Tue 12 December 2017

اینڈرائیڈ کی جگہ گوگل کا نیا آپریٹنگ سسٹم کیسا ہوگا؟

گوگل نے ایک نئے آپریٹنگ سسٹم کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے اور وہ اینڈرائیڈ سے بالکل مختلف ہے۔

جی ہاں گوگل اکثر نت نئے پلیٹ فارمز متعارف کراتا رہتا ہے مگر اس کا نیا منصوبہ کچھ ہٹ کر ہے۔

گوگل کی جانب سے اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم فویشا کو ڈیزائن کیا جارہا ہے جو موبائل فونز، لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز غرض ہر چیز پر کام کرسکتا ہے۔

اس کا کیرنل (سسٹم کا وہ حصہ جو میموری، فائلز اور پیریفیرل ڈیوائسز کا انتظام کرتا ہے) میں یوزر موڈز اور سیکیورٹی ماڈل جیسے آپریٹنگ سسٹم کے فیچرز موجود ہیں اور یہ ایڈوانسڈ گرافکس کو سپورٹ بھی کرتا ہے۔

گوگل کی ڈارٹ پروگرامنگ لینگویج اس کا دل ہے۔

اب اس کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ گوگل کا نیا آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ بلکہ آئی او ایس سے بھی بالکل مختلف ہے۔

اس کے حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیو سے عندیہ ملتا ہے کہ فویشا میں ہوم اسکرین میں اینڈرائیڈ یا آئی او ایس کی طرح ہوم اسکرین پر ایپ آئیکونز کا ہونا ضروری نہیں ہوگا بلکہ اس کی جگہ مستطیل سیکشنز ہوں گے جبکہ اسکرین کے نیچے ہوم بٹن ضرور ہوگا۔

اس میں ایپس کو اوپن کرنے پر پوری اسکرین کی جگہ یہ فویشا آپریٹنگ سسٹم کے اوپر تیرتی ہوئی محسوس ہوں گی جبکہ وقت اور بیٹری انڈیکٹر اوپر کی بجائے نیچے ہوگا اور ہاں گوگل اسسٹنٹ تو اس میں بھی موجود ہوگا۔

جیسا بتایا جاچکا ہے کہ یہ کمپیوٹر اور موبائل میں بھی استعمال ہوسکتا ہے تو یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ گوگل کی جانب سے اسے اینڈرائیڈ اور کروم آپریٹنگ سسٹم کے متبادل کے طور پر بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔

یہاں آپ نیچے ویڈیو دیکھ سکتے ہیں جس میں گوگل کے اس نئے آپریٹنگ سسٹم کو ایک موبائل ڈیوائس پر آزمایا گیا ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.