ولادت خا تون جنت حضرت فاطمۃالزہراء سلام اللہ علیہا

  • اپ ڈیٹ:
  • زمرہ کالم / بلاگ
طہور بی بی فاطمہ فائل فوٹو طہور بی بی فاطمہ

شہزادیِ کونین،جگر گوشہ ء رسولؐ، سیدۃ النساءالعالمین، خا تون جنت حضرت فاطمۃالزہراء سلام اللہ علیہا نے20جمادی الثانی بروز جمعہ 5بعثت 11 ہجری کو  اس جہان رنگ و بو میں ولادت ہوئی۔

تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ آپ سلام اللہ علیہا مکہ مکرمہ میں حضرت خدیجہ کے گھر میں جو مسعی کے نزدیک زُقاق العطارین و زُقاق الحجر نامی محلہ میں واقع تھا، تولد پزیر ہوئیں۔  مفضل بن عمر نے حضرت امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ جب بی بی خدیجہ(س) کی تزویج جناب رسول خداؐ سے ہوئی تو قریش کی عورتوں نے ان سے تعلقات منقطع کر لئے  حتٰی کہ نہ انہیں سلام کرتیں اور نہ کسی دوسری عورت کو ان سے ملنے دیتیں اس صورت حال سے بی بی خدیجہ(س)  پریشان اور افسردہ رہنے لگیں ۔ جب آپؑبی بی فاطمہ(س) کے نور عصمت سے حاملہ ہوئیں تو جناب فاطمہ (س)  با اعجاز قدرت اپنی مادر گرامی سے گفتگو فرماتیں اور ان کی تنہائی دور کرتیں ۔ بی بی خدیجہ(ع) نے اس راز کو جناب رسول خدا(ص) سے پوشیدہ رکھا ایک دن اچانک جناب رسول خدا(ص) تشریف لائے اور بی بی خدیجہ(ع) کو  کسی سے باتیں کرتے ہوئے پایا تو فرمایا  ”اے خدیجہ(ع) تم کس سے باتیں کررہی تھیں” بی بی(ع) نے جواب دیا اس بچے سے جو میرے شکم میں موجود ہے یہ مجھ سے باتیں کرتا ہے اور انسیت رکھتا ہےجناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے خدیجہ(ع) مجھے جبرائیل(ع) نے خبر دی ہے کہ یہ جنین دختر ہے اور نسل طاہرہ سے ہے اور بہت با برکت ہے خدا نے میری ذریت کو اسی میں سے مقرر فرمایا ہے اور اس کی اولاد سے ائمہ(ع) آئیں گے خدا انہیں اپنی زمین میں خلیفہ مقرر فرمائے گا۔
مدت حمل پوری ہونے تک بی بی خدیجہ(ع) اسی طرح رہیں جب  وقت ولادت آگیا تو قریش اور بنو ہاشم کی عورتوں کو پیغام بھیجا گیا کہ وہ آئیں اور خدیجہ(ع) کی پذیرائی کریں مگر انہوں نے جواب دیا کہ تم نے محمدؐسے شادی کی جو یتیم اور ابوطالب(ع) کا پروردہ ہے اس لیے ہم تمہیں قبول نہیں کرتے، بی بی خدیجہ(ع) یہ جواب سن کر غمزدہ ہوگئیں ناگاہ چار بلند قامت خواتین جو کہ قریش اوربنو ہاشم کی عورتوں کی مانند معلوم ہوتی تھیں تشریف لائیں۔ انہیں دیکھ کر بی بی خدیجہ(ع) کو خوف محسوس ہوا تو ان میں سے ایک نے بی بی(ع) سے کہا اے خدیجہ غم نہ کرو اور مت ڈرو ہم تیرے پاس خدا کی طرف سے آئیں ہیں اور تیریبہنیں ہیں، میں سارہ ہوں اور یہ آسیہ بنت مزاحم ہیں جو کہ جنت میں تیری رفیقہ ہوں گی ،یہ مریم بنت عمران(ع) ہیں اور یہ موسی بن عمران(ع) کی بہن کلثوم ؑہیں ہمیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ تیری پذیرائی کریں پھر وہ عام عورتوں کی مانند آپ(ع) کے دائیں ، بائیں آگے اور پیچھے بیٹھ گئیں اور فاطمہ(س) متولد ہوگئیں اور وہ جب دنیا میں تشریف لائیں تو ان سے اس قدر نورساطع  ہؤاکہ مکہ کے در و دیوار روشن ہوگئے آپ(س)  اس دنیا میں پاک و پاکیزہ تشریف لائیں آپ(س) کے نور سے مشرق تا مغرب کوئی گھر ایسا نہ تھا جو منور نہ ہوگیا ہو پھر حجرہ مبارک میں دس حوریں داخل ہوئیں ان میںسے  ہر ایک کے ہاتھ میں بہشت کی صراحیاں اور طشت تھے وہ اپنے ساتھ کوثر سے پانی لائی تھیں انہوں نے وہ پانی کے برتن ان خاتون کے حوالے کیے جو بی بی فاطمہ(س) کے سامنے بیٹھی تھیں ان خاتون نے فاطمہ(س) کو کوثر کے پانی سے غسل دیا اور حوروں کے لائے ہوئے کپڑوں میں سے ایک کپڑے میں آپ(س) کو لپیٹ دیا اور دوسرا سر اور چہرے پر باندھ دیا ان کپڑوں سے مشک و عنبر سے زیادہ خوشبو آتی تھی  ۔ بعد ازاں حضرت فاطمہ(س) گویا ہوئیں ” اشہدُ اَن لا الٰہ الا اللہ و اِنّ ابی رسول اللہ وسید الانبیاء  و  ان بعلیٍ سید الاوصیاء  و ولدی  سادۃ الاسباط “ ۔ “ میں گواہی دیتی ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ میرے والد رسول اﷲ(ص) سید انبیاء ہیں اور میرا شوہر سید اوصیاء اور میرے فرزند فرزندانِ پیغمبر(ص) اور پھر اس کے بعد بی بی فاطمہ(س) نے ان تمام عورتوں کو ان کے ناموں سے مخاطب کر کے انہیں سلام کیا وہ تمام خواتین مسکرائیں اور خوش ہوگئیں بہشت سے آئی حوروں نے بھی بشارت دی ولادت فاطمہ(س) کے وقت آسمان پر بھی ایک ایسا نور چمکا کہ فرشتوں نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا پھر ان خواتین نے کہا اے خدیجہ(ع) اس پاک و پاکیزہ دختر کو لے لو یہ ذکیہ، میمونہ اور مبارک ہے خدا نے اسے اور اس کی نسل کو برکت دی ہے یہ سن کر خدیجہ(ع) خوش ہوگئیں اور فاطمہ(س) کو گود میں لے کر دودھ پلانا شروع کیا۔ بی بی فاطمہ(س) روزانہ تین ماہ کی نشو و نما کے برابر بڑھتی تھیں اور ایک ماہ میں آپ(س) ایک سال کے برابر نشو ونما پاجاتیں۔
القاب : آپ کے متعدد القا بات  ہیں۔ جن میں زہرا، صدیقہ، مُحَدَّثہ، بَتول، سید ۃ ا نساء العالمین، منصورہ، طاہرہ، مطہرہ، زَکیہ، مبارکہ، راضیہ، مرضیہ زیادہ مشہور ہیں۔
کنّیت :  ام ابیہا، ام الائمہ، ام الحسن، ام الحسین اور ام المحسن ہیں۔
ابتدائی حالات :آپ کی تربیت خاندانِ رسالت میں ہوئی جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا، ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا، ام الفضل رضی اللہ عنہا (حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس کی زوجہ)، ام ہانی رضی اللہ عنہا (حضرت ابوطالب کی ہمشیرہ)، اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا (زوجہ جعفرطیار رضی اللہ عنہا)، صفیہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا وغیرہ نے مختلف اوقات میں کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے انتقال کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی تربیت و پرورش کے لیے فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کا انتخاب کیا۔ جب ان کا بھی انتقال ہو گیا تو اس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا کو ان کی تربیت کی ذمہ داری دی۔حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو میرے سپرد کیا گیا۔ میں نے انہیں ادب سکھانا چاہا مگر خدا کی قسم فاطمہ تو مجھ سے زیادہ مودب تھیں اور تمام باتیں مجھ سے بہتر جانتی تھیں۔
تاریخی اسناد کے مطابق، حضرت زہرا نے حضورؐ کی دعوت اسلام کے بعد، مشرکین کی طرف سے اپنے بابا پر کئے جانے والے تشدد اور ناروا سلوک کو نزدیک سے دیکھا۔ اس کے علاوہ بچپن کے تین سال آپؑ نے شعب ابی طالب میں گزارے، جس دوران مشرکین مکہ نے بنی ہاشم اور حضورؐ کے چاہنے والوں کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا تھا۔۔ بچپن میں ہی ان کی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے اسلام کا ابتدائی زمانہ دیکھا اور وہ تمام تنگی برداشت کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتدائی زمانہ میں قریش کے ہاتھوں برداشت کی۔ ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کعبہ میں حالتِ سجدہ میں تھے جب ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے ان پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خبر ملی تو آپ نے آ کر ان کی کمر پانی سے دھوئی حالانکہ آپ اس وقت کم سن تھیں۔ اس وقت آپ روتی تھیں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کو کہتے جاتے تھے کہ اے جانِ پدر رو نہیں اللہ تیرے باپ کی مدد کرے گا۔
ان کے بچپن ہی میں ہجرتِ مدینہ کا واقعہ ہوا۔ ربیع الاول میں بعثت کی دس تاریخ کو ہجرت ہوئی۔ مدینہ پہنچ کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زید بن حارثہ اور ابو رافع کو 500 درھم اور اونٹ دے کر مکہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بلوایا چنانچہ وہ کچھ دن بعد مدینہ پہنچ گئیں۔ بعض دیگر روایات کے مطابق انہیں حضرت علی علیہ السلام بعد میں لے کر آئے۔
آپ کی شان میں احادیث مبارکہ: ایک روایت کے مطابق رسول خداوﷺ اکثر خاتونِ جنت کو سونگھ کرفرماتے تھے کہ اس سے بہشت کی خوشبو آتی ہے کیونکہ یہ اس میوۂ جنت سے پیدا ہوئی ہے جو جبرائیل نے مجھے شبِ معراج کھلایا تھا۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک فرشتہ جو اس رات سے پہل کبھی زمین پر نہ اترا تھا اس نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اہلِ جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہیں اور حسن رضی اللہ عنہ و حسین رضی اللہ عنہ جنت کے تمام جوانوں کے سردار ہیں۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا میری جان کا حصہ ہے۔ اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنے اہل و عیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوتیں اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوتیں۔
فضیلت : سورہ کوثر، آیت تطہیر، آیت مودت، آیت اطعام اور حدیث بِضعہ آپؑ کی شان اور فضیلت میں وارد ہوئی ہیں
عصمت و کردار : حجاب سیّدہ  (س) ۰ایک نابنیا شخص حضرت علیؑ سے اجازت لے کر گھر میں داخل ہؤا،جناب فاطمہ فوراً اٹھیں اور سر پہ ردا اوڑھی۔ یہ دیکھ کر رسول خدؐا سے فرمایا ”اے بیٹی یہ اندھا ہے“ جناب فاطمہ (س) نے کہا ” اگر چہ وہ مجھے نہیں دیکھ رہا لیکن میں تو اسے دیکھ رہی ہوں، افر وہ دیکھنے سے قاصر ہے لیکن ایک عورت کی بو تو سونگھ رہا ہے۔
۰آپ (س) کا کمال معرفت : خدا وندا کی بارگاہ میں حاضری کی لذت نے مجھے خدا سے ہر قسم کے سوال و خواہش سے روک دیا ہے،میرے دل میں اس کے سو کوئی اور حاجت نہیں ہے کہ مجھےخدا کے رخ زیبا کا دیدار کا نصیب ہو تا رہے۔
محَدّثَہ: آپؑ کی خصوصیات میں سے ایک  یہ بھی ہے کہ آپؑ کا پیغمبر اکرمؐ کی حیات طیبہ میں فرشتوں کے ساتھ ہمکلام ہونااور حضورؐ کی رحلت کے بعد فرشتوں کا آپؑ کو تسلیت دینا اور نسل پیغمبر اکرمؐ کا تسلسل آپ سے جاری رہنے کی خبر دینا اس بات کی واضح نشانیوں میں سے ہیں۔ آئندہ رونما ہونے والے واقعات جو فرشتہ الہٰی حضرت فاطمہؑ کیلئے بیان کرتے؛ امام علیؑ انہیں کتابی صورت میں تحریر فرماتے تھے جو بعد میں مصحف فاطمہؑ کے نام سے معروف ہوا ۔ ۔ اسی وجہ سے آپؑ کو”  محَدّثہ “ کہا گیا۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store