اثاثہ جات ریفرنس: احتساب عدالت نے اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کردی

احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کردی۔

اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس آمدن سے زائد اثاثوں کا ہے اور کیس میں سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔

نیب ریفرنس پر اسحاق ڈار 25 ستمبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں عدالت نے مختصر سماعت کے بعد ان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے آج طلب کیا تھا۔

نیب ریفرنس پر اسحاق ڈار کے خلاف آج چوتھی سماعت ہے جس کے لیے وہ عدالت پہنچے ہیں جہاں ان پر کیس میں فرد جرم عائد کی جائے گی جس کےبعد ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔

مزید جانئیے: نیب ریفرنسز؛ نواز شریف پر فرد جرم کیلئے2 اکتوبر کی تاریخ مقرر، بچوں اور داماد کے وارنٹ جاری

وفاقی وزیر خزانہ کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس اور اس کے اطراف سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

سخت سیکیورٹی کے باعث میڈیا نمائندوں اور سائلین کو باہر روک لیا گیا جب کہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل اور اسپیشل پراسیکیوٹر کوبھی روکا گیا تاہم انہیں تھوڑی دیر بعد جانے کی اجازت دے دی گئی۔

عدالت کے باہر شدید بد نظمی

عدالت کے باہر رش کے باعث پولیس نے عدالت کے گیٹ بند کررکھے تھے، عدالت کے باہر دھکم پیل کے بعد اسحاق ڈار احاطہ عدالت میں داخل نہ ہوسکے جس کے باعث وہ واپس اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے تاہم عدالت کے باہر بدنظمی کی وجہ سے اسحاق ڈار عقبی راستے سے احتساب عدالت کے احاطے میں داخل ہوئے۔


پولیس کی جانب سے وکلااور صحافیوں کو عدالت میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر عدالت کے باہر شدید بدنظمی ہوئی اور بعض وکلا عدالت کا گیٹ پھلانگ کر احاطہ عدالت میں داخل ہوگئے۔

صحافیوں کو عدالت میں داخل ہونے کی اجازت نہ ملنے پر صحافی عدالت میں ہونے والی کارروائی سے لاعلم ہیں۔

کیس کی گزشتہ سماعتیں

اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس پر پہلی سماعت 14 اور دوسری 20 ستمبر کو ہوئی جس روز ملزم کی عدم پیشی پر عدالت نے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے۔

25 ستمبر کو کیس کی تیسری اور گزشتہ سماعت پر اسحاق ڈار کے وکیل کی جانب سے ریفرنس کے جائزے کے لیے کم از کم 7 دن دینے کی استدعا مسترد کردی گئی تھی۔

عدالت نے ملزم کو 23 جلدوں پر مشتمل ریفرنس کی نقول فراہم کر کے وصولی کی رسید پر دستخط کرائے تھے اور فرد جرم عائد کرنے کے لیے آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔

واضح رہے کہ نیب نے پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان اور اسحاق ڈار پر ریفرنس بنائے ہیں جب کہ شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز دائر کیے گئے ہیں جس میں میاں نوازشریف پر فرد جرم کے لیے 2 اکتوبر کی تاریخ مقرر ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے کیس میں گزشتہ روز پیش نہ ہونے پر نوازشریف کے بچوں اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

 

 

install suchtv android app on google app store