جناح اسپتال میں جڑواں بچوں کے معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ محکمہ صحت کو پیش

جناح اسپتال فائل فوٹو جناح اسپتال

جناح اسپتال میں جڑواں بچوں کے معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ محکمہ صحت کو پیش کر دی گئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق جناح اسپتال کراچی سے جڑواں بچوں میں سے ایک کے اغوا کے معاملے پر ڈاکٹر طارق کی سربراہی میں اسپتال کی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ محکمہ صحت کو پیش کر دی۔

رپورٹ میں والدین کا دعویٰ مسترد کر دیا گیا ہے، کمیٹی نے تمام متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے۔

رپورٹ کے مطابق جڑواں بچوں سے متعلق والدین کا مؤقف درست نہیں، والدین کی جمع کرائی گئی 14 ہفتے کی الٹرا ساؤنڈ رپورٹ درست ہے، جس میں صرف ایک بچے کی نشان دہی ہوئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لانڈھی کورنگی کی لیب سے دوسری الٹرا ساؤنڈ رپورٹ میں بچوں کی تعداد، عمر، مریضہ کا نام، ایم آر نمبر اور ڈاکٹر کا نام تک نہیں ہے۔

دوسری طرف بچی کے والد نے کمیٹی کی رپورٹ مسترد کر دی ہے، اور سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 5 فروری 2021 کو حمیرا زوجہ خالد کو سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی سے جناح اسپتال لایا گیا تھا، 6 فروری کو سی سیکشن آپریشن کے ذریعے ایک بچی کی ولادت ہوئی تھی، تاہم بچی کے والد نے 2 بچوں کا دعویٰ کر دیا تھا۔

والدین کی درخواست پر سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، ذرائع ابلاغ پر بغیر تصدیق کے خبریں چلتی رہیں جس کے پیش نظر کمیٹی تشکیل دی گئی، میڈیکل کمیٹی نے کہا کہ 18 اور 23 فروری کو شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اس کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کر کے محکمہ صحت کو ارسال کر دی ہے۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store