٭ضلع استور مسائل کی آماجگاہ٭

  • اپ ڈیٹ:
  • زمرہ کالم / بلاگ

ضلع استور کا شمار گلگت بلتستان کے پسماندہ اضلاع میں ہوتا ہے۔ ضلع استور 2004سے پہلے ضلع دیامر کی تحصیل تھی۔ 2004میں پرویز مشرف نے ضلع استور کے عوامی مسائل، آبادی اور جغرافیہ کو،مدنظر رکھ کر ضلع بنایا۔

استور کے ضلع بننے سے قبل لوگوں کا خیا ل تھا کہ استور کے مسائل کا حل تبھی ممکن ہے جب اس قدرت کے حسین خطے کوضلع بنا یا جائے استور کا ضلع بنانے کا فیصلہ نہایت ہی قابل قدر اور قابل تحسین تھا کیونکہ استور اور دیامر کے درمیان کئی گھنٹوں کی مسافت ہے اور قراقرم کے بلند وبالا پہاڈ وں کے ایک طرف ضلع دیامر اور دوسری طرف ضلع استور واقع ہے۔ استور کے ضلع بننے کے بعد عوامی مسائل میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی مگر عوامی توقعات کے مطابق کچھ نہ ملا۔ استور کو ایک ضلع کا نام تو دیا گیا مگر وہاں کی عوام کے اصل مسائل کا تدارک تاحال نہیں کیا جاسکا۔ ضلع استور روز اول سے ہی مسائل سے دوچار ضلع رہا ہے جہاں نہ ہی تعلیم کی کوئی مناسب اور معیاری سہولت موجود ہے اور نہ ہی علاج کی باقی انفراسٹریکچرکا تو خدا ہی حافظ ہے ضلع استور گلگت بلتستان کا ایک اہم سیاحتی ضلع ہے جہاں کرہ ارض کا دوسرا بلند ترین خطہ دیوسائی واقع ہے جوکہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے ضلع استور میں موجود ہے تو ساتھ ہی دنیا کا خطرناک ترین پہاڑاور دنیا کا پانچواں بلند ترین پہاڑ، جس سے انگریز اور مہم جو قاتل پہاڑ کے نام سے جانتے ہیں بھی ضلع استور میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ راما ،چیلم، تریشنگ و روپل سمیت دوسرے کئی سیاحتی مقامات بھی پائے جاتے ہیں۔ ضلع استور نہ صرف سیاحتی لحاظ سے اہم ہے بلکہ دفاعی اور تجارتی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ضلع استور کی سرحدیں بھارت سے جاملتی ہیں اور کارگل1999کی جنگ بھی اسی ضلع میں انڈیا کیخلاف لڑی گئی کارگل کا کچھ حصہ بلتستان ریجن میں شمار کیا جاتا ہے۔ تجارتی لحاظ سے استور قدم ریاستوں کا مرکز رہا ہے قیام گلگت بلتستان اور ڈوگروں کی آمد سے پہلے ریاست گلگت ،غذر، نگر، سکردو اور دوسری ریاستوں کیلئے ریاست استور تجارت کا مرکز ہوا کرتا تھا کیونکہ اس زمانے میں سڑک اور گاڑی کا کوئی تصور نہیں تھا اس خطے میں اس لئے گھوڑوں پر تجارت ہوا کرتی تھی۔ دوسری تمام ریاستوں کیلئے استور تجارت کا مرکز اس لئے تھا کیونکہ اس کی سرحدیں شمال میں کشمیر کے شہر مظفر آباد اور کیل سے ملتی ہیں،استور سے مظفر آباد کا راستہ نہایت کم اور آسان ہے اس لئے گلگت بلتستان کے مقامی تاجر استور کے راستے سے ہوتے ہوئے مظفر آباد اور کیل مقامی سامان لے کر جاتے تھے اور وہاں سے سامان کے بدلے اپنی ضروریات کے مطابق سامان گھوڑوں میں لاد کر لاتے تھے دوسروں لفظوں میں ہم کہ سکتے ہیں ریاست استور کے راستے اس زمانے کی جو تجارت ہوا کرتی تھی وہ بارٹر سسٹم کے تحت ہوتی تھی یعنی چیز وں کے بدلے چیزوں کا تبادلہ کیا جاتا تھا کیونکہ اس وقت یہ کاغذی نوٹوں کا تصور تو تھا ہی نہیں البتہ سونا اور چاندی کے سکے تھے مگر وہ قلیل مقدار میں لوگوں کے پاس ہوتے تھے اس لئے تجارت بارٹر سسٹم کے تحت کیا جاتا تھا آج بھی ضلع استور سے لوگ پیدل مظفر آباد اور کیل آتے جاتے ہیں۔ استور سے مظفر آباد کا یہ راستہ بہت آسان اور محفوظ راستہ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں سے شونٹر ٹنل کو پاس کیا جائے تا کہ پنڈی سے گلگت بلتستان کا 16سے 24گھنٹے کا سفر 6سے 8گھنٹے میں طے ہوگا ۔ شونٹر روڈ پر کسی اوردن بات چیت کرتے ہیں۔ یہا ں استور کی اہمیت تجارتی،دفاعی اور سیاحتی لحاظ سے بتا نے کا مقصد یہ تھا کہ اس قدر اہمیت کے علاقے کو ان تمام وسائل کے باوجود نظر انداز کیا گیا جو کہ حکومت گلگت بلتستان کی عوام دوستی اور مسائل سے آشنائی کا منہ بولتا ثبوت ہے تو ساتھ ہی ضلع استور کے نمائندوں کی ناکامی اورعوام کی شعوری بلند سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ ضلع استور جو کہ چھوٹے بڑے تقریبا 100گاوں پر مشتمل ہے جس کی آبادی 2012کی مردم شمار کے مطابق ایک لاکھ 10ہزار کے لگ بھگ تھی جو کہ اب بڑھ چکی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے اس ضلع میں صرف ایک اسپتال سنیٹر استور میں موجود ہے جو کہ اپنی کہانی اپنی زبانی سنانے کے بھی قابل نہیں۔جہاں نہ کوئی علاج کی مناسب سہولت دستیا ب ہے اور نہ ہی ڈاکٹرز دستیاب ہیں، گورنمنٹ کے کاغذا ت میں ڈاکٹرز تو ہونگے مگر وہ اس پسماندہ علاقے میں رہنا پسند نہیں کرتے اور خاص کر موسم خزاں میں وہ یہاں سے رفو چکر ہوجاتے ہیں اور گرمیوں میں بھی کم ہی نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ معمولی چیک اپ کیلئے بھی مریضوں کو گلگت کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز کے گاوں میں تو شائد ہی کوئی ڈسپنسری دستیاب ہو ،کہیں تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ سردرد کی گولی کیلئے بھی 200سے 300روپے خرچ کرکے استور کا رخ کرنا پڑتا ہے یہی سہولیات کی عدم دستیابی کا نتیجہ ہے کہ افریقہ کے بعد گلگت بلتستان دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں زچگی کے دوران خواتین کی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے اور ہارٹ اٹیک سے اموات کی شرح بھی بلند ہے۔ ضلع استور میں نہ صرف صحت کی سہولیات قابل رحم ہیں بلکہ تعلیم اور تعلیمی اداروں کا بھی فقدان پایا جاتا ہے۔ پورے ضلع استور میں صرف ایک ہی بوائز کالج ہے گرلز ہائیر سیکنڈری اسکو ل کو بھی بنے ہوئے ایک دو سال ہوگئے تعلیمی ترقی کی انتہا کا نتیجہ آپ نکال چکے ہونگے ماشااللہ سے کالج کا معیار بہت بلند ہے جو ایک زمانے میں جب ہم اس کالج کے طالب علم ہوا کرتے تھے تو 9بجے کھلتا تھا اور 11بجے بند ہوجاتا تھا مقامی سمیت دیگراضلاع کے پروفیسرز تنخواہ اس کالج سے لیتے تھے اور رہتے سٹی گلگت وسکردو میں تھے اس لئے کہ وہاں وہ ٹیوشن سینٹرز پڑھاتے تھے اس سے یہ ہوتا تھا کہ گورنمنٹ کے تنخواہ کیساتھ باہر سے بھی مہینے میں کم از کم 70سے80ہزار کمالیتے تھے اوراستور کالج میں ان کی جگہ کوئی تازہ بی ایس یا ماسٹر ز کیا ہوا بے روزگار نوجوان بڑی دلجمعی کے ساتھ طلباءکے مستقبل کیساتھ کھیل رہا تھا خیر یہی صورتحال اسکولز کی بھی ہے۔ ڈگری کالج کا ٹینڈر اور کام 2014میں ہوا تھا مگر تاحال مکمل نہیں ہے روڈ کی صورتحال تو ایسی ہے کہ جس نے رب کریم کو مکمل فراموش کر چکا ہواس کو بھی خدا یاد آتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ خدایا محفوظ رکھ اس بلا سے۔ تھلچی پول سے استور تک روڈ کی صورتحال ایسی ہے کہ تندرست آدمی بھی اس سفر کے بعد کسی نے کسی بیماری کا شکار ہوہی جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاح اس علاقے میں بہت کم آتے ہیں سردیوں میں تو استور سے تمام مضافاتی علاقوں کا رابطہ منقطع ہوجاتا ہے ،اس کی وجہ ناقص روڈ اور صوبائی  و ضلعی انتظامیہ کی نااہلی ہے۔ کئی دفعہ راقم خود اس تجربے کو سہہ چکا ہے کہ خون جمادینے والی سردی میں10گھنٹے مریضوں کو کندھوں پر اٹھا کر استور تک پہنچایا ہے۔ مجھے کالم لکھتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ ضلع استور میں کوئی بھی چیز قابل تعریف نہیں ہاں مگر یہ بات ضرور ہے کہ تعلیمی میدان میں اور انفرادی ترقی میں استور کی عوام گلگت بلتستان کے پہلے نمبر پر ہے مگر اس انفرادی ترقی اور تعلیم پر لعنت جو اجتماعی مسائل اور حقوق سے عاری ہو۔ بجلی کا تو حال یہ ہے استور کے کئی گاوں آج بھی اس نعمت سے محروم ہیں۔ استور کے نمائندے جو اسمبلی اور میڈیا میں کہتے ہوئے تھکتے نہیں کہ ہم نے ترقی کا جال بچھا یا ہے۔ میں اس بات کا معترف ہوں کہ موجودہ اسمبلی ممبران نے ترقی کا جال بچھایا ہے ناجائز طریقے سے میرٹ کا قتل عام کرکے اپنے رشتہ داروں کو نوازنے کاجال بچھا یا ہے۔ مسائل کی بہتات ہے جو کہ سب ناقابل تحریر ہیں بس اتنا کہوں گا کہ ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوام نہ چاہیں مجھے ابھی تک کہیں نہیں لگا کہ استور کی عوام خود کو بدلنا چاہتی ہے یہی وجہ ہے کہ استور مسائلستان بنا ہوا ہے۔ بس خدا سے دعا کرسکتا ہوں کہ خدا اس استور کی قوم کو توفیق دے کہ اپنے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے اٹھ کھڑے ہوں اور قابل اور دیانتداررہنماوں کو چننے کی بھی توفیق عنایت کرے موجود ہ اور آج سے پہلے کی طرح اگر ہم آئندہ بھی پارٹی،پیسہ اور مذہب کا رنگ دیکھ کر ووٹ دیتے رہے تو آنے والی نسلیں لعنت کے سوا کچھ ہمارے نام کرکیاسکتی ہیں۔ ذراسوچیے۔

 

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store