سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں کیخلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے 70 سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔ جس سے بھارتی پشت پناہی میں سرگرم افغان پراکسیز کو شدید دھچکا پہنچا ہے، دہشت گردی میں افغان طالبان رجیم کا ملوث ہونا امن کے لیے خطرے کا باعث ہے، اسے بھارت کی جانب سے پشت پناہی اور مکمل معاونت حاصل ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے بلوچستان کے علاقے شعبان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی گئی۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ انٹیلی جنس اطلاعات پر سکیورٹی فورسز نے 21 ستمبر کو زیارت اورگرد و نواح میں کارروائی کی، سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے متعدد ٹھکانےکلیئرکیے، شدید فائرنگ کے تبادلےکے بعد 33 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، یہ خوارج مقامی آبادی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔
اس کے علاوہ فورسز نے 25 ستمبرکو نوشکی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا اور دہشتگردوں کے ٹھکانےکو نشانہ بنایا، آپریشن میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم 11 دہشت گرد ہلاک ہوئے، مند میں بھی سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک کیے جبکہ کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران 70 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے جس سے بھارتی پشت پناہی میں سرگرم افغان پراکسیز کو شدید دھچکا پہنچا ہے، دہشت گردی میں افغان طالبان رجیم کا ملوث ہونا امن کے لیے خطرے کا باعث ہے، اسے بھارت کی جانب سے پشت پناہی اور مکمل معاونت حاصل ہے۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ عزمِ استحکام وژن کے تحت انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رہےگی، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔