعے لگ سکتی ہے، مزید یہ وائرس کھلی ہوئی جلد، سانس کی نالی، آنکھوں، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ جسمانی رطوبتوں، زخموں یا اس سے آلودہ لباس کو ساتھ براہ راست یا بالواسطہ چھونے سے یہ وائرس کسی انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے۔

الرٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ منکی پاکس کم پائی جانے والی وائرل زونوٹک بیماری ہے جو منکی پاکس وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے، اگرچہ منکی پاکس کی جبلی پناہ گاہ کا پتہ نہیں لیکن افریقی چوہا اور بندر جیسے غیر انسانی جاندار اس وائرس کی پناہ گاہ ہوسکتے ہیں جو لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اس وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں مریض میں بخار کے ظاہر ہونے کے بعد ایک سے تین دن کے اندر اس کے جسم پر خارش ہو جاتی ہے، یہ خارش اکثر چہرے سے شروع ہوتی ہے اور پھر جسم کے دیگر حصوں پر پھیل جاتی ہے جب کہ اس کی دیگر علامات میں سر درد، پٹھوں میں درد، تھکن اور سوجن شامل ہیں۔

اس وائرس کی جسم میں موجودگی کی مدت عام طور پر 7 سے 14 روز ہوتی ہے لیکن یہ 5 سے 21 روز تک جسم میں رہ سکتا ہے جبکہ متاثر ہونے کی صورت میں بیماری عام طور پر دو سے چار ہفتوں تک رہتی ہے۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store