امیرِالمؤمِنین حضرت عَلیؑ ابنِ ابیِ طالبؑ کی شہادت تاریخِ اسلام کا سب سے بڑا سانحہ

  • اپ ڈیٹ:
  • زمرہ کالم / بلاگ

امیر المومنین ،شیر خدا، نفس پیمبرؐ ، مولائے کائنات حضرت علی علیہ اسلام13رجب بروز جمعہ عام الفیل کو خانۂ کعبہ میں تشریف لائےحضرت علیٔ، حضر ت ابو طالب علیہ اسلام کے فرزند اور ہاشمی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب یوں ہے۔ ابو طالبٔ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی۔ حضرت کی والدہ گرامی ہاشمی خاندان کی وہ پہلی خاتون ہیں جنہیں یہ شرف حاصل ہے کہ ان کے والد بھی ہاشمی خاندان سے تھے۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ اسلام کی تربیت رسولؐ خدا کی آغوش میں ہوئی، حضرت علیٔ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے مجھے علم اس طرح منتقل کیا ہے جیسے پرندہ اپنی چونچ سے اپنے بچے کو غذا کھلاتا ہے ۔ جب دس برس صحبت رسولؐ میں گزر گئے تو بحکم خدا اعلان نبوّت کر دیا گیا۔ حضرت علیٔ نے دس برس کی عمر میں رسولؐ خدا کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اسلام قبول کیا ۔ رسولؐ اللہ کا ارشاد پاک ہے ’’ علیٔ پہلے مومن ہیں ‘‘ رسولؐ کریم کے حکم پر دعوت ذوالعشیرہ کا انتظام بھی آپٔ ہی نے کیا تھا۔ غرض یہ کہ اعانت و حفاظت اسلام و پیغمبرؐ اسلام میں آپؑ کی جدوجہد اور قربانیاں نیز آپؑ کے اوصاف عقل و خرد و افکار سے بالاتر ہیں ۔

القابات: آپ کا مشہور لقب کرم اللہُ وجہہُ ہے یعنی آپ کا چہرہ اللہ کا کرم ہے۔ علاوہ ازیں ابو الحسن، مرتضٰی، امیر الموئمنین،ابو السبطین،نفسِ رسولؐ،علمدار اور آپ کا سب سے پسندیدہ لقب ابو تراب ہے ۔ حضرت علی چونکہ صفاتِ الٰہیہ کا مظہر ہیں لہٰذا آپ کو اسد اللہ، عین اللہ،ید اللہ،ولی اللہ بھی پکارا جاتا ہے . رسولؐ اللہ کی حدیث مبارکہ ہے ’’ علی کو قیامت کے روز سات ناموں سے پکارا جائے گا:اے صدیق،اے رہنما،اے عابد،اے ھا دی، اے مہدی ،اےجواں مرد،اے علی ۔ رسولؐ خدا نے مقام غدیر پہ تمام مسلمانوں کے سامنے یہ اعلان کیا تھا :جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں" لیکن تاریخ شاہد ہے کہ پیغمبرؐ اکرم کے وصال کے بعد لوگوں نے یہ پیغام فراموش کردیا اور آپؑ کو نا صرف آپؑ کے حق سے محروم کردیا بلکہ آپؑ کو طرح طرح کی اذیتیں اور تکالیف پہنچانا شروع کردیں ۔

آپؑ نے ملت اسلامیہ کے اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے تمام صعوبتیں برداشت کیں اور خلافت راشدہ کی نا صرف حمایت کی بلکہ ہر موقع پر رہنمائی بھی فرماتے رہے ۔ اس ضمن میں حضرت علیؑ کا ارشاد ہے" میں نے لوگوں سے کہہ دیا ہے ہے کہ دیکھو رسولؐ خدا کی رحلت ہو چکی ہے لہٰذا خلافت کے بارے میں کوئی مجھ سے نزاع نہ کرےکیونکہ ہم ہی اس کے وارث ہیں ۔ لیکن قوم نے میرے کہنے کی پرواہ نہ کی،خدا کی قسم اگر دین میں تفرقہ پڑجانے اور عہد کفر کے پلٹ آنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ان کی ساری کارروائیاں پلٹ دیتا ۔

آنحضرتؐ کی رحلت کے بعد آپؑ نے پچیس سال گوشہ نشینی اختیار کی اور صبر واستقامت کی وہ مثال قائم کی جس کی نذیر نہیں ملتی ۔ پیغمبر اکرمؐ نے آپؑ کو لوگوں کا ہادی اور پیشوا مقرر کیا تھا لہٰذا خلوت کے اس دور میں آپؑ اسلام کی روحانی اور علمی خدمت میں مصروف رہے۔ قرآن کو ترتیب نزول کے مطابق ناسخ و منسوخ اور محکم اور متشابہ کی تشریح کے ساتھ مرتب کیا۔ مسلمانوں کے علمی طبقے میں تصنیف وتالیف کااور علمی تحقیق کاذوق پیدا کیااور خود بھی تفسیر اور کلام اور فقہ واحکام کے بارے میں ایک مفید علمی ذخیرہ فراہم کیا۔ بہت سے ایسے شاگرد تیار کیے جو مسلمانوں کی آئندہ علمی زندگی کے لیے معمار کا کام انجام دے سکیں، عربی زبان کی حفاظت کے لیے علم نحوکی داغ بیل ڈالی اور فن صرف اور معانیِ بیان کے اصول کو بھی بیان کیا اس طرح یہ سبق دیا کہ اگر ہوائے زمانہ مخالف بھی ہو اور اقتدار نہ بھی تسلیم کیا جائے تو انسان کو گوشہ نشینی اور کسمپرسی میں بھی اپنے فرائض کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ذاتی اعزاز اور منصب کی خاطر مفاد ملّی کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو انسان اپنی ملّت، قوم اور مذہب کی خدمت ہر حال میں کرتا رہے۔

آپؑ کی تصانیف: آپؑ کی لاتعداد تصانیف ہیں جنکا احاطہ ممکن نہیں البتہ جو اب تک آشکار ہوئی ہیں ان میں ۔ کتاب جامعہ، کتاب الجفر،صحیفۂ الفرائض،کتاب فی زکوٰۃ النعم،کتاب فی ابواب الفقہ اور کتاب علیؑ شامل ہے جس میں اصول کافی کتاب الحجۃ کےمطابق دنیا کے ہونے والے تمام واقعات و حلات درج ہیں ۔ مذکورہ تصانیف کے علاوہ آپؑ کے اقوال و ارشادات کے خزائن بھی ہیں جنہیں مستند و معروف علماء نے جمع کرکے کتابی شکل میں شائع کیا ہے ان میں غررالحکم ودررالکلم، دستور معالم الحکم، قلائد الحکم، مائۃ کلمہ،فرائد الکلم، معمیات علیؑ،جواہرالمطالب، الارشاد اور آثار نیز سحیفۂِ علویہ کے نام سے بارگاہ ایزدی میں کی گئی دعاؤں کا ذخیرہ شامل ہے ۔ علاوہ ازیں آپؑ کے علمی،ادبی،تاریخی اور الہٰی مضامین پر مبنی تصنیف "نہج البلاغہ" کے عنوان سے معروف ہے جو تمام مکاتب افکار کی نظر میں گنجینۂِ علم و حکمت ہے۔ اس کی کئی شرحین لکھی گئی ہیں لیکن چوتھی صدی عیسوی کے ممتاز عالم سید رضی کی شرح زیادہ معروف و مستعمل ہے ۔ چونکہ آپؑ کو رسولؐ اقدس کی سب سے زیادہ قربت حاصل تھی لہٰذا اپؐ کے فرامین و احادیث بھی آپؑ سے ہی زیادہ مروی ہیں ۔ "مسندالامام علیؑ" دو جلدوں پر مشتمل ہے جس میں احادیث کی تعداد تقریباً چودہ سو پچاس ہے جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی حالیہ تحقعق میں واضح کیا ہے کہ آپؑ سے مروی احادیث کی تعداد بارہ ھزار کے لگ بھگ ہے ۔
حضرت علیؑ نے بہت سے راویوں کی تربیت بھی فرمائی جن میں اہم ترین امام حسؑن،امام حسیؑن،محمد بن حنفیہ، عمرو بن علی، فاطمہ بنت علی، جعفر بن ہبیرہ مخزومی، عبدالله بن عباسؓ، جابر بن عبدالله انصاریؓ، ابورافعؓ، اور اسامہ بن زید ہیں۔ آپؑ کے شاگرد راویوں میں اصحاب میں سے 66 راوی اور تابعین میں سے 180 کا تذکرہ ملتا ہے ۔

آپؑ کے شاگردوں نے جو آپؑ کے کلمات کے مجموعات تالیف کئے،ان میں سے چند یہ ہیں ۔ القضایا و الاحکام، تألیف بریربن خضیر همدانی شرقی ،۔ السنن و الاحکام والقضایا، تألیف ابورافع ابراہیم بن مالک انصاری ،۔ قضایا امیرالمؤمنین، تألیف عبد الله بن ابی رافع؛ (امام علی کے فیصلے)، ۔ کتاب فقه، تألیف علی بن ابی رافع، جانوروں کے بارے کتاب، تألیف ربیعه بن سمیع،۔ کتاب میثم بن یحیٰی تمّار کوفی ۔۔ کتاب الدیات، تألیف ظریف بن ناصح ۔
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد 35 ہجری میں مسلمانوں نے خلافت اسلامی کامنصب حضرت علی علیہ اسلام کے سامنے پیش کیا۔ آپ نے فرمایا "مجھے اس طرف رغبت نہیں ہے، تم کسی اور کو خلیفہ بنالو لیکن جب مسلمانوں کااصرار بہت بڑھ گیا تو آپ نے اس شرط سے منظورکیا کہ میں بالکل قران اور سنت پیغمبر کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا۔ مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کیا اور آپ نے خلافت کی ذ مہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص مذہبی سلطنت کو برداشت نہ کرسکا، آپ کے خلاف بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ کھڑے ہو گئے جنھیں آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے زائل ہونے کا خطرہ تھا،آخر کار نوبت جنگ وجدال تک پہنچ گئی لہٰذا جنگ جمل ، صفّین اور نہروان اسلامی تاریخ کا حصہ بنیں ۔ آپ نے ان سب سے مقابلہ کر نااپنا فرض سمجھا ۔ غرض یہ کہ اس خلفشار کی وجہ سے آپؑ کو وہ مواقع نہ مل سکے کہ آپؑ ملت اسلامیہ کی رشد و ہدایت اور اصلاح اس نہج پر فرمائیں جو اوصاف علویہ کا خاصّہ تھی ۔ ایسے نا مساعد حالات کے بادوجود آپؑ نے اپنے قلیل دور خلافت میں عدل و انصاف، رواداری ، اخوت و محبت اور شریعت محمّدی کے حقیقی نفاذ کا عملی مظاہرہ کیا ۔

شہادت: جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں کہ نفاذ اسلام کے ہوتے ہی منافقین کا ٹولہ اقدار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف ہو گیا ۔ دیکھا جائے تویہ عناصر رسولؐ اکرم کے زمانے میں بھی موجود تھے مگر جمل و صفّین کے بعد خارجیوں کی صورت میں یہ کھل کر سامنے آ گئے ۔ خوارج کے بارے میں جو روایات طبری میں بیان ہوئی ہیں، ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہی کے زمانے سے باغی تحریک کا حصہ بن گیا تھا۔ یہ لوگ "قراء" کہلاتے تھے۔ قراء کا لفظ ان لوگوں کے بارے مروّج تھا جو خاص کر قرآن مجید کی قرأت کا فن سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت عابد و زاہد قسم کے لوگ تھے اور نماز روزہ کے معاملے میں بڑے تشدد سے کام لیتے تھے۔ سجدوں کی کثرت سے ان کی پیشانیوں پر سیاہ نشان بن گئے تھے۔ عام طور پر ایسا ہو جاتا ہے کہ جو لوگ عبادت گزاری میں شدت پسند بن جائیں، وہ عام طور پر ان لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں ، جو دنیاوی کاموں میں مشغول ہوں ۔ یہ رویہ جب پختگی اختیار کر جائے تو ایسے لوگ بات بات پر دوسروں کو جھڑکتے ہیں، ان پر کفر، فسق اور گمراہی کے فتوے عائد کرتے ہیں اور اپنے سوا سب کو گمراہ سمجھتے ہیں ۔ خوارج سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث صحیح بخاری و مسلم میں بھی نقل ہو ئی ہیں۔

حضرت علیؑ کا اصول تھا کہ وہ کسی بھاگتے ہوئے اور زخمی کو قتل نہ کرتے تھے، نہ کسی کا پردہ فاش کرتے تھے اور نہ کسی کا مال لیتے تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا "یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ ان لوگوں کا خون تو ہمارے لیے حلال ہے اور ان کا مال حرام ۔ " حضرت علیؑ نے یہ سن کر فرمایا "یہ تمہارے بھائی ہیں۔ جس نے ہم سے تعرض نہ کیا (یعنی غیر جانبدار رہا)، وہ ہمارا حصہ ہے اور ہم اس کا حصہ ہیں ۔ جو شخص ہمارے مقابلے میں قتل ہوا، وہ ہماری جانب سے ابتداء کے باعث ہوا، اس لیے ان کے مال کا خمس نہیں لیا جا سکتا۔" اسی وقت سے وہ لوگ، جو بعد میں خارجی ہو گئے تھے، حضرت علیؑ کے خلاف سازشیں کرنے لگے ۔
مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علی علیہ اسلام کی شہادت خوارج کے ہاتھوں ہوئی۔ یہ وہی گروہ ہے جو حضرت عثمانؓ کے قاتلوں میں شامل تھا۔ تین خارجی ابن ملجم، برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر تیمی اکٹھے ہوئے اور انہوں نے منصوبہ بنایا حضرت علی، معاویہ اور عمرو بن عاص کو ایک ہی رات میں قتل کر دیا جائے۔ انہوں نے اپنی طرف سے اپنی جانوں کو اللہ تعالی کے ہاتھ فروخت کیا، خود کش حملے کا ارادہ کیا اور تلواریں زہر میں بجھا لیں ۔ ابن ملجم کوفہ آ کر دیگر خوارج سے ملا جو خاموشی سے مسلمانوں کے اندر رہ رہے تھے۔ ابن ملجم طے شدہ منصوبےکے تحت 19رمضان 40 ہجری کو رات کی تاریکی میں مسجد کوقہ میں آکر بیٹھ گیا اور جب حضرت علیؑ نماز فجر کے پہلے سجدے میں تشریف لے گئے تو اس ملعون نے زہر آلود تلوار سے آپ کے سرِاقدس پر وار کیا،ضربت کے فواًبعد حضرت علیؑ نے فرمایا " فُزتُ وَرَبّ الکعبہ" رب کعبہ کی قسم علیؑ کامیاب ہو گیا ۔ یہ وہ تاریخ ساز الفاظ ہیں جو علی علیہ اسلام کے شوق شہادت اور نفس مطمئنّہ کی بیّن دلیل ہیں ۔

حضرت علیؑ نے متعدد بار اپنی شہادت کا اشارہ دیا۔ شہادت سے قبل رمضان المبارک میں آپؑ خطبہ دے رہے تھے کہ امام حسؑن تشریف لے آئے، آپؑ نے ان سے پوچھا " اس مہینے کے کتنے دن گزر چکے ہیں" ۔ امام حسؑن نے کہا "بابا تیرہ دن گزر چکے ہیں " پھر آپؑ نے فرمایا "کتنے دن باقی رہ گئے ہیں " امام حسؑن نے جواب دیا " سترہ دن رہ گئے ہیں " تب آپؑ نے اپنی ریش مبارک پر ہاتھ پھیر کر فرمایا " عنقریب قبیلہِ مُراد کا ایک نامُراد میری داڑھی کو خون سے رنگین کرے گا" ۔ آپؑ نے اپنے بیٹوں امام حسؑن اور امام حسیؑن کو بلوایا اور ان سے فرمایا "میں تم دونوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں دنیا کے پیچھے ہرگز نہ لگنا خواہ دنیا تم سے بغاوت ہی کیوں نہ کر دے۔ جو چیز تمہیں نہ ملے، اس پر رونا نہیں ۔ ہمیشہ حق بات کہنا، یتیموں سے شفقت کرنا، پریشان کی مدد کرنا، آخرت کی تیاری میں مصروف رہنا، ہمیشہ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے حامی رہنا اور کتاب اللہ کے احکامات پر عمل کرتے رہنا۔ اللہ کے دین کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت گھبرانا ۔"

اس کے بعد اپنے بیٹے محمد بن حنفیہ سے فرمایا "میں نے تمہارے بھائیوں کو جو نصیحت کی، تم نے بھی سن کر محفوظ کر لی؟ میں تمہیں بھی وہی نصیحت کرتا ہوں جو تمہارے بھائیوں کو کی ہے۔ اس کے علاوہ یہ وصیت کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں حسؑن و حسیؑن کی عزت و توقیر کرنا اور ان دونوں کے اس اہم حق کو ملحوظ رکھنا جو تمہارے ذمہ ہے۔ ان کی بات ماننا اور ان کے حکم کے بغیر کوئی کام نہ کرنا۔ " پھر حسؑن و حسیؑن سے فرمایا "میں تم دونوں کو بھی محمد کے ساتھ اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہارا بھائی اور تمہارے باپ کا بیٹا ہے۔ تم یہ بھی جانتے ہو کہ تمہارا باپ اس سے محبت کرتا ہے"۔

اس کے بعد حضرت علیؑ نے اور بھی بہت سی نصیحتیں فرمائیں جن میں خاص کر نماز، زکوۃ، جہاد، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی نصیحت تھی ۔ معاشرے کے کمزور طبقات یعنی غرباء و مساکین اور غلاموں کے بارے میں خاص وصیت فرمائی ۔ اس دوران اصحاب و انصار عیادت کے لئے آتے رہے اور آپؑ سب کو حقیقی دین اسلام پر قائم اور گامزن رہنے کی نصیحت کرتے رہے ۔ 21 رمضان کی شب آپؑ نے اپنے تمام اہل خانہ کو طلب کیا اور سب کو امام حسؑن کے سپرد کیا جبکہ اپنے بیٹے حضرت عبّاسؑ کو امام حسیؑن کے سپرد کیا ۔

آخر کار 21 رمضان 40 ہجری کو جاںنثار پیغمبرؐ ، امیرالموئمنین ، پشوائے دین ودیں ، باب شہر عِلم علیؑ یبن ابی طالب 63 برس کی دنیاوی زندگی کو خیر باد کہہ کرعالمِ جا ودانی کی طرف رحلت فرما گئے۔

کسے را میسر نہ شد ایں سعادت
بہ کعبہ ولادت بہ مسجد شہادت

کسب حلال اور سادہ زندگی: آپؑ مولائے کائنات ہوتے ہوئے بھی نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ نمک، کھجور، دودھ گوشت سے رغبت تھی، غلاموں کو آزاد کرتے، کھیتی کی دیکھ بھال کرتے، کنویں سے پانی نکالتے، اپنے دور خلافت میں بازاروں کا چکر لگا کر قیمتوں کی نگرانی فرماتے ۔ محدث دہلوی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علیؑ نے کنؤیں سے پانی کھینچنے کی مزدوری کی، فی ڈول ایک خرمہ اجرت طے ہوئی،آپؑ نے 16 ڈول پانی کھینچا اور اجرت لے کر پیغمبرؐ اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دانوں نے مل کر خرمے تناول فرمائے ۔ ایک دفعہ آپؑ نے باغ سینچنے کی مزدوری کی، رات بھر پانی دینے کے لئے جو کی ایک مقدار طے ہوئی ، آپؑ ساری رات باغ کو پانی دیا اور جو لے کر گھر تشریف لے گئے ۔

آپ کی شان میں رسولؐ اکرم کی احادیث: علیٔ پہلے مؤمن ہیں۰ علیٔ کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۰علیٔ کا ذکر عبادت ہے۰ جس کا میں مولا ہوں یہ علیٔ اسکے مولا ہیں۰ حق علیٔ کے ساتھ ہے اور علیٔ حق کے ساتھ ۰علیٔ دین کا ستون ہیں۰ علیٔ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسٰی سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔۰ ابن عباس کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: علی کی محبت گناہوں کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے خشک لکڑی کو آگ ۔

حضرت علیؑ کے ارشاداتِ عالی: رسول اکرم نے مجھے علم کے ہزار باب تعلیم فرمائے ہیں اور میں نے ہر باب سے ہزار باب پیدا کر لئیے ہیں ۰اے دنیا "غرّی غیری" جا کسی اور کو دھوکہ دے میں نے تجھے طلاق بائن دی ہے جس کے بعد رجوع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۰ آپؑ نے دنیا کی حیثیت بیان کرتے ہوئے فرمایا " دنیا کی بہترین کھانے کی چیز شہد ہے،جو ایک مکھی کا لعاب دہن ہے ۔ پہننے کی بہترین چیز دیباج یعنی ریشم ہے جو ایک کیڑے کا لعاب دہن ہے اور سونگھنے کی بہترین چیز مشک ہے جو ایک جانور کی ناف کا سوکھا ہؤا خون ہے ۔‬۰یقین کی حالت میں سونا شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۰صدقہ سے اپنے ایمان کی نگہداشت اور زکوٰۃ سے اپنے مال کی حفاظت کرو اور دعا سے مصیبت و ابتلأ کی لہروں کو دور کرو ۰میرے بعد دو قسم کے لوگ تباہ وبرباد ہ‍ؤے، ایک وہ چاہنے والا جو حد سے بڑھ جائے اور ایک وہ دشمنی رکھنے والا جو عداوت رکھے۔۰ ’’سلونی سلونی قبلَ انتَفقدُونی‘‘ پوچھ لو مجھ سے اس سے قبل کہ تم مجھے نہ پاؤ، میں آسمان کے راستوں کو زمین کے راستوں سے بہتر جانتا ہوں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا’’اس ذات کی قسم جس نے دانے کو توڑا اور مخلوقات کوپیدا کیا،میں اہلِ تورات سے زیادہ تورات کو اور اہلِ انجیل سے زیادہ انجیل کو سمجھتا ہوں اور اہلِ قرآن سے زیادہ قرآن کا علم رکھتا ہوں ۔

آپؑ کی شخصیت غیر مسلم دانشوروں کی نظر میں: اسکاٹس نقاد اور ادیب تھامس کارلائیل کہتے ہیں ان کے قتل کی وجہ حقیقت میں ان کا درجہء کمال تک پہنچا ہوا عدل تھا ۔ برطا نوی تاریخ دان ایڈورڈ گبن کہتے ہیں کہ حضرت علیؑ کی فصاحت تمام زمانوں میں زندہ رہے گی ۔ شامی نژاد امریکی پروفیسر فلپ کے حتی کا کہنا ہے کہ ، کہتے ہیں کہ حضرت علیؑ لڑائی میں بہادر اور تقریروں میں فصیح تھے، وہ دوستوں پر شفیق اور دشمنوں کیلئے فراخ دل تھے۔ اسکاٹش سیاستدان سر ویلیم مور کا کہتے ہیں کہ سادگی حضرت علیؑ کی پہچان تھی اور انہوں نے بچپن سے اپنا دل و جان رسول خدا کے نام کر دیا تھا ۔ ۔معروف مورخ چارلس ملز کہتے ہیں کہ خوش نصیب ہے وہ قوم کہ جس میں علیؑ جیسا عادل انسان پیدا ہوا ۔ بھارتی صحافی ڈی- ایف- کیرے کہتے ہیں کہ علیؑ کو سمجھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ لبنانی عیسائی مصنف جارج جرداق کہتا ہے کسی میں یہ حوصلہ نہیں ہے کہ وہ ذات علیؑ کو الفاظ کے ذریعے مجسم شکل دے ۔ لبنانی عیسائی مفکر خلیل جبران لکھتا ہے کہ علی کی عظمت و جلالت ان کی شہادت کا سبب بنی ۔ وہ مزید کہتاہے کہ میرے عقیدے کے مطابق علی ابن ابی طالب اس زمانے کے نہیں تھے، وہ زمانہ علیؑ کا قدر شناس نہیں تھا، علیؑ اپنے زمانے سے بہت پہلے پیدا ہوگئے تھے،اسی وجہ سے لوگ ان کی پُرمعنی گفتار اور اپنی گمراہی میں پھنس کے رہ جاتے تھے۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store