وزیراعظم کا دورہ ثمرقند، امیدیں اور توقعات

وزیراعظم کا دورہ ثمرقند، امیدیں اور توقعات فائل فوٹو

ازبکستان کا شہر ثمرقند اپنے اندر سات سو سال قبل مسیح سے تاریخ کی اونچ نیچ کو سموئے ہوئے ہے، بادشاہ افراسیاب سے لیکر ازبکستان کے موجودہ صدر شوکت میر ضیایف تک کبھی فاتحین کی گذرگاہ اور کبھی اولیا اللہ کی آرامگاہ ثمرقند آج بھی اپنے مہمانوں کے لئے تاریخ کے جھروکے کھولے میزبانی کے لئے مستعد رہتا ہے۔

فارسی طرز تعمیر سے مزین نیلے رنگ کے میناروں والے تین مدارس ہوں یا زندہ پیر کا مزار ہو ہر جگہ دیکھنے والے کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیتی ہے اور صدیوں کا منظرنامہ آج کے دور میں عیاں ہو جاتا ہے۔ دریائے زرفشاں کی وادی میں بسے اس شہر بے مثال کو اقوام متحدہ کی جانب سے تاریخی ورثے کی حثیت بھی حاصل ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کے بائیسویں اجلاس نے دنیا کی نگاہ پھر سے اس شہر بے مثال پر مرکوز کردی۔ ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیف نے سربراہی اجلاس کی میزبانی کے فرائض سر انجام دئیے جبکہ تنظیم کے رکن روس کے صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ، قازقستان کے صدر قاسم جومرت توکائیف، کرغزستان کے صدر صادر جپاروف، ، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف ، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی، مبصر ممالک کے صدر بیلاروس کے الیگزینڈر لوکاشینکو، منگولیا کے صدر اوخنا خورلسخ، ایران کے صدر ابراہیم رئیسی، ترک صدر رجب طیب ایردوان، ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف اور آذربائیجان کے صدر الہام علی ایوف نے شرکت کی۔

اجلاس میں جہاں دیگر راہنماوں کی سائیڈ لائن ملاقاتوں کا ذکر بالخصوص ہوا وہاں وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی عالمی راہنماوں سے ملاقاتیں بھی توجہ کا مرکز رہیں جس کو عالمی میڈیا نے بھی بھرپور کوریج دی۔ اگرچہ ایک ہی میزپر بیٹھنے کے باوجود وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے تو کوئی ملاقات نا ہوئی لیکن دیگر تمام راہنماوں سے وزیر اعظم پاکستان نے اہم ملاقاتیں کیں اور متاثرینِ سیلاب کے لیے امداد فراہم کرنے پر رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے وزیر اعظم پاکستان سے سے ہونے والی ملاقات کے دوران کہا کہ روس پاکستان کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے، روس سے پاکستان کو پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی ممکن ہے اور مطلوبہ انفرااسٹرکچر پہلے سے ہی موجود ہے، ہم پاکستان کے متاثرینِ سیلاب کے لیے مزید امداد بھجوانے کے لئے تیار ہیں، افغانستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس مسئلے کا فوری حل ضروری ہے اور پاکستان اس حوالے سے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان سے وزیر اعظم شہباز شریف کی ایک اہم ملاقات ہوئی ، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کو یقین دہانی کرائی کہ روس سے پاکستان کو گیس کی فراہمی کے منصوبے کے حوالے سے ترکیہ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کے لئے تیار ہے۔

ہمسایہ برادر ملک اسلامی جمہوریہ ایران کو اس اجلاس میں تنظیم کےمستقل رکن بننے کا بھی اعلان کیا گیا ۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک ایران موجودہ تعلقات کو تسلی بخش قرار دیا اور مسقبل میں تجارت سمیت دیگر دو طرفہ امور میں روابط کو مزید فروغ دینے کا اعیادہ کیا، وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے پاکستان میں سیلاب سے دوچار اپنے پاکستانی بھائیوں کی بروقت امداد پر صدر اسلامی جمہوریہ ایران سید ابراہیم رئیسی اور ایرانی عوام کاشکریہ اداٗ کیا۔ ایرانی صدر کی جانب سے سیلاب سے متاثر اپنے پاکستانی بھائیوں کے لئے مزید امدادی سامان اور ٹیموں کی دستیابی کا بھی اظہار کیا۔

تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن اور اُزبکستان کے صدر شوکت مِرزی وئیف کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں وزیر اعظم پاکستان نے مشترکہ مفادات پر تبادلۂ خیال کیا اور باہمی روابط بڑھانے پر اتفاق ہوا۔

بیلاروس کے صدر لوکا شینکو سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اور تجارتی شعبوں میں تعاون کے فروغ کا اعادہ کیا گیا اور وزیراعظم شہباز شریف نے بیلاروس کے دورے کی دعوت قبول کی اور بیلاروس کے صدر کو دورۂ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

جمہوریہ کرغزستان کے صدر زاپروف سے ملاقات میں شہباز شریف نے گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے کرغزستان کی سمندر تک رسائی آسان بنانے کے لیے تعاون کایقین دلایا اور پاکستان اور کرغزستان کے مابین چارٹرڈ پروازوں کی بحالی کا خیر مقدم کیا۔ اس ملاقات میں کا اہم ایجنڈہ مشترکہ وازارتی کمیشن کا اگلا اجلاس بھی تھا جس کے جلد انعقاد پر اتفاق ہوا۔

اگر دیکھا جائے تو وزیر اعظم شہباز شریف کے اس دورہ کوکامیاب قرار دیا جائے گا کیونکہ ان اہم عالمی راہنماوں سے ملاقات میں جو ایک خاص پہلو پاکستان کی جانب سے زیر غور تھا وہ سیلاب کے بعد پاکستان کی موجودہ صورتحال اور پھر سیلاب متاثرین کی بحالی ہے، تمام عالمی راہنماوں کے ساتھ ان ملاقاتوں میں اس پہلو پر انتہائی مثبت جواب دیا گیا اور اگر تنظیم کے رکن ممالک اس حوالے سے پاکستان کی امداد جاری رکھتے ہیں تو امید کی جاتی ہے کہ سیلاب متاثرین کی بحالی تندہی سے مکمل ہو پائے گی۔

دوسری جانب اگر ان ملاقاتوں کے نتیجے میں پاکستان روس سے سستی گیس حاصل کرلیتا ہے تو سالوں سے سوچے جانے والے کاغذی منصوبے حقیقت میں پائہ تکمیل تک پہنچیں گے اور پاکستان کو انرجی سیکٹر میں ایک انتہائی مضبوط سہارا ملے گا۔ وزیر اعظم پاکستان نے تمام رکن ممالک کے سربراہان سے افغانستان کے مسلئہ کے فوری حل کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی، پاکستان جو کہ افغان مہاجرین کو پناہ دینے والے ممالک کی فہرست میں اول نمبر پر ہے افغانستان میں امن کی بحالی اور انسانی جانوں کو کسی المیہ سے بچانے کے لئے ہر طرح سے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہے تاہم خطے کے اس اہم معاملہ پر افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک کو بھی توجہ دینا ہوگی۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store