شیاؤمی نے سام سانگ کو پیچھے چھوڑنے کی ٹھان لی

شیاؤمی نے سام سانگ کو پیچھے چھوڑنے کی ٹھان لی فائل فوٹو شیاؤمی نے سام سانگ کو پیچھے چھوڑنے کی ٹھان لی
چینی ٹیکنالوجی کمپنی شیاؤمی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تین سالوں میں اسمارٹ فون ٹیکنالوجی میں سرفہرست کمپنی بننے کا مقام حاصل کر لی گی۔چینی ٹیکنالوجی کمپنی نے حال ہی میں امریکی کمپنی ایپل کو پیچھے چھوڑ دیا تھا اور اسمارٹ فون بنانے والی دنیا کی دوسری بڑی کمپنی بن گئی تھی۔ شیاؤمی دنیا کی سب سے بڑی اسمارٹ فونز بنانے والی کمپنی بننے کا ارادہ رکھتی ہے۔
جنوبی کوریا کی سام سنگ الیکٹرانکس اس وقت اسمارٹ فون بنانے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ شیاؤمی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو لی جون نے کمپنی کے نئے مکس 4 ہینڈسیٹ کے اجراء سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ہماری توجہ عالمی مارکیٹ میں اپنی نمبر دو کی پوزیشن کو مضبوط کرنا ہے۔ ہمارا ارادہ تین سالوں میں عالمی سطح پر نمبر ون بننے کا ہے۔ گزشتہ ماہ جاری کردہ موبائل انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق کہ شیاؤمی نے پہلی بار امریکی حریف ایپل کو دنیا کے دوسرے بڑے اسمارٹ فون برانڈ کے طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ ریسرچ فرم آئی ڈی سی کے مطابق اپریل سے جون کہ سہہ ماہی میں شیاؤمی کی عالمی مارکیٹ میں ہینڈسیٹ کی فروخت میں حصہ تقریبا 17 فیصد رہا جبکہ ایپل کی فروخت کا حصہ 14.1 فیصد رہا۔ اسی عرصے کے دوران سام سنگ کا مارکیٹ شیئر 18.8 فیصد تک سکڑ گیا تاہم دنیا کی نمبرون اسمارٹ فون کمپنی کا اعزاز اب بھی جنوبی کوریا کی کمپنی کے پاس ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کئی دیگر بڑی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طرح شیاؤمی کو بھی امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ امریکی محکمہ دفاع نے چین کی فوج کے ساتھ تعلقات کے الزام میں شیاؤمی کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ تاہم مئی میں ایک امریکی وفاقی جج نے شیاؤمی پر پابندی کے نفاذ کو روک دیا اور اسے بلیک لسٹ کرنے کے فیصلے کو “انتہائی ناقص” قرار دیا تھا۔ شیاؤمی پر اگر پابندی لگ جاتی تو اسے امریکی اسٹاک ایکسچینج اور عالمی بینچ مارک شیئر انڈیکس سے ہٹا دیا جاتا۔ subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store