وفات جناب فاطمہ کلابیہ امُ البنین علیہ اسلام

  • اپ ڈیٹ:
  • زمرہ کالم / بلاگ

آپ کا نام فاطمہ اور کنیت ام البنین ( بیٹیوں کی ماں) تھی۔ آپ کے ماں باپ بنی کلاب خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جو پیغمبر اسلام (ص) کے اجداد تھے۔ آپ کے والد کا نام حزام اوروالدہ کا نام ثمامہ یا لیلی تھا۔

آپ کے والد کی کنیت ابو المحل تھی،وہ خالد بن ربیعۃ بن الوحید بن کعب بن عامر بن کلاب کے بیٹے تھے،آپ کی والدہ ثمامۃ بنت سھل بن عامر بن مالک بن جعفر بن کلاب تھیں ۔ آپ کے قبیلے کی شجاعت اور گھڑ سواری بہت مشہور تھی، علاوہ ازیں یہ قبیلہ شرافت، فصاحت و بلاغت اور سخاوت میں بھی کلیدی حیثیت کا حامل تھا ۔ آپ کا شمار عرب کی ان خاص خوارین میں ہو تا تھا جو اہلبیت کی حقیقی معرفت رکھتی تھیں اور ان کی ولایت و محبت و مودت سے سرشار تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلبیت(ع) کے نزدیک بھی آپ کا بڑا مقام و احترام تھا- آپ نے ہمیشہ اپنی اولاد پر جناب فاطمۃ ازہرا سلام اللہ علیہا کی اولاد کو ہر طور مقدم رکھا۔

آپ کے والد کا خواب: تواریخ میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ حزام بن خالد بن ربیعۃ بنی کلاب کے افراد کے ساتھ سفر میں تھے کہ ایک رات خواب میں دیکھا وہ ایک سرسبز جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں ہے، ان کے ھاتھ میں ایک زرہ ہے جس وہ الٹ پلٹ کر دیکھ رہے ہیں جس کی چمک اور بناوٹ ان کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی ،اسی دوران کیا دیکھتے ہیں کہ ایک مرد گھڑ سوار ان کی جانب آرہا ہے، اس نے آکر سلام کیا، حزام نے جوب دیا۔ اس شخص نے کہا کہ یہ زرہ کتنے میں فروخت کرو گے۔
حزام نے کہا، مجھے اس کی قیمت کا علم نہیں ہے لیکن تم بتاؤ تم کتنے میں خریدو گے؟ اس شخص نے جواب دیا، میں بھی تمہاری طرح اس کی قیمت سے ناآشنا ہوں لیکن اگر تم اسے کسی حاکم کو ہدیہ کر دو تو میں تمہارے لئے ایسی چیز کی ضمانت دے سکتا ہوں جو دینار و درھم سے کئی گنا زیادہ قیمتی ہے۔ حزام نے کہا وہ کیا ہے ؟اس نے کہا میں تمہیں مقام ومنزلت ،شرف اور ھمیشگی کی سرداری کی ضمانت دیتا ہوں،حزام نے کہا کیا تم مجھے اس کی ضمانت دیتےہوں ،اس نے کہا ، ہاں میں ضمانت دیتا ہوں یہ مضھے دے دو۔ حزام نے وہ زرہ اسکے حوالے کر دی۔ جب حزام نیند سے بیدار ہوئے تو انہوں نے یہ خواب اپنے دوستوں کو سنایا اور ان سے تعبیر طلب کی تو ان میں سے ایک نے اس سے کہا"اگر تمہارا خواب سچا ہے تو عنقریب تمہیں ایک بیٹی عطا کی جائے گی جس کے رشتہ کے لئے ایک عظیم شخصیت آئے گی اور اس کے سبب سے تمہیں ،شرف اور سرداری عطا کی جائے گی۔
حضرت علیؑ کا اظہارزوجیت : جناب فاطمۃا زہرا سلام اللہ علیہا کے اس دنیا سے جانے کے بعد حضرت علیؑ نےاپنے بھائی عقیل جو کہ ماہر انساب عرب تھے سے کہا کہ :میرے لیے ایسی خاتون تلاش کروجوشجاع و شریف انشاب سے تعلق رکھتی ہو میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہو تا کہ شجاع و گھڑ سوار بیٹا پیدا ہو،جناب عقیل نے کہا: تو ام البنین الکلابیہ سے شادی کر لو کیونکہ عرب میں اس کے آباواجداد سے زیادہ کوئی شجاع نہیں ہے۔ چنانچہ امیرالمؤمنینؑ نے جناب عقیل کے ذریعے پیغام بھجوایا اور جناب ام البینؑ اور آپ کے خاندان کی رضامندی کئے بعد آپ کو اپنی زوجیت میں لے لیا ۔ یوں حزام کے خواب کی تعبیر سامنے آ گئی۔
احترام جناب فاطمۃ سلام اللہ علیہا: فاطمہ کلابیہ نے، حضرت علی علیہ السلام سے درخواست کی کہ انھیں " فاطمہ" کے بجائے " ام البنین" خطاب کریں تاکہ" فاطمہ" (س)اور " کنیز فاطمہ" کے درمیان فرق واضح اور محفوظ رہے۔
اولاد: حضرت علی علیہ السلام کی زوجیت میں آنے کے بعد حضرت ام البنین کو چارشجاع اور بہادر بیٹوں کی ماں بننے کا شرف حاصل ہؤا ۔ جن کے نام عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان تھے اور ان ہی بیٹوں کی وجہ سے انھیں ام البنین، یعنی بیٹوں کی ماں، کہا جاتا تھا۔
مؤرخین نے لکھا ہے:" واقعہ کربلا کے بعد، بشیر نے مدینہ میں ام البنین سے ملاقات کی تاکہ ان کے بیٹوں کی شہادت کی خبر انھیں سنائیں۔ وہ امام سجاد کی طرف سے بھیجے گئے تھے، ام البنین نے بشیر کو دیکھنے کے بعد فرمایا: اے بشیر ! امام حسین ( علیہ السلام) کے بارے میں کیا خبر لائے ہو؟ بشیر نے کہا: خدا آپ کو صبر دے آپ کے عباس قتل کئے گئے۔ ام البنین نے فرمایا:" مجھے حسین ( علیہ السلام) کی خبر بتادو۔" بشیر نے ان کے باقی بیٹوں کی شہادت کی خبر کا اعلان کیا۔ لیکن ام البنین مسلسل امام حسین (ع) کے بارے میں پوچھتی رہیں اور صبر و شکیبائی سے بشیر کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا: "اے بشیر! مجھے ابی عبدا للہ الحسین کی خبر بتادو میرے بیٹے اور جو کچھ اس نیلے آسمان کے نیچے ہے، ابا عبداللہ الحسین (ع) پر قربان ہو۔" جب بشیر نے امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت کی خبر دی تو ام البنین نے ایک آہ! بھری آواز میں فرمایا: " اے بشیر! تونے میرے دل کی رگ کو پارہ پارہ کیا۔" اور اس کے بعد نالہ و زاری کی۔ آپ کے بیٹوں میں حضرت عباسؑ اپنی شجاعت، صبر، وفاداری، اطاعت اور کربلا میں لشکر حسینی کے علمدار کی حیثیت سے نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
مورخین کے مطابق آپ نے 13 جمادی الثانی، 64 ہجری میں اس دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرمائی۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store