برصغیر کی مذہبی اور فکری تاریخ میں حضرت لعل سخی شہباز قلندر رحمتہ اللہ علیہ کا نام محض ایک صوفی بزرگ کے طور پر نہیں بلکہ ایک مربوط دینی و فکری روایت کے نمائندہ کے طور پر سامنے آتا ہے۔
آج کے دور میں، جب مذہب کو اکثر شدت، تصادم اور انتہا پسندی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، حضرت شہباز قلندرؒ کی تعلیمات ہمیں اسلام کے اس اصل چہرے کی یاد دلاتی ہیں جو محبت، اعتدال اور انسان دوستی پر مبنی ہے۔ راقم اپنے قارئین کے لیے یہاں مشہور تاریخی منقولہ" اندھیر نگری چوپٹ راج" کی اصل حقیقت مختصر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہے، واقع کچھ یوں ہےکہ جب حضرت لعل سخی شہباز قلندر نے سیوستان موجودہ سہون شریف میں تبلیغ اسلام کے لیے مستقل سکونت اختیار کی تو اس وقت وہاں ایک ہندو راجہ جیر جی چوپٹ رام کی حکومت تھی "اندھیر نگری چوپٹ راج" کا منقولہ اسی سے منسوب ہے، جو ایک عیاش راجہ تھا ظلم و ستم لاقانونیت کا دور دورہ تھا جب آپکی شہرت راجہ چوپٹ رام تک پہنچی تو اس نے مسلمان قلندر کو اپنی سلطنت کے لیے خطرہ محسوس کیا اور ہر طریقہ سے کوشیش کی کے آپ راجہ چوپٹ رام کی سلطنت سے چلے جائیں جب کوئی تدبیر کام نہ آئی تو راجہ کے جادوگروں نے کہاکہ اگر مسلمان درویش کے شکم میں حرام ڈال دیا جائے تو ہمارا جادو کچھ دیر میں اس پر اثر کر جائے گا جس پر راجہ نے حرام جانوروں کے گوشت سے پکوان تیار کروا کر آپ کی خدمت میں بطور دعوت بھیجوائے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ میں پانی کا پیالہ پکڑا ہوا تھا جیسے ہی راجہ کے سپاہی آپ کے پاس پکوان لیکر پہنچے تو آپ جلال میں آ گئے اور آپ کا چہر مبارک سرخ ہو گیا آپ نے بارعب آواز میں فرمایا ہم نے بہت کوشیش کی کہ یہ راجہ سچے دل سے اسلام قبول کر لے مگر افسوس کہ اللہ تعالیٰ نے اس راجہ کو ہدایت سے محروم کر دیا یہ کہتے ہوئے حضرت لعل شہباز قلندر نے اسی جلالی کیفیت میں پانی کا پیالہ پلٹ دیا ادھر قلندر کے ہاتھ نے پلٹا کھایا ادھر راجہ چوپٹ رام کا محل زمیں بوس ہو گیا یہ آپکی کرامت تھی ہر طرف سکوت کا عالم طاری ہو گیا راجہ جیر جی چوپٹ رام کی سلطنت ختم ہو چکی تھی ظلم وستم کے سیاہ بادل چھٹ گئے تھے۔
حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا اصل نام سید عثمان بن سید ابراہیم مروندی تھا۔ آپ کی ولادت 573ھ (1177ء) کے قریب مروند، افغانستان میں ہوئی۔ آپ ایک ایسے علمی اور روحانی گھرانے میں پیدا ہوئے جہاں قرآن، حدیث اور فقہ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ تاریخی مصادر کے مطابق آپ نے کم عمری میں قرآن حفظ کیا اور فقہ، تفسیر، حدیث اور فلسفے میں مہارت حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا تصوف کسی جذباتی کیفیت کا نتیجہ نہیں بلکہ مضبوط علمی بنیادوں پر قائم تھا۔
حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے شریعت اور تصوف کو الگ الگ راستے نہیں سمجھا۔ ان کے نزدیک شریعت کے بغیر تصوف بے روح ہے، اور تصوف کے بغیر شریعت محض ظاہر۔ یہی توازن ان کی تعلیمات کو دیگر صوفیانہ رجحانات سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ نہ صرف صاحبِ حال تھے بلکہ صاحبِ علم بھی تھے۔ آپ کا تعلق سلسلۂ قلندریہ سے تھا، جسے عموماً غلط طور پر لاابالی یا شریعت سے آزاد طرزِ فکر سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قلندرانہ فکر کا اصل مقصد دنیا کی محبت سے آزادی اور نفس کی غلامی سے نجات ہے، نہ کہ دینی حدود سے انحراف۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ نے اس سلسلے کو باطنی ضبط، اخلاقی استقامت اور شریعت کی پابندی کے ساتھ جوڑا۔ علم و معرفت کی جستجو نے حضرت لعل شہباز قلندرؒ کو مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بغداد اور ملتان جیسے مراکز تک پہنچایا۔ ان اسفار نے ان کی فکر کو وسعت دی اور انہیں مختلف تہذیبی و مذہبی ماحول سے روشناس کرایا۔ یہی ہمہ گیری بعد ازاں ان کی دعوت کا امتیاز بنی۔ سندھ، بالخصوص سیہون شریف میں آپ کی آمد محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ دعوتِ دین کے ایک منفرد اسلوب کا آغاز تھی۔ اس دور میں معاشرہ طبقاتی تقسیم، مذہبی کشیدگی اور اخلاقی زوال کا شکار تھا۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ نے دعوت کے لیے نہ مناظرے کا راستہ اختیار کیا، نہ طاقت کا، بلکہ کردار، خدمت اور اخلاق کو ذریعہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا اثر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم طبقات پر بھی پڑا۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی تعلیمات میں وحدتِ انسانیت کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ بعض حلقے اسے محض صوفیانہ نعرہ سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تصور براہِ راست قرآنِ مجید سے ماخوذ ہے، جہاں انسانوں کی اصل پہچان تقویٰ کو قرار دیا گیا ہے، نہ کہ نسل یا مذہب کو۔ آپ کی خانقاہ میں امیر و غریب، مسلمان و غیر مسلم سب برابر تھے۔
حضرت لعل شہباز قلندرؒ سے منسوب سماع اور دھمال پر بھی اکثر اعتراض کیا جاتا ہے۔ تاہم علمی تناظر میں دیکھا جائے تو سماع تصوف کی ایک تسلیم شدہ روایت ہے، جسے امام غزالیؒ اور دیگر اکابر نے شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے۔ اگر نیت خالص ہو اور حدودِ شریعت ملحوظ رکھی جائیں تو یہ ذکرِ الٰہی کی ایک صورت بن سکتا ہے۔
1274ء میں حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا وصال ہوا، مگر ان کی فکر وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوئی۔ سیہون شریف آج بھی مذہبی ہم آہنگی، روحانی سکون اور ثقافتی وحدت کی علامت ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا پیغام وقتی نہیں بلکہ آفاقی تھا۔
دینی و روحانی تعلیمات:
آج کے انسان کے لیے پیغام
حضرت لعل سخی شہباز قلندرؒ کی اصل عظمت ان کی دینی و روحانی تعلیمات میں مضمر ہے۔ آپ نے خالص توحید کا درس دیا، جہاں اللہ سے تعلق خوف پر نہیں بلکہ محبت پر قائم ہو۔ عشقِ رسول ﷺ کو آپ نے محض نعرہ نہیں بلکہ عملی اتباع کی صورت میں پیش کیا۔ تزکیۂ نفس آپ کی تعلیمات کا بنیادی ستون تھا۔ آپ کے نزدیک حسد، تکبر، ریا کاری اور حرص روحانی بیماریوں کی مانند ہیں، جن کا علاج خود احتسابی اور ذکرِ الٰہی سے ممکن ہے۔ خدمتِ خلق کو آپ نے عبادت کا درجہ دیا اور سماجی انصاف، مساوات اور رواداری پر زور دیا۔
حضرت لعل شہباز قلندرؒ نے دنیا سے بے نیازی کی تعلیم دی، مگر ذمہ داریوں سے فرار کی نہیں۔ یہی توازن آج کے انسان کے لیے سب سے بڑا سبق ہے۔ایسا سبق جو ہمیں انتہا پسندی کی بجائے اعتدال، نفرت کی بجائے محبت اور تقسیم کی بجائے وحدت کی طرف لے جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ سے عقیدت کا تقاضا صرف رسم یا روایت نہیں بلکہ ان کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ کیونکہ اصل قلندر وہ نہیں جو ظاہری وجد میں ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنے نفس پر قابو پا لے اور ہر انسان کو عزت دے.