روس یوکرین تنازعہ، کوئی تو روک لو

روس یوکرین تنازعہ فائل فوٹو روس یوکرین تنازعہ

کہا جاتا ہے جنگ کی جانب وہ طبقہ یا ملک جاتا ہے جنہوں نے جنگو ں کی تاریخ نہیں پڑھ رکھی مگر یہاں تو اس کے بر عکس ہے، کون نہیں جانتا کہ روس کی ایک تاریخ ہے جس نے ایک نہیں متعدد جنگیں لڑی ہیں اور موو فارورڈہی اسکی پالیسی رہی ہے۔

روس اور یوکرین میں جاری تنازعہ کون نہیں جانتا،معاملہ تو یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ روس نے یک طرفہ اعلان کرتے ہوئے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد رتسلیم کرتے ہوئے اپنی فوجیں بھیجنے کا اعلان کردیا ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے وزیر دفاع نے بھی اپنی افواج اور عوام کو جنگ کے لیئے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔امریکہ بھی خاموش نہیں روس پر پابندی کا پہلاقدم اٹھاتے ہوئے دو روسی بینکس پر پابندی عائد کردی ہے۔

کون جیتے گا کسے ہوگی شکست یہ موضوع ہی نہیں،موضو ع حقیقت ہے اور حقیقت جاننے کے لیئے کچھ اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں۔
روس دنیا کا گیس ایکسپورٹ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے

دنیا کو تیل بیچنے میں روس کا نمبر دوسرا ہے

یورپ کی 35فیصد گیس کی ضروریات روس پوری کرتا ہے

مثال کے طور پر اگر دنیا میں 100کلو گرام گندم پیدا ہورہی ہے تو اس میں 25فیصد روس اور یوکرائن کا حصہ ہوتا ہے

یوکرین کی تقریبا 71فیصد زمین گند م کے لیئے قابل کاشت ہے

مصر،بنگلہ دیش تیسرے درجے کے ممالک 70فیصد گندم سے متعلق ضروریات روس اور یوکرین سے پوری کرتے ہیں،ابھی یہاں تو مڈل ایسٹ ممالک کا تو ذکر ہی نہیں کیا جو روس اور یوکرین پر بہت ساری چیزوں پر انحصار کرتے ہیں۔

ایک لمحے کے لیئے سوچیئے دونوں ممالک کے مابین معاملہ براہ راست جنگ تک جاتا ہے تو نقصان کس کا ہے؟سبھی کا،یہی جواب ہے اسکا۔مگر یاد رکھیئے مغرب تو پھر بھی کسی نہ کسی طرح متحمل ہوسکتا ہے مگر تیسرے درجے کے ممالک انکا کیا بنے گا؟کہا جاتا ہے کہ دو ہاتھیوں کی لڑائی میں گھا س کا ویسے ہی ستنیاس ہوجایا کرتا ہے اور وہی نظر آرہا ہے۔تیل کی قیمتیں اوپر جا چکی ہیں توانائی کے شعبے میں بڑھی قیمتوں کے باعث سبھی سر پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں۔

ہمارے ہاں روس اور پاکستان کی تعلقات کی تو تکرار کی جارہی ہے مگر یہ بھی یاد رہے کہ یوکرین کے ساتھ ہمارا دفاعی شعبوں میں تعاون چھپا ڈھکا نہیں،عالمی منظر میں بڑھتے اس تنازعے کے موقع پر کوئی کہہ رہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کا غلط وقت پر غلط دورہ ہے تو کوئی یہ کہتا نظر آتا ہے غلط وقت پر صحیح دورہ ہے اور یقینا پاکستان اس دورے کو ملتوی کرنا ایفورڈبھی نہیں کرسکتا، البتہ کوئی ایسا بیان یا قدم بھی نہ اٹھائیں جس سے لگے ہمارا جھکاو ایک جانب ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں لکیر کھینچنی ہوگی دنیا کا تحفظ بعد میں پہلا اپنا کرنا ہوگا۔دنیا کیا کہے گی یہ سوچتے اور بولتے بولتے ہم نے اپنے ملک کے ساتھ بڑی نا انصافی کی ہے اب وقت ہے سبھی کے ساتھ تجارت کو معاشی پروگرامز کو وسیع کرنے کا اور یہ سب برابری کی سطح پر ہو تو کیا ہی بات ہو۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store