شادی کی تقریب میں منچلوں کی ہوائی فائرنگ، پولیس کیوں خاموش تماشائی بنی رہی؟

 ہوائی فائرنگ فائل فوٹو ہوائی فائرنگ

شہر قائد کے علاقے گلزار ہجری میں ہونے والی شادی کی تقریب میں منچلوں کی ہوائی فائرنگ سے علاقہ گونج اٹھا۔

کراچی کے علاقے گلزار ہجری میں واقع ابوالحسن اصفہانی روڈ پر قائم گلشن ویو اپارٹمنٹ میں موجود ڈیرے پر 6 روز قبل شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

شادی کی یہ تقریب دو گھنٹے تک جاری رہی جس میں سیاسی جماعت کے علاقائی عہدیداران اور اپارٹمنٹ کے مکینوں سمیت متعدد مہمانوں نے شرکت کی۔

شادی کی تقریب دو گھنٹے تک جاری رہی، اس دوران سیاسی جماعت کے علاقائی عہدیداروں نے چھوٹے اور بڑے اسلحے سے شدید ہوائی فائرنگ کی جس کی وجہ سے علاقہ گولیوں کی تھڑ تھڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ شادی میں شرکت کرنے والے مسلح افراد ثقافتی رقص کے دوران بھی ہوائی فائرنگ کرتے رہے اور پولیس اس معاملے پر خاموش تماشائی بنی رہی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اس مقام سے چند قدم کے فاصلے پر سچل پولیس کی چوکی قائم ہے جس کو تھانے کی حیثیت حاصل ہے جبکہ ساتھ ہی ایس پی کا دفتر بھی موجود ہے۔

 چوکی کو تھانے کی حیثیت حاصل ہونے اور ایس پی آفس میں اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے، شادی میں شریک افراد کھلے عام فائرنگ کرتے رہے، اُن کے خلاف نہ کوئی ایکشن ہوا اور نہ ہی پولیس کی نفری وہاں پر پہنچی۔

اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ایک طرف تو پولیس شادی کی تقریب میں ہونے والی فائرنگ سے لاعلم ہے تو دوسری طرف 6 روز گزر جانے کے باوجود بھی کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

ویڈیو میں فائرنگ کرنے والے افراد کے چہرے واضح ہیں جبکہ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ان میں سیاسی جماعت کے علاقائی عہدیداران بھی شامل تھے۔ دوسری جانب پولیس حکام نے ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملے کا نوٹس لیا اور مؤقف دیا کہ فائرنگ کرنے والے افراد کی شناخت کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store