Tue 27 June 2017

لڑکی کی فیس بک پر لائیو ویڈیو اسٹریمنگ کے دوران قتل

لڑکی کی فیس بک پر لائیو ویڈیو اسٹریمنگ کے دوران قتل فائل فوٹو

مونٹریال: کینیڈین پولیس نے ہائی اسکول کی ان 2 طالبات کو گرفتار کرلیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک لڑکی کو تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کی ویڈیو فیس بک پر لائیو نشر کی تھی۔

امریکی نشریاتی ادارے نے اپنی خبر میں بتایا کہ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس نے سگکینگ فرسٹ نیشن کی رہائشی 19 سالہ سیرینا مکی کو تشدد کے ذریعے قتل کرکے مبینہ طور پر واقعے کی ویڈیو فیس بک پر نشر کرنے کے الزام میں 16 اور 17 سالہ 2 لڑکیوں کو گرفتار کرلیا۔

پولیس کے مطابق لڑکیوں کو گرفتار کرکے مزید تفتیش کی جا رہی ہے، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ یہ وہی لڑکیاں ہیں، جنہوں نے طالبہ کو تشدد کرکے قتل کرنے کی ویڈیو نشر کی۔


پولیس کے مطابق فیس بک پر نشر کی گئی ویڈیو میں طالبہ پر حملہ کرنے والے افراد کے چہرے نظر نہیں آرہے، تاہم طالبہ کو تشدد کرنے والی کم سے کم 2 خواتین کی آوازیں آ رہی ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ واقعے کی ویڈیو کو سوشل میڈیا سے ہٹائے جانے کے لیے ویب سائیٹس انتظامیہ سے رابطے کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ویڈیو کو فیس بک سے ہٹادیا گیا ہے، تاہم اگر ویڈیو کو میسینجر کے ذریعے شیئر کیا گیا ہے، تو اسے فوری طور ہٹانا آسان کام نہیں۔

ویڈیو دیکھنے والے افراد اور پولیس کے مطابق ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی حملہ کرنے والوں سے معافی مانگ رہی ہے، تاہم حملہ آور معافی کی پرواہ کیے بغیر اس پر تشدد کیے جا رہے ہیں۔


پولیس کے مطابق ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متاثرہ لڑکی کے ناک اور منہ سے خون بہہ رہا ہے، اور وہ تشدد کے باعث بے جان ہوکر زمین پر لیٹ جاتیں ہیں، اور دوران تشدد ہی ہلاک ہوجاتی ہیں۔

پولیس کے مطابق تاحال اس بات سے متعلق کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی کہ تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی معافی کس لیے مانگ رہی تھی؟ اور حملہ آوروں نے ان پر تشدد کیوں کیا؟

واقعے کے بعد ویڈیو وائرل ہوگئی، جب کہ سوشل میڈیا پر ہلاک کی گئی لڑکی کے حق میں مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔


ہلاک ہونے والی لڑکی کی آخری رسومات میں خاندان اور رشتہ داروں سمیت علاقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے اسے خراج عقیدت پیش کیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی فیس بک پر قتل کی براہ راست ویڈیوز نشر کی جاچکی ہیں، جب کہ فیس بک نے خطرناک لائیو ویڈیوز کی روک تھام کے لیے اضافی 3 ہزار انجنیئرز بھرتی کیے ہیں، تاکہ ایسی ویڈیوز کو نشر کرنے سے روکا جاسکے۔