Sat 21 October 2017

عراقی کردستان میں آزادی کیلئے ریفرنڈم، خطے میں نئے تنازع کا خطرہ

عراقی کردستان میں آزادی کیلئے ریفرنڈم، خطے میں نئے تنازع کا خطرہ	عراقی کردستان میں آزادی کیلئے ریفرنڈم، خطے میں نئے تنازع کا خطرہ

عراق میں امریکی ایما پر ایک اور غیرقانونی ریاست کے قیام کے لئے ریفرنڈم ہو رہا ہے۔ عراقی صدر کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ بغاوت کو فوجی طاقت سے کچل دیں گے۔

ووٹ ڈالنے کا سلسلہ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوا ہے اور شام آٹھ بجے تک جاری رہے گا۔

عراق کی حکومت اس ریفرنڈم کی مخالف ہے اور وزير اعظم حیدر العبادی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کو 'متحد رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔'

مغربی ممالک نے بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کے ریفرنڈم سے خطے میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے جس سے شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف جاری لڑائی سے توجہ ہٹ سکتی ہے۔

لیکن بہت عرصے سے ایک آزاد ریاست کے لیے لڑنے والے کرد اس ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے پرعزم تھے۔

زیادہ توقع اسی بات کی ہے کہ اکثر لوگ ریفرنڈم کی حمایت میں ووٹ ڈالیں گے لیکن خیال رہے کہ اس کے نتائج پر عمل لازمی نہیں ہے۔ عراق نے کہا تھا کہ ریفرنڈم کو معطل کر دیا جانا چاہیے۔

ووٹنگ سے قبل عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا کہ یہ ووٹ غیر آئینی ہے اور اس سے امن کو خطرہ لاحق ہے۔ ان کا کہنا تھا 'ہم ملکی اتحاد کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔'

لیکن انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آخر وہ اس سلسلے میں کس طرح کے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بعد میں ان کی حکومت نے یہ مطالبہ کیا کہ کردستان اپنی بین الاقوامی سرحدی چوکیوں کا کنٹرول ان کے حوالے کر دے۔

عراقی حکومت نے عالمی ممالک سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کردستان کے علاقے سے تیل کی خرید و فروخت سے گریز کریں اور تیل اور سرحدی مسائل پر عراقی حکومت سے رابطہ کریں۔

واضح رہے کہ کردستان کے علاقے سے برآمد کی جانے والی اشیا میں تیل سب سے اہم ہے۔

لیکن عراق میں کرد رہنما مسعود بارزانی کا کہنا ہے کہ ان کے اپنے لوگوں کے تحفظ کا واحد راستہ آزادی ہی ہے۔

حال ہی میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا: 'ہمارے پاس استحکام یا سکیورٹی کبھی تھی کہاں کہ ہمیں اس کے نہ رہنے کی تشویش ہو۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کہہ رہے ہیں وہ ہمیں روکنے کے لیے بہانہ بنا رہے ہیں۔'

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس ریفرنڈم سے دولت اسلامیہ کے خلاف جاری لڑائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

عراق کے شمال میں خود مختار کردستان کے علاقے پر 'کردستان ریجنل گورنمنٹ' کی حکمرانی ہے اور عراق کے 2005 کے آئین میں اسے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گيا ہے۔

عراق میں تقریباً 15 سے 20 فیصد آبادی کردوں کی ہے جو بہت عرصے سے ایک علیحدہ آزاد ریاست کے لیے جدوجہد کرتے رہے تھے جس کے بعد ان کی اس محدود خودمختاری کو تسلیم کیا گيا تھا۔

کرد ایران اور ترکی سمیت خطے کے چار ممالک میں رہتے ہیں لیکن برسوں کی مسلح جدوجہد کے بعد صرف عراق کے اس علاقے میں ان کی اپنی حکومت ہے۔

ایران اور ترکی نے بھی آزادی کے لیے اس ریفرنڈم پر یہ کہہ کر تشویش ظاہر کی ہے کہ اس سے ان کے اپنے ملکوں میں بھی رہنے والے کردوں میں علیحدگی پسندگی کو ہوا مل سکتی ہے۔

ترکی میں 'کردستان ورکرز پارٹی' جو ایک دہشت گرد تنظیم مانی جاتی ہے، ایک عشرے سے بھی زیادہ عرصے سے آزاد ریاست کے لیے مسلح جدوجہد کر رہی ہے۔ اسی سے وابستہ ایک اور گروپ 'پی جے اے کے' ایران میں بھی پایا جاتا ہے۔

لیکن پیش مرگاہ کے نام سے معروف کرد جنگجو عراق اور شام میں داعش کے خلاف لڑائی میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ اس ریفرنڈم کا حامی نہیں ہے لیکن کرد اس لڑائی میں اس کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

اسرائيل ہی واحد ملک ہے جو کھل کر کردوں کی آزادی کی حمایت کرتا ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.