چین کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر انجینئرنگ کو آسان بنانے اور ڈویلپرز کا وقت بچانے کے لیے اپنا نیا اے آئی ٹول ’سپر ایجنٹ‘ متعارف کرا دیا، جو پروگرامنگ کے دوران مسائل کی خودکار نشاندہی اور ان کے حل میں مدد فراہم کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے گلوبل ٹائمز کے مطابق چین کا نیا اے آئی ایجنٹ امریکی کمپنیوں انتھروپک کے ’کلاڈ کوڈ‘ اور اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عام اے آئی چیٹ بوٹس کے برعکس سپر ایجنٹ کو خودکار اور فعال انداز میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ گروپ چیٹس میں ہونے والی گفتگو کا مشاہدہ کرکے پروگرامنگ سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرسکتا ہے اور صارف کی جانب سے مدد طلب کیے بغیر ہی ممکنہ حل تجویز کرسکتا ہے۔
ڈیپ سیک کی جانب سے جاری کردہ صارف رہنما دستاویز کے مطابق اس ٹول کا بنیادی مقصد کم سے کم انسانی ہدایات کے ساتھ زیادہ سے زیادہ معاونت فراہم کرنا ہے۔
کمپنی نے سپر ایجنٹ کو چینی میسجنگ پلیٹ فارم وی چیٹ کے ذریعے متعارف کرایا ہے، جس سے کوڈنگ کے شعبے میں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ ڈیپ سیک اپنے کم لاگت والے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے باعث پہلے ہی عالمی سطح پر توجہ حاصل کرچکی ہے، جبکہ کمپنی اے آئی کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے لیے سرمایہ کاری بھی حاصل کر رہی ہے۔