محمد بن سلمان پر لٹکنے لگی خطرے کی تلوار، سابق سعودی اہلکار کے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان فائل فوٹو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

امریکہ کی ایک عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے کینیڈا میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے سعودی خفیہ ایجنسی کے سابق عہدیدار کو قتل کرنے کے لیے لوگ بھجوائے تھے۔

دستاویزات کے مطابق سعد الجبری کو قتل کرنے کا ناکام منصوبہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے تھوڑے ہی عرصے بعد کا ہے۔

جبری سعودی حکومت کے سابق عہدیدار تھے اور وہ تین سال سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

دستاویزات کے مطابق یہ مبینہ منصوبہ ناکام ہو گیا تھا۔ اس کی وجہ کینیڈین سرحد پر موجود ایجنٹس کا شبہ بنی کیونکہ سعد جبری کے قتل کا منصوبہ بنانے والے سکواڈ نے ٹورنٹو پیرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آنے کی کوشش کی تھی۔

الجبری جن کی عمر 61 برس ہے کئی سالوں تک سعودی عرب میں برطانیہ کی ایم آئی سکس اوردیگر مغربی خفیہ ایجنسیوں سے رابطے میں رہنے والی اہم شخصیت رہے ہیں۔

اس درخواست میں کیا کہا گیا ہے؟

یہ درخواست 106 صفحات پر مشتمل ہے جسے واشنگٹن ڈی سی کی عدالت میں جمع کروایا گیا ہے۔ اس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سعد جبری کو خاموش کروانے کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل میں جو ٹائیگر سکواڈ ملوث تھا اسی کے کچھ ارکان سعد الجبری کے قتل کے لیے بھیجے گئے تھے۔ خیال رہے کہ جمال خاشقجی کو سنہ 2018 میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں مار دیا گیا تھا۔

دستاویزات کے مطابق کچھ جگہوں پر ڈاکٹر سعد الجبری کے ذہن اور حافظہ سے کہیں زیادہ مدعا علیہ، محمد بن سلمان کے بارے میں حساس، ذلت انگیز اور تنقیدی معلومات ہیں۔ ماسوائے شاید اس ریکارڈنگ کے جو ڈاکٹر سعد نے اپنے قتل کی پیش گوئی کے حوالے سے کی۔

یہ وجہ ہے کہ محمد بن سلمان ان کی موت چاہتے تھے اور وہ گذشتہ تین برسوں سے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔

سنہ 2017 میں سعد الجبری براستہ ترکی کینیڈا فرار ہو گئے۔ وہ الزام عائد کرتے ہیں کہ محمد بن سلمان نے بہت کوششیں کیں کہ وہ سعودی عرب واپس لوٹ جائیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے سعد الجبری کو نجی طور پر پیغامات بھی بھجوائے جب میں ایک یہ تھا ’ہم یقیناً تم تک پہنچ جائیں گے۔‘

الجبری کہتے ہیں کہ پھر خاشقجی کے قتل کے دو ہفتوں سے بھی کم کا وقت بیتا تھا کہ ٹائیگر سکواڈ انھیں قتل کرنے کے ارادے سے کینیڈا روانہ ہوا۔

عدالت میں دائر دستاویز کے مطابق کہ اس گروہ میں و شخص بھی شامل تھا جس پر الزام ہے کہ اس نے خاشقجی کی جلد اتاری تھی۔ اس نے فرانزک کے لیے استعمال ہونے والے آلات کے دو تھیلے اٹھا رکھے تھے۔

تاہم بتایا گیا ہے کہ کینیڈا کے سرحدی ایجنٹس کو بہت جلد ہی اس گروہ کے بارے میں شبہ ہوا اور ان افراد سے گفتگو کرنے کے بعد ان افراد کو کینیڈا میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ محمد بن سلمان نے سکواڈ کو شمالی امریکہ بھجوایا تھا تاکہ ڈاکٹر سعد الجبری کو مارا جائے۔

الجبری محمد بن سلمان پر الزام عائد کرتے ہیں انھوں نے ماورائے عدالت قتل کرنے کی کوشش کی اور وہ بین الاقوامی قانون اور امریکہ میں تشدد کا شکار ہونے والوں کی حفاظت سے متعلق ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

اس حوالے سے ردعمل جاننے کے لیے جب سعودی عرب کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو کوئی جواب نہیں موصول ہوا۔

کینیڈا کے وفاقی وزیر برائے عوامی تحفظ بل بلئیر کا کہنا ہے کہ وہ خاص طور پر اس کیس کے بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتے تاہم انھوں نے یہ بتایا کہ حکومت ان واقعات کے بارے میں آگاہ ہے جن میں غیر ملکی افراد نے کینیڈین افراد اور وہاں رہنے والے دیگر لوگوں کو دھمکی دینے، خوفزدہ کرنے یا ان کی نگرانی کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور ہم کبھی بھی غیر ملکی عناصر کو کینیڈا کی قومی سلامی اور ہمارے شہریوں اور یہاں بسنے والوں کو دھمکانے کے اقدامات کو برداشت نہیں کریں گے۔

کینیڈین وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ملک کے مکینوں کو اعتماد ہونا چاہیے کہ ان کی سکیورٹی ایجنسیاں اتنی صلاحیت رکھتی ہیں کہ اس قسم کے خطرات کا پتہ لگا سکیں اور ان کی تحقیقات کر سکیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم کینیڈین شہری اور باہر سے آکر اس سرزمین پر بسنے والوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے اور ہم لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ کسی اس قسم کے خطرات کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے حکام اداروں کو آگاہ کریں۔

مئی میں بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے خبر دی کہ الجبری کے بڑے بیٹے کا کہنا ہے کہ ان کے بہن بھائیوں کو یرغمال بنا دیا گیا تھا۔

سعد الجبری کون ہیں؟

سعد الجبری کئی برس تک محمد بن نائف کے دست راست رہے۔ انھیں سنہ 2000 کے عرصے میں القاعدہ کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کو شکست دینے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔

انھیں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ سعودی تعلقات کے حوالے سے کلیدی کردار کی حیثیت حاصل تھی۔

خاموش طبیعت کے حامل جبری نے یونیٹورسٹی آف ایڈنبرا سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ کابینہ کے وزیر تھے اور میجر جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔

لیکن سنہ 2015 میں اس وقت سب کچھ بدل گیا جب شاہ عبداللہ کی وفات ہوئی اور ان کے سوتیلے بھائی کے پاس بادشاہت آ گئی۔ انھوں نے اپنے بیٹے محمد بن سلمان جو کہ ایم بی ایس کے نام سے جانے جاتے ہیں کو وزیر دفاع کا عہدہ سونپا۔

سنہ 2017 میں محمد بن سلمان نے اپنے والد کی مدد سے محمد بن نائف کی جگہ ولی عہد بن گئے۔ سعد جبری اس کے بعد ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

اس وقت محمد بن نائف زیر حراست ہیں ان کے اثاثے منجمد ہیں اور جو لوگ بھی ان کے لیے کام کرتے تھے وہ اپنے عہدوں سے ہٹائے جا چکے ہیں۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store