Tue 23 January 2018

اسلامی عسکری اتحاد رکن ممالک کی معاونت کرے گا: جنرل راحیل

اسلامی عسکری اتحاد رکن ممالک کی معاونت کرے گا: جنرل راحیل اسلامی عسکری اتحاد رکن ممالک کی معاونت کرے گا: جنرل راحیل

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی سربراہی میں دہشت گردی کے خلاف مسلم اتحاد کے پہلے اعلیٰ سطحی اجلاس کا افتتاح کردیا۔

اسلامک ملٹری کاؤنٹرٹیرارزم کولیشن (آئی سی ایم سی ٹی سی) کے 'دہشت گردی کے خلاف اتحاد' کے عنوان سے افتتاحی اجلاس میں رکن ممالک کے وزراء دفاع نے حصہ لیا۔

پاک فوج کے سابق سربراہ اور عسکری اتحاد کے کمانڈر جنرل راحیل شریف نے اس موقع پر کہا کہ 'ہمارے کئی رکن ممالک دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑنے کے لیے مسلح فوج اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی صلاحیت میں کمی کے باعث شدید دباؤ میں ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آئی ایم سی ٹی سی رکن ممالک کو اپنی ریاستوں میں انسداد دہشت گردی کارروائی کے لیے خفیہ معلومات کی ترسیل اور صلاحیت کو بہتر بنانے میں معاونت کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کردار ادا کر ےگا'۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عسکری اتحاد کے وزراء دفاع اور دیگر اعلیٰ حکام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'اس اجلاس سے ایک مضبوط اشارہ دیا گیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کے لیے رابطے اور متحد ہوکر کام کرنے جارہے ہیں'۔

واضح رہے کہ اس اتحاد میں ایران، عراق اور شام شامل نہیں جبکہ سعودی عرب اور دیگر چار عرب ممالک کی جانب سے سفارتی تعلقات کے منقطع ہونے کے باعث قطر نے اپنے نمائندے کو ریاض میں ہونے والے اجلاس کے لیے نہیں بھیجا۔

سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ 'اس دہشت گردی اور انتہا پسندی سے سب سے زیادہ خطرہ ہمارے مقدس دین کی مقبولیت کو ہے اس لیے ہم کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے'۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم آج سے ا س دہشت گردی کو ختم کرنے کا آغاز کرتے ہیں اور ہمیں مختلف پہلووں، دنیا اور بالخصوص مسلم ممالک سے اس کا خاتمہ نظر آتا اور ہم اس کی شکست تک اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے'۔

سعودی ولی عہد نے اس موقع پر مصر میں ہونے والے خونی واقعے پر تعزیت کا اظہار کیا جہاں شمالی سینا میں ایک مسجد میں دہشت گردی کے واقعے میں 305 نمازی جاں بحق ہوگئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ 'یہ ایک دردناک واقعہ تھا اور یہ دہشت گردی کے خطرات کی جانب ایک یاد دہانی ہے'۔

یاد رہے کہ '41 ملکی پان اسلامی اتحاد' کے نام سے نئے اتحاد کا اعلان دسمبر 2015 میں کیا گیا تھا۔

پاکستان 34 ممالک کی ابتدائی فہرست میں شامل تھا جو اس اتحاد کا حصہ بننے پر متفق تھے۔

جنرل راحیل شریف اس اتحاد کے کمانڈر کے طور پر رواں سال اپریل میں شامل ہوئے تھے اور آئی ایم سی ٹی سی کے مطابق سابق آرمی چیف عسکری معاملات کو دیکھیں گے جس کا مقصد رابطوں، وسائل اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے عسکری منصوبہ بندی کے علاوہ اطلاعات کی محفوظ ترسیل اور فوجی صلاحیت اور قابلیت کو بڑھانے میں مدد کرنا ہے'۔

اسلامی عسکری اتحاد کے بنیادی مقاصد میں نظریات، مواصلات، انسداد دہشت گردی کے لیے مالی تعاون اور فوج کو شامل کیا گیا ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.