پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ بشریٰ انصاری نے دبئی کا گولڈن ویزا لینے سے انکار کرنے کی وجہ بتا دی۔ بشریٰ انصاری نے حالی ہی میں ایک ویب شو میں بطور مہمان شرکت کی جہاں اُنہوں نے دبئی کے گولڈن ویزے کی پیشکش کے بارے میں بات کی۔
اُنہوں نے بتایا کہ امارات کے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ملک سے اتنا تیل نکلا، ان کے پاس اتنا پیسہ ہے، لیکن اُنہوں نے اپنی قوم کی تعلیم و تربیت کے لیے ملک میں کوئی ہارورڈ طرز کی یونیورسٹی نہیں بنائی کہ ان کے لوگ بھی ڈاکٹرز، انجینئرز، تھنکرز اور سائنسدان بن کر نکلتے۔
اداکارہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو امارات کے لوگ دنیا کو ذہنی طور پر ٹکر دینے کے قابل ہوتے لیکن وہاں تو سب کو بس برانڈڈ چیزوں کا بخار ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ میں جب بھی دبئی جاتی ہوں، مجھے عجیب سی الجھن ہونے لگتی ہے، وہاں ہر چیز برانڈڈ نظر آتی ہے، سڑکیں برانڈڈ، لوگوں نے کروڑوں کے پرفیوم لگائے ہوتے ہیں، خواتین کے پاس ایک سے ایک برانڈڈ پرس نظر آ رہے ہوتے ہیں، سب برانڈڈ پھر رہے ہوتے ہیں، پلاسٹک لائف ہے۔
بشریٰ انصاری نے مزید بتایا کہ کچھ مشہور شخصیات کو گولڈن ویزا بھی دیا جاتا ہے، بڑی مہربانی ان لوگوں کی جو گولڈن ویزا دیتے ہیں، گولڈن ویزا دینے کے کچھ تھوڑے سے پیسے لیتے ہیں۔
مجھے بھی گولڈن ویزے کی پیشکش کی گئی تھی، مگر مجھے ایک تو دبئی جانے کا شوق بھی نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ میرا دبئی میں کوئی رشتے دار بھی موجود نہیں ہے، اس لیے میں نے انکار کر دیا۔
اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک ٹریول ایجنٹ نے مجھے بالکل مفت گولڈن ویزا فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی، لیکن پھر بھی میرا دل نہیں مانا۔