شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن، نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

  • اپ ڈیٹ:
  • زمرہ کالم / بلاگ
شہید لیفٹیننٹ اظہر عباس فائل فوٹو شہید لیفٹیننٹ اظہر عباس

لیفٹیننٹ اظہر عباس شہید اپنی یونٹ کے دوسرے آفیسر تھے جو VOLUNTEER ہو کر سیاچن کے مقام یوسف پوسٹ  پر گئے جو کہ سطح سمندر سے 22000 فیٹ کی بلندی پر ہے۔

وطن کے قرض کو بیٹے چُکاتے ہیں

وطن جب جیت جاتا ہے تو۔۔۔

مائیں ہار جاتیں ہیں 

لیفٹیننٹ اظہر عباس شہید جنہوں نے گزشتہ سال2019 میں سیاچن کے مقام یوسف پوسٹ جو سطح سمندر سے 2200فٹ کی بلندی پر واقع ہے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران مادرِ وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کی۔ شہید کو بچپن سے ہی وردی سے ایک خاص نسبت تھی چونکہ والد صاحب ایک فرض شناس اور نڈر پولیس آفیسر تھے، اِس وجہ سے گزرتے وقت کے ساتھ اُن کے دل میں بھی وطن سے مُحبت اور اس کی حفاظت کا جذبہ پروان چڑھا۔

شہید نے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز آرمی پبلک اسکول اسکردو سے کیا۔ والد صاحب کی پوسٹنگ کی بِنا وہ گلگت منتقل ہوگئے اور وہی سے آرمی پبلک اسکول اور آغا خان ہائیرسیکنڈری اسکول سے F.SC تک کی تعلیم مکمل کی اور ISSB کیلئے اپلائی کیا اور 135 لونگ کورس کیلئے سلیکٹ ہوئے۔

2017ء کو PMA سے پاس آؤٹ ہوئے۔ اس دوران مختلف کورسز میں عمدہ کارکردگی دیکھائی۔ جس میں Boxing کے ونر اور اپنے کورس کے Five Breaker رہے. پاسنگ آٰوٹ کے بعد بحیثیت سیکنڈ لیفٹیننٹ 45 FD ARTY میں شامل ہوئے۔ اس دوران شہید کی یونٹ لاہور میں فرائض انجام دے رہی تھی.

جہاں ایک ماہ اپنا فرض ادا کرنے کے بعد کورس کیلےنوشہرہ چلے گئیں۔وہاں انہون نے School of Artilleryمیں پانچ ماہ کا کورس مکمل کیا اور دوبارہ سے اپنی یونٹ جوائن کی۔ یونٹ میں ڈیڑھ سال گزارنے کے بعد پھر سے The School Of Infantry And Tactics  کےلئے کوئٹہ چلے گئے۔ گرم موسم اور روزے کی حالت میں شہید نے پانچ ماہ کا کورس مکمل کر لیا۔

کوئٹہ کورس کے دوراں انہیں معلوم ہوا کہ ان کی یونٹ فاتحِ قیصر ہند (FATAH-E-QAISER HIND 45 FLD Artillery) کی پوسٹنگ سیاچن کے سخت ترین مقام محاز میں ہوئی ہے۔ شام کے وقت گھر کال کی اور انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ میری یونٹ سیاچن جا رہی ہے۔

دوران ٹریننگ شہید کے ایک سینئر آفیسر نے انہیں کال میں بتا دیا کہ وہ یوسف پوسٹ جو کہ 22000 فیٹ کی بلندی پر ہے وہاں جا رہے ہیں۔ یہ خبر سنتے ہی اصغر نے اپنے یونٹ آفیسر سے اپنی دلی خواہش کا اظہار کیا،کہ جب میں ٹریننگ مکمل کر کے واپس آؤنگا تو اگلا آفیسر رضاکارانہ طور پر میں جاؤنگا۔ آپ کمانڈنگ آفیسر کو میری اس خواہش کے بارے میں بتا دیں۔

جب اظہر کے کمانڈنگ آفیسر کو ان کی خواہش کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ اظھر نے جب سے یونٹ جوائن کی ہے تب سے وہ مختلف کورسز میں ہے تو میں اسے کیسے بھیج سکتا ہوں۔کورس کے بعد جب اظہر نے یونٹ جوائن کی جو گوماہ ہیڈ کوارٹر میں اپنے فرائض سر انجام دے رہی تھی۔ کچھ ہی دنوں میں کمانڈنگ آفیسر کو اس بات کا علم ہوا کہ اظہر تو فزیکلی فٹ اور ایک نڈر آفیسر ہے جو سیاچن کے بلند تریں محاذ میں اپنا فرض بخوبی سر انجام دے سکتا ہے۔

اظہر اپنی یونٹ کے دوسرے آفیسر تھے جو VOLUNTEER ہو کر 22000 فیٹ کی بلندی پر گئے۔ اس سے پہلے یوسف پوسٹ میں جانے والے وہی آفیسر تھے، جس سے اظہر نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ اظہر کے کمانڈنگ آفیسر انہیں حاجی پوسٹ پر بھیجنا چاہتے تھے جو 1800 فیٹ کی بلندی پر ہے، مگر اظہر کی خواہش تھی کہ وہ یوسف پوسٹ پر فرائض انجام دیں۔ شہید اپنی پارٹی کو لے کر 27 اکتوبر 2018 کو پوسٹ کی جانب روانہ ہوئے۔ بذبانی کمانڈنگ آفیسر، گھر والوں کو پتا چلا کہ 22000 فیٹ کی بلندی تک پہنچنے کے لیے اظہر نے صرف 14 دن لگائے اور اپنے جوانوں کا سامان بھی خود اٹھایا۔
وہ مذکورہ پوسٹ میں خوش تھے اور اپنے ساتھیوں سے کہتے کہ اگر مجھے 6 ماہ اور یہاں فرائض انجام دینے پڑے تو میں بخوشی ملک کی حفاظت کروں، مگر اللہ پاک کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 14 فروری 2019 کو انکی طبیعت تھوڑی خراب ہوئی جو بعد میں سنبھل گئی۔ شہید کے جوان نے جب گوماہ ہیڈ کوارٹر انکی طبیعت کی بارے میں آگاہ کرنا چاہا تو انہوں نے منع کر دیا، کہا میں ٹھیک ہوں، اپنے جوانوں کے ساتھ آیا ہوں اورانکے ساتھ ہی واپس جاؤں گا۔

19 فروری 2019 کو انکی طبیعت بہت خراب ہوئی اور انکے سر میں بھی درد شروع ہو گیا، انکو بتائے بغیر انکی یونٹ کے جوانوں نے گوماہ ہیڈ کوارٹر میں آگاہ کر دیا۔ جب کمانڈنگ آفیسر کو انکی طبیعت کے بارے میں آگاہ کیا گیا تو انہوں نے فوری پوسٹ پر ہیلی کاپٹر بھیجنے اور انکو واپس لانے کا حکم دیا، مگر موسم کی خرابی کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آرمی کی انتھک کوشش کے باوجود 21 فروری 2019 بروز جمعرات مغرب کے وقت اظہر نے جامِ شہادت نوش کیا اور اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ 22 فروری کو 22000 فیٹ کی بلندی سے انکے جسدِ خاکی کو لایا گیا۔

23 فروری کو انکا جسدِ خاکی کو گھر لایا گیا اور جب انکی ماں سے ملاقات کروائی گئی تو انہوں نے کہا کہ:

میرے بیٹے اپنی ماں سے ایک بات تو کر لو تو اس دوران اظہر کی آنکھوں سے آنسو گرے اور وہ آنسو انکی ماں نے اپنے ہاتھوں سے صاف کیے اور اپنا ہاتھ اپنے چہرے پر ملا اور یہ آنسو انہیں لحد میں اتارنے تک جاری رہے

اب شہید اپنے باپ کے پہلو میں سپرد خاک ہے۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store