ٹرمپ کی خواہش ادھوری رہ گئی، جنوبی افریقہ کی خاتون وکیل ‘ناوی پیلے’ نے نوبل امن انعام جیت لیا

جنوبی افریقہ کی خاتون وکیل ‘ناوی پیلے’ نے نوبل امن انعام جیت لیا فائل فوٹو جنوبی افریقہ کی خاتون وکیل ‘ناوی پیلے’ نے نوبل امن انعام جیت لیا

جنوبی افریقہ کی خاتون وکیل اور جج ‘ناوا نیتھم ناوی پیلے’ کو امن کے فروغ اور بین الاقوامی قانون کے لیے خدمات کے اعتراف میں 2026 کے نوبل امن انعام سے نواز دیا گیا ہے۔

ناروے کی نوبل کمیٹی کے مطابق ناوی پیلے نے اپنے کیریئر کے آغاز میں نیلسن منڈیلا اور نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والے دیگر افراد کا دفاع کیا، جبکہ بعد میں بین الاقوامی عدالتوں میں اہم مقدمات کی سماعت میں جج کے طور پر خدمات انجام دیں۔

کمیٹی نے مزید کہا کہ پیلے نے ریاستوں اور قومی رہنماؤں کو جوابدہ ٹھہرایا اور تشدد اور تنازعات کے متاثرین کے لیے امید کا سبب بنیں۔

ناوی پیلے مقبوضہ فلسطینی علاقے پر اقوام متحدہ کے کمیشن آف انکوائری کی سربراہ تھیں جس نے گزشتہ سال اسرائیل کو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اسرائیل نے اس رپورٹ کو ‘قابل مذمت’ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔

اس ہفتے ادب، کیمیا، طبیعیات اور طب کے نوبل انعامات کے بعد امن کا انعام پانچواں بڑا اعلان ہے۔ گزشتہ برس یہ انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو دیا گیا تھا۔

نوبل امن انعام کی مالیت ایک کروڑ 20 لاکھ سویڈش کراؤن، یعنی تقریباً 12 لاکھ ڈالر ہے۔ انعام دینے کی تقریب 10 دسمبر کو ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں نوبل انعامات کے بانی سویڈش صنعت کار الفریڈ نوبل کی برسی کے موقع پر منعقد ہوگی۔

ٹرمپ کی خواہش ادھوری رہ گئی

آج کا اعلان نوبل امن انعام جیتنے کی شدید خواہش رکھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بار مایوسی کا پیغام لایا ہے۔

وہ متعدد بار خود کو اس اعزاز کا حق دار قرار چکے ہیں۔

دو روز قبل بھی ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ “دنیا کی تاریخ میں ایسا کوئی شخص نہیں جو مجھ سے زیادہ نوبل امن انعام کا مستحق ہو۔ میں نے 8 جنگیں ختم کرائیں۔”

تاہم انہوں نے فوراً ہی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “نوبل کمیٹی کی شہرت ایسی ہے کہ شاید میرے جیسے لوگوں کو یہ انعام نہ دے۔”

ان کے مطابق گزشتہ برس امن انعام حاصل کرنے والی وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریہ کورینا ماچاڈو نے بھی ان کی خدمات کو سراہا تھا۔ ماریہ نے جنوری میں اپنا انعام ٹرمپ کو بطور تمغہ پیش کیا تھا۔ وہ وینزویلا میں اپنی سیاسی جدوجہد کے لیے امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

رائٹرز کے مطابق کمبوڈیا اور اسرائیل کے علاوہ پاکستان نے بھی ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔ بعد ازاں آذربائیجان اور آرمینیا بھی اس فہرست میں شامل ہوئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے متعدد مواقع پر صدر ٹرمپ کی دنیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا تھا۔

انہوں نے آج بھی ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ اور پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار جنگ بندی کے قیام کے لیے تاریخی کردار ادا کیا۔

اپنی پوسٹ میں ٹرمپ اور نوبل انعام کمیٹی کو ٹیگ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ “ان نمایاں خدمات کے اعتراف میں پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔”

شہباز شریف کے علاوہ آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے بھی نوبل امن انعام کے اعلان سے کچھ دیر قبل ایکس پر ایک پوسٹ کی۔

انہوں نے لکھا کہ صدر ٹرمپ نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن کے قیام میں تاریخی کردار ادا کیا جس پر دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔

install suchtv android app on google app store