وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں متنازع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے کا قانونی طور پر قبضہ حاصل کرلیا ہے اور آئندہ چند ماہ میں اس عمارت کو فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کردیا جائے گا۔ سی ڈی اے نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر 2016 میں اس کی لیز منسوخ کر دی تھی، جس کے خلاف بی این پی گروپ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے لیز کی منسوخی کا فیصلہ برقرار رکھا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر ون کانسٹی ٹیوشن کا قبضہ ہمارے پاس آچکا ہے، اور ہماری کوشش ہو گی کہ جلد از جلد اس عمارت کو ہوٹل میں تبدیل کر دیا جائے۔
ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو تقریباً ساڑھے 13 ایکڑ رقبے پر پھیلا پروجیکٹ ہے، جس میں رہائشی اپارٹمنٹس، شاپنگ مال، دفاتر اور فائیو اسٹار گرینڈ حیات ہوٹل شامل ہیں۔ تاہم سی ڈی اے کا مؤقف ہے کہ سال 2004 میں بی این پی گروپ کو اس مقام پر صرف ہوٹل کی تعمیر کے لیے 99 سالہ لیز پر زمین دی گئی تھی۔ اس کے باوجود گروپ نے 7 برس کے دوران وہاں 2 ٹاور تعمیر کیے، جنہیں ہوٹل کے بجائے رہائشی اپارٹمنٹس اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔
سی ڈی اے نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر 2016 میں اس کی لیز منسوخ کر دی تھی، جس کے خلاف بی این پی گروپ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے لیز کی منسوخی کا فیصلہ برقرار رکھا۔
تاہم جنوری 2019 میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بی این پی گروپ کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔ اس فیصلے میں بی این پی گروپ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ سی ڈی اے کو 15 ارب روپے ادا کرے گی تاہم ادائیگی نہ ہونے پر سال 2023 میں اس منصوبے کی لیز پھر منسوخ کردی گئی۔
رواں سال مئی میں اسلام آباد پولیس نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو خالی کرانے کے لیے کارروائی بھی کی تھی، جسے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
محسن نقوی نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیراعظم نے وعدے کے مطابق ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے معاملے پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی ہیں اور جس دن ہم قبضہ لینے جا رہے تھے اس دن بتایا گیا کہ ہم سے غلطی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کے مطابق ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے متاثرین میں سے جس کی جتنی رقم بنتی ہے ہم انہیں دیں گے۔ اور ارادہ ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنی سے اس کی قیمت لگوائیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ میں نے وعدہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں جتنی تجاوزات ہیں ہم انہیں خالی کروائیں گے جبکہ بہت ساری جگہوں پر پارکنگ بھی موجود ہے۔ اور ایک پارکنگ پلازے کا تو جلد افتتاح ہوجائے گا جبکہ مزید پارکنگ پلازے بھی بنائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں گرین بیلٹ پر تھانہ ہو یا کچھ اور، اب کہیں قبضہ نہیں ہونے دیا جائے گا جبکہ اسلام آباد کی زمینوں پر بڑے بےرحمانہ انداز میں قبضہ کیا گیا جس کا آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بلڈنگ یا کوارٹر اگر وہ سرکار کی زمین ہے تو ہم نے خالی کروانی ہے اور کسی کے ساتھ کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ جہاں سفاری پارک بنایا جائے گا وہاں بہت ساری زمین واگذار جائے گی اور کہیں پر نہیں دیکھا جائے گا کہ یہ کس کی زمین ہے اور کس کا قبضہ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ میرے ساتھ صرف تین افسران ہیں جن میں ایک پی ایس او، سی ایس اور اور ڈائریکٹر ہیں، یہ وہ عہدے ہیں جو چوہدری نثار کے دور میں بھی تھے۔ 28 افسران والی بات سوشل میڈیا پر ہی ہے، بس سوال سے پہلے حقائق جان لیا کریں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی جائیں گی۔ اب ہم ان ریٹائرڈ افسران کو لائے ہیں جو اپنی فیلڈ میں مہارت رکھتے ہیں اور سیکٹر ڈویلپمنٹ میں مہارت رکھنے والے افسران ہیں تاہم ہمیں سخت افسران چاہییں۔
وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایف 6، ایف 7، ایف 8 اور ایف 10 سمیت مختلف سیکٹرز کے رہائشیوں پر زور دیا کہ جنہوں نے اپنی املاک کی حدود سے باہر لان پھیلا رکھے ہیں، وہ انہیں واپس اپنی مقررہ حدود تک محدود کریں۔
محسن نقوی نے بتایا کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے معاملات کی نگرانی کرنے والی سابقہ کمیٹی کو جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد تحلیل کر دیا گیا ہے جبکہ سی ڈی اے کا ممبر ایڈمنسٹریشن فوری طور پر اس عمارت کے انتظامی امور کی ذمہ داری سنبھال لے گا۔
ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی دوبارہ نیلامی کی سفارش
قبل ازیں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن کی دوبارہ نیلامی کی سفارش کی گئی ہے اور کابینہ نے جے آئی ٹی رپورٹ کی منظوری دے دی ہے۔
اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت طلال چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن کمیٹی کی رپورٹ آج کابینہ میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ون کانسٹی ٹیوشن کی تعمیر کے لیے ڈیویلپر کمپنی کو فائدہ دینے کے لیے قواعد میں نرمی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ ون کانسٹی ٹیوشن کی دوبارہ نیلامی کی سفارش کی گئی ہے کہ شفاف انداز میں دوبارہ نیلامی کی جائے۔ اور اس کا نام جعل سازی سے حاصل کیا گیا اس لیے نام کی تبدیلی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ ون کانسٹی ٹیوشن میں فراڈ پر وزیراعظم نے کمیٹی قائم کی تھی۔
احسن اقبال نے کہا کہ ون کانسٹی ٹیوشن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے اور جن لوگوں کی جمع پونجی ہتھیائی گئی، ان کی رقم واپسی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ جبکہ ون کانسٹی ٹیوشن میں جن لوگوں نے سرمایہ کاری کی انہیں رقم واپس کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ عبدالحفیظ شیخ کی کمپنی کو بلیک لسٹ قرار دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات احسن اقبال نے کہا کہ جے آئی ٹی نے بہت اچھا کام کیا ہے اور نیب کو تحقیقات کی سفارش بھی کی ہے، جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ واضح ثبوت ہے کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ ایک ہی شہر میں امیر اور غریب کا فرق نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کھل کر جرائم بتائے گئے ہیں اور جے آئی ٹی کے کام کو سراہا گیا ہے۔ اب نیب بھی میرٹ پر تحقیقات کرے گا۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ 20 سال تک یہ منصوبہ چلتا رہا اور اس دوران دو مرتبہ کارروائی مسلم لیگ ن کے دور میں ہی ہوئی ہے۔ اور مسلم لیگ ن کے دور میں ہی اس منصوبے کی شفاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلیٹ غیر قانونی طریقے سے فروخت کیے گئے۔ اور سہولت کاری کی وجہ سے لوگوں کو لوٹا گیا۔ تاہم اب نیب کو ذمہ داروں کے خلاف ریفرنس لانے کے لیے 3 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔
’اس میں بانی پی ٹی آئی کا فلیٹ بھی موجود ہے‘
طلال چوہدری نے کہا کہ نیب نے فلیٹ مالکان اپنی ملکیت کو قانونی ثابت کرنے کا موقع دیا تھا تاہم 7 سے 8 لوگوں نے اپنی ملکیت ثابت نہیں کی جن میں بانی پی ٹی آئی بھی شامل ہیں۔
سوال کیا گیا کہ ماضی میں جو لوگ اس تمام معاملے میں ملوث رہے کیا ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالے جائیں گے، جس پر وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان لوگوں کے نام پہلے سے ہی ای سی ایل میں موجود ہیں خاص کر وہ جن کا اس میں اہم کردار ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ کسی کوبےدخل نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں متبادل فراہم کریں گے۔ لوٹنے والوں کا تو کوئی قصور نہیں ہے، یہ بیرون ملک سے آیا ہوا پیسے ہے اور لوگوں کے پاس کاغذات موجود ہیں۔