Tue 21 November 2017

آزادی کپ دوسرا ٹی 20: ورلڈ الیون نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی

آزادی کپ دوسرا ٹی 20: ورلڈ الیون نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی فائل فوٹو

دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ورلڈ الیون نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز ایک ایک سے برابر کردی۔ ورلڈ الیون نے ہدف کے تعاقب میں 19 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 162 رنز بنالیے۔

قذافی اسٹیڈیم میں جاری دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ورلڈ الیون کی جانب سے 175 رنز کے ہدف کے تعاقب میں اننگ کا آغاز ہاشم آملہ اور تمیم اقبال نے پر اعتماد انداز میں کیا اور ٹیم کے لیے 47 رنز کی شراکت بنائی۔

ورلڈ الیون کے اوپنر تمیم اقبال 19 گیندوں پر 23 رنز بنا کر سہیل خان کی گیند پر شعیب ملک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ ٹم پین 10 رنز بناکر عماد وسیم کا شکار بنے جب کہ ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈوپلیسی 20 رنز پر محمد نواز کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔

ہاشم آملہ نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 3 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کرلی۔

اس سے قبل پاکستان ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا، پاکستان کی جانب سے اننگ کا آغاز جارح مزاج بلے باز فخر زمان اور احمد شہزاد نے محتاط انداز میں کیا تاہم 41 کے مجموعی اسکور پر فخر زمان 21 رنز بناکر سیموئل بدری کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

سلامی بلے باز احمد شہزاد 43 رنز بناکر عمران طاہر کی گیند پر ملر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ بابر اعظم نے ایک بار پھر عمدہ کھیل پیش کیا اور 38 گیندوں پر 45 رنز بناکر ڈیوڈ ملر کو کیچ دے بیٹھے۔

پاکستان کی چوتھی وکٹ 19 ویں اوورز میں 156 کے مجموعی رنز پر گری اور عماد وسیم 15 رنز بناکر تھیسارا پریرا کا شکار بنے جب کہ قومی ٹیم کے کپتان کھاتے کھولے بغیر ہی اسی اوور میں بولڈ ہوئے۔

شعیب ملک نے ایک بار پھر دھواں دھار بیٹنگ کی اور 23 گیندوں پر 3 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 39 رنز بناکر کٹنگ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے اور اپنی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی میں سے سے زیادہ اسکور کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔

پاکستانی ٹیم 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 174 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی جب کہ ورلڈ الیون کی جانب سے سیموئل بدری، تھیسارا پریرا نے 2،2 اور عمران طاہر، کٹنگ نے ایک ایک کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

قومی ٹیم کو تین میچز کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم نے گزشتہ روز ورلڈ الیون کو دلچسپ مقابلے کے بعد 20 رنز سے شکست دی اور قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شام سات بجے ایک مرتبہ پھر دونوں ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔

پہلے میچ میں کامیاب ہونے والی میزبان ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ کمر کی تکلیف کا شکار حسن علی کی جگہ عثمان شنواری جبکہ فہیم اشرف کی جگہ محمد نواز کو اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب مہمان ٹیم نے بھی اپنی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں۔ ڈیرن سیمی اور گرانٹ ایلیٹ کی جگہ سیموئل بدری اور پال کالنگ وڈ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

شائقین کرکٹ دوسرے میچ کے لئے بھی بے تاب ہیں اور تماشائیوں کی بڑی تعداد قذافی اسٹیڈیم پہنچنا شروع ہوگئی جب کہ دونوں ٹیمیں بھی سخت سیکیورٹی میں گراؤنڈ پہنچیں۔

ٹاس کے موقع پر مہمان ٹیم کے کپتان نے کہا کہ انہیں پاکستان میں کرکٹ کھیل کر خوشی محسوس ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے میدان پر صرف تفریح کے مقصد سے نہیں اترتے اور وہ جیت کے لیے کھیل رہے۔ فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ یہ دورہ صرف کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ کے لئے بھی انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں اور آج بھی تماشائیوں کو بھرپور چیکنگ کے بعد گراؤنڈ کے اندر جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔

اپنی ذاتی گاڑیوں پر آنے والے تماشائیوں کو اسٹیڈیم سے دور مختلف مقامات پر بنائے گئے پارکنگ پوائنٹس پر گاڑیاں پارک کرنا ہوں گی جس کے بعد انہیں خصوصی شٹل کے ذریعے انٹری گیٹ تک پہنچایا جا رہا ہے۔

پہلے میچ میں مہمان کھلاڑیوں کو خصوصی رکشوں میں گراؤنڈ کے اندر چکر لگوائے گئے تو پرجوش تماشائیوں نے کھڑے ہو کر مہمانوں کا استقبال کیا جب کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی جانب سے بھی ہاتھ ہلا کر ان کا جواب دیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی ) کے چیرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ورلڈ الیون اور پاکستان کے درمیان سیریز کا سلسلہ 3 سال تک جاری رہے گا۔

نجم سیٹھی کے مطابق سری لنکا کی ٹیم اکتوبر اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم نومبر میں پاکستان کا دورہ کرے گی جب کہ اگلے سال ایک سے 2 بڑی ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو آئندہ سالوں میں مزید بڑی ٹیمیں پاکستان آسکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2 سال پہلے بورڈ اس طرح کا رسک نہیں لینا چاہتا تھا لیکن اب دہشت گردی کے خلاف 90 سے 95 فیصد مقاصد حاصل کرچکے ہیں اس لیے ملک کی بہتر صورتحال عالمی برادری کو ہماری طرف متوجہ کرے گی۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.