Fri 23 June 2017

پاکستان اور ایران نے تجارتی لین دین کا طریقہ کار طے کرلیا

پاکستان اور ایران نے تجارتی لین دین کا طریقہ کار طے کرلیا پاکستان اور ایران نے تجارتی لین دین کا طریقہ کار طے کرلیا

پاکستان اور ایران نے تجارتی لین دین کا طریقہ کار طے کرلیا، اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مذکورہ نظام کا حصہ بننے کے لیے فارن ایکس چینج کے مجاز ڈیلرز (بینکوں) سے 31مئی تک تحریری درخواستیں طلب کر لی ہیں اور ساتھ ہی درآمدی وبرآمدی پروسیسنگ کی تفصیل بھی جاری کردی ہے۔

ایس بی پی کی جانب سے گزشتہ روز فارن ایکس چینج کے مجاز ڈیلرز کے صدور اور چیف ایگزیکٹوز کو سرکلر جاری کردیا گیا ہے۔ سرکلر کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت میں سہولت کی فراہمی کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور بینک مرکزی جمہوریہ اسلامی ایران (بی ایم جے آئی آئی) نے پیمنٹ سیٹلمنٹ میکنزم تیار کیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی لین دین کا تصفیہ کیا جا سکے۔

مذکورہ طریقہ کار ایس بی پی کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ ہدایات کے مطابق تجارتی لین دین کے تصفیے کے لیے منظور شدہ دیگر طریقوں میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا بلکہ ایک اضافہ طریقہ ہوگا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان اشیا اور خدمات کی تجارت کی ادائیگیوں کے لیے یہ طریقہ کار دستیاب ہوگا، اس طریقہ کار کے تحت لین دین کا تصفیہ یورو یا جاپانی ین میں کیا جائے گا اور یہ آئی سی سی سے شائع شدہ یونی فارم کسٹمز اینڈ پریکٹس فار ڈاکیومینٹری کریڈٹس یو سی پی 600 کے مطابق دستاویزی لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) پر مبنی ہوگا، اس میکنزم میں لین دین کی پروسیسنگ کے طریقے کے تحت پاکستان کی درآمدی ادائیگیوں کے لیے پاکستان میں درآمدکنندہ کا بینک زرمبادلہ (ایل سی کی رقم) ایس بی پی کے نوسٹرو اکاؤنٹ میںمنتقل کرے گا تاکہ ایرانی ایکسپورٹر کو ادائیگی کی جا سکے اور اس سے ایس بی پی کو بطور ضمیمہ اے منسلک فارمیٹ کے مطابق آگاہ کرے گا۔

نوسٹرو اکاؤنٹ میں فنڈز ملنے کی تصدیق پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایرانی مرکزی بینک (بی ایم جے آئی آئی) کو ایرانی برآمدکنندگاہ کو ادائیگی کے لیے ایکسپورٹر کے بینک کو پیمنٹ کی ہدایت کرے گا، اسی طرح پاکستان سے ایکسپورٹ کے عوض فنڈز کی وصولی کے لیے ایران میں درآمدکنندہ کے بینک سے ادائیگی کی ہدایات پر بی ایم جے آئی آئی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو پاکستان میں ادائیگیوں کی ہدایت کرے گا۔

ایس بی پی ہدایات ملنے پر پاکستان میں ایکسپورٹر کے بینک کے نوسٹرواکاؤنٹ میں فنڈز کریڈٹ کر دے گا۔ پاکستانی بینکاری ریگولیٹر کے مطابق شراکت دار بینکوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ مذکورہ نظام کے تحت لین دین ممنوع ہو نہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اس میں ممنوع قراردی گئیں انٹیٹیز و افراد شامل ہوں، مذکورہ نظام کے تحت تمام لین دین زرمبادلہ کے تمام رائج قوانین واصولوںپر عملدرآمد سے مشروط ہوگا، مذکورہ میکنزم کے تحت کام کرنے میں دلچسپی رکھنے والے مجاز ڈیلرز اپنی تحریری درخواستیں ڈائریکٹر ڈومیسٹک مارکیٹس اینڈ مانیٹری مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ ایس بی پی کراچی کو 31مئی تک بھیج سکتے ہیں۔