Tue 26 September 2017

صرف 10 سیکنڈ میں کینسر کی شناخت کرنے والا قلم

دی ماس اسپیک پین فائل فوٹو دی ماس اسپیک پین

دیکھنے میں یہ آلہ بالکل کسی قلم کی طرح نظر آتا ہے لیکن اس کی مدد سے سرطان (کینسر) کی شناخت صرف 10 سیکنڈ میں ممکن ہے۔ اسے یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔

اس آلے کو ’’دی ماس اسپیک پین‘‘ (The MasSpec Pen) کا نام دیا ہے جبکہ اس سے کی گئی طبّی آزمائشوں کے نتائج تحقیقی مجلے ’’سائنس ٹرانزیشنل میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

ان تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آلہ سرطان کی شناخت 96 فیصد درستگی کے ساتھ کرسکتا ہے اور اپنی غیرمعمولی تیز رفتاری کے باعث سرطان زدہ رسولی (کینسر ٹیومر) کو نکال باہر کرنے کے آپریشن بھی بہت کم وقت میں مکمل کروا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس نوعیت کے آپریشنوں میں بالعموم کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں لیکن پھر بھی سرطانی رسولی کا کچھ نہ کچھ حصہ مریض کے جسم میں باقی رہ جاتا ہے جس کے نتیجے میں کینسر ایک بار پھر سے شدت اختیار کرنے لگتا ہے۔

اس کے کام کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ جس مقام پر کینسر کا شبہ ہو، اس آلے کی نوک کو وہاں پر آہستگی سے چھوا جاتا ہے اور یہ بہت ہی باریک قطرہ خارج کرتا ہے۔ زندہ خلیوں میں موجود کیمیائی مرکبات بڑی تیزی سے اس ننھے قطرے میں داخل ہوجاتے ہیں اور پھر اس قطرے کو فوراً ہی واپس قلم میں کھینچ لیا جاتا ہے جہاں اس قطرے کا برق رفتاری سے کیمیائی تجزیہ کیا جاتا ہے۔

یہ قلم پہلے ہی ایک خاص طرح کے آلے ’’ماس اسپیکٹرومیٹر‘‘ (کمیتی طیف نگار) سے منسلک ہوتا ہے جو ایک سیکنڈ میں ہزاروں کیمیائی مرکبات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ ماس اسپیکٹرومیٹر پلک جھپکتے میں اس ننھے سے قطرے میں موجود کیمیائی مرکبات کا تجزیہ مکمل کرلیتا ہے اور اگر ان میں کوئی ایسا مرکب موجود ہو جو جسم میں کینسر کی موجودگی کی علامت تصور کیا جاتا ہو، اس آلے کا خودکار نظام فوری طور پر اس کی نشاندہی کردیتا ہے۔ یہ سارا کام صرف دس سیکنڈ میں مکمل ہوجاتا ہے۔

اسے تیار کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ قلم نما آلہ تیار کرنے کا نہیں تھا بلکہ انہیں سب سے زیادہ دشواری ایک ایسا کمیتی طیف نگار (ماس اسپیکٹرومیٹر) تیار کرنے میں پیش آئی جو نہ صرف جسامت میں خاصا کم ہو بلکہ کیمیائی مرکبات کی بڑی تعداد کا تجزیہ بہت تیزی سے کرنے کے قابل بھی ہو۔ یہ وہ رکاوٹ تھی جسے عبور کرنے میں انہیں کئی سال لگ گئے۔

یہ نظام مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہے جس کا الگورتھم بھی نہایت تیز رفتار ہے۔ ’’دی ماس اسپیک پین‘‘ کی 96 فیصد درستگی بھی درحقیقت اسی الگورتھم کی مرہونِ منت ہے جو ماس اسپیکٹرومیٹر کے تجزیئے میں سامنے آنے والے کیمیائی مرکبات کی درست شناخت کرنے کے علاوہ ان میں شامل ایسے مادّوں کی بھی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کرسکتا ہے جو کینسر کی علامت قرار دیئے جاتے ہوں۔

اسے نہ صرف بالکل ابتدائی مرحلے میں کینسر کی تشخیص میں استعمال کیا جاسکتا ہے بلکہ سرطانی رسولی نکالنے کے آپریشن کے بعد یہ یقین دہانی حاصل کےلیے بھی اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ رسولی کی باقیات جسم کے اندر نہ رہ گئی ہوں۔

مذکورہ آزمائشوں کے دوران اس تشخیصی قلم کو مختلف مریضوں سے لیے گئے 253 نمونوں پر آزمایا گیا جن میں سے ہر ٹکڑے کی اوسط جسامت صرف 1.5 ملی میٹر چوڑی تھی۔ ماہرین کا ہدف ہے کہ اس قلم کو مزید ترقی دے کر 0.6 ملی میٹر چوڑی بافتوں (ٹشوز) سے سرطان کی تشخیص کے قابل بنایا جائے گا۔

یہ قلم اگرچہ خود بہت چھوٹا اور کم خرچ ہے لیکن اس کا تمام تر انحصار ماس اسپیکٹرومیٹر پر ہے جو اس وقت بھی جسامت میں خاصا بڑا اور مہنگا ہے۔ یعنی اگر یہ اپنی موجودہ حالت میں دستیاب ہو بھی گیا تو یہ خاصا مہنگا ثابت ہوگا؛ اور اسی لیے ماہرین اپنی تحقیق کے اگلے مرحلے میں ماس اسپیکٹرومیٹر کی جسامت اور لاگت، دونوں میں کمی کرنے کی سر توڑ کوشش کررہے ہیں۔

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ انہیں یہ منزل کب تک حاصل ہوگی لیکن چار سے پانچ سال میں کامیابی کی امید ضرور رکھی جاسکتی ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.