بڑے بڑے آمر نہیں رہے تو یہ کٹھ پتلی حکومت کیا چیز ہے: بلاول بھٹو

پی ڈی ایم کا دوسرا پاور شو فائل فوٹو پی ڈی ایم کا دوسرا پاور شو

حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم آج کراچی میں اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کررہا ہے، اپنے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ میں عمران خان کا نام بھی لینا پسند نہیں کرتی اور ایسے جعلی شخص کو وزیراعظم نہیں مانتی، بلاول نے کہا کہ بڑے بڑے آمر نہیں رہے تو یہ کٹھ پتلی حکومت کیا چیز ہے۔

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا دوسرا سیاسی و عوامی طاقت کا مظاہرہ آج کراچی باغ جناح میں ہوا جس میں ملک بھر سے کارکنان شرکت نے شرکت کیا۔ پیپلز پارٹی کی میزبانی میں پنڈال سج گیا، پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز، جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، اختر مینگل، انس نورانی، محمود خان اچکزئی، میاں افتخار، شاہد خاقان عباسی اور دیگر قائدین نے خطابات کیے۔

یزید کی حکومت کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہاں ناموس رسالتؐ، صحابہ کرام کی حرمت کو ماننے والے اور ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے یزید کی حکومت کو کبھی تسلیم نہیں کیا، ہم بھی اس حکومت کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے، ہم نے پہلے بھی کراچی سے آزادی مارچ کا آغاز کیا تھا جس پر میں شکر گزار ہوں۔

انہوں ںے کہا کہ ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم بدترین دھاندلی سے بنی حکومت کو مان لیں، ہمیں لالچ و ترغیب دی گئی، ڈرایا دھمکایا گیا لیکن ہم نہ مرعوب ہوئے اور نہ لالچ میں آئے اور آج بھی اس بات پر قائم ہیں کہ ہمیں یہ کٹھ پتلی حکومت قبول نہیں اور ہم اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ کا تاریخی جلسہ ہوا جس میں میاں نواز شریف کا خطاب ٹی وی پر نہیں دکھایا گیا لیکن ان کی گفتگو پر کچھ بڑوں کو اعتراض ہوا، کٹھ پتلی کو بوٹ پالش کرنے کا موقع ملا، جب کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی غلطی کردیتا ہے، وہ کہنا چاہتا تھا کہ خواجہ آصف نے اسمبلی کی ممبر شپ کیسے حاصل کی اور یہ کہا کہ میں ہاررہا ہوں مجھے جتا دوں، عمران خان کو یہ خیال نہیں آیا کہ میں دھاندلی کا اعتراف کررہا ہوں، باجوہ صاحب آپ قابل احترام ہیں لیکن نادان دوستوں سے دور رہیں۔

فضل الرحمان نے کہا کہ چوری کے مینڈیٹ سے آئے ہوئے پہلے ہی بجٹ میں ملک کو خسارے میں لے آئے دوسرے میں بھی یہی حال ہوا، ملک معاشی طور پر تباہ ہوجائے گا تو اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا، یہاں لوگ پاکستان کے تحفظ اور جمہوریت کی جنگ لڑرہے ہیں، ہم قربانیاں دے کر پاکستان بنانے والوں کے وارث ہیں آج بھی یہ سفر جاری رہے گا اور ہم پاکستان بچائیں گے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے 1947ء سے لے کر آج تک نوکریوں کی تعداد بمشکل ایک کروڑ تک پہنچتی ہے تو یہ حکومت ایک کروڑ نوکریاں کیسے دیں گے؟ ان پر یقین کرنے والے ذرا سوچیں، کراچی والے بتائیں کہ یہ حکومت پچاس لاکھ مکانات کہاں سے دے گی؟ یہاں تو تجاوزات کے نام پر ہزاروں مکانات گرادیے گئے، انقلاب ہمیشہ غریب قوم ہی لائی ہے اور یہ انقلاب آکر رہے گا۔

فضل الرحمان نے کہا کہ کیا عمران خان نے کشمیر کو تین حصوں میں پیش کرنے کا فارمولا پیش نہیں کیا تھا؟ عمران خان کا یہ کہنا کہ مودی آئے گا اور مسئلہ کشمیر حل ہوگا اور مودی نے آتے ہی کشمیر پر قبضہ کرلیا، حکومت مگرمچھ کے آنسو بہارہی ہے، تم کشمیر کے سوداگر ہو۔ انہوں نے کہا کہ تم گلگت بلتستان کا مسئلہ بھی اٹھا رہے ہو، سلامتی کونسل کی قراردادوں کے حوالے سے اور ہم نے جو کشمیر کا نقشہ یو این او میں جمع کرایا ہے اس کے مطابق گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے، ہم نے 72 سال کشمیریوں کی لاشوں، ماؤں اور بہنوں کے خون کی سیاست کی، آج ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ ہمارا کشمیر کے ساتھ کیا سلوک ہے۔

فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسوں نے ملک کو تنہا کردیا، 70 سال کے بعد ہماری چین سے ہمالیہ سے گہری دوستی کو موجودہ حکومت نے متاثر کردیا، چین کا ہم پر اعتماد ٹوٹ گیا، اب حال یہ ہے کہ چین ہم پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں، افغانستان کا روپیہ پاکستان کے روپے سے زیادہ مستحکم ہوچکا، ایران ہمارا ہمسایہ ہے لیکن وہ بھارت کے کیمپ میں بیٹھا ہوا ہے، سعودی عرب جس سے پاکستان الگ ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا لیکن وہ بھی پاکستان سے ناراض بیٹھا ہے۔

بے نظیر نے بہادری کے ساتھ جان دینا پسند کیا، بلاول

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج 18 اکتوبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کردیا گیا، وہ جانتی تھیں کہ اگر وہ عوام کا سچائی کا راستہ چھوڑدیں تو قتل ہونے سے بچ جائیں لیکن انہوں نے بہادری کے ساتھ جان دینا پسند کیا، ایک ایک کرکے وہ ادارے کھوکھلے کیے جارہے ہیں جو حق کی بات کرتے ہیں، ہمیں ظلم کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں لیکن ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ہرطرف مہنگائی اور کرپشن ہے، آٹا، چینی، پٹرول میں کرپشن ہے، سندھ کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے، لیکن ہم سندھ کے جزیروں پر قبضہ ہونے نہیں دیں گے، کے الیکٹرک عوام کا خون چوس رہی ہے، لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی، سلیکٹڈ وزیراعظم کو مہنگائی کی خبر بھی ٹی وی کے ذریعے ملتی ہے، سندھ میں اب تک سیلاب کے متاثرین موجود ہیں، وزیراعظم نے امداد دینا تو دور کی بات انہیں پوچھا تک نہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ عمران خان نے کراچی کے عوام کو دھوکا دیا، ایک ہزار ارب روپے کا پیکیج ایک دھوکا نکلا، اس میں سے 800 ارب روپیہ خود سندھ کے عوام کا ہے، ہمیں ملک میں آئین کی حکمرانی اور حقیقی جمہوریت کے لیے جنگ لڑنی ہے، جب کٹھ پتلیوں کو عوام پر مسلط کیا جاتا ہے تو عوام پر ظلم ہوتا ہے اور خارجہ پالیسی بھی تباہ ہوجاتی ہے، کشمیر کا مقدمہ لڑنے کا دعوے دار کلبھوشن یادیو کا وکیل بن چکا ہے، عمران خان نے کشمیر پر سودا کرلیا، نالائق وزیراعظم نے دوست ممالک سے تعلقات بھی خطرے میں ڈال دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ عوام کے ووٹوں سے نہیں کسی کے کہنے پر آئے، یہ سلیکٹڈ وزیراعظم اور سلیکٹڈ حکومت ہے، نااہل وزیراعظم کو عوام کی بھوک اور مہنگائی نظر نہیں آتی، آپ سے پہلے جو یہاں تخت نشین تھا وہ بھی نہیں رہا یہ کٹھ پتلی حکومت بھی نہیں رہے گی، بڑے بڑے آمر و جابر نہیں ٹک سکے تو یہ کٹھ پتلی حکومت کیا چیز ہے، یہ لڑائی فیصلہ کن ہوگی۔

بلاول نے کہا کہ یہ تحریک بھوک اور ناانصافی کے خلاف ہے ، اس حکومت کو جانا ہی پڑے گا، یہاں جمہوریت عوام کی مرضی سے بنتی ہے کسی اور کی مرضی سے نہیں، اس وقت پورے پاکستان کی جمہوری قوتیں ایک اسٹیج اور ایک پیج پر موجود ہیں، حکومت کس کس کو جیل میں ڈالے گی؟ کبھی سچ کو بھی قید رکھا گیا ہے؟ ہم ان دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں۔

ایک ہی جلسے میں عمران خان دماغی توازن کھو بیٹھے، مریم نواز

اپنے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ کل ایک شخص چیخ چیخ کر اپنی ناکامی کا ماتم کررہا تھا، ابھی تو ایک ہی جلسہ ہوا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں، ایک ہی جلسے میں وہ شخص دماغی توازن کھو بیٹھا، جعلی اور سلیکٹڈ ہی صحیح اگر آپ وزیراعظم کے عہدے پر بیٹھے ہیں اور مانا آپ پر بہت دباؤ ہے پھر بھی وزیراعظم کی کرسی کی لاج ہی رکھ لیتے، تقریر کے ایک ایک لفظ اور حرکات و سکنات سے آپ کا خوف جھلک رہا تھا اور یہی خوف پاکستانی کے عوام آپ کے چہرے پر دیکھنا چاہتے ہیں، یہ خوف عوام کی طاقت کا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان دباؤ میں رہنے کے باوجود کام کرنا نواز شریف سے سیکھیں جب آپ 126 دن دھرنے میں بیٹھے رہے تب بھی نواز شریف بوکھلائے نہیں اور الٹے سیدھے بیانات نہیں دیے، عمران خان کو نواز شریف کے منہ سے اپنا نام سننے کی خواہش ہی رہ جائے گی اس لیے کہ بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کوئی کام نہیں، آپ کس خوشی میں اچھل رہے ہیں، آپ پہلے تابعدار ملازم تھے اب وزیراعظم کی کرسی پر آنے کے بعد وزیراعظم کی تنخواہ لے رہے ہیں۔

میں عمران خان کا نام بھی لینا پسند نہیں کرتی، میں ایسے جعلی شخص کو وزیراعظم نہیں مانتی، اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتی اور اس کے الزامات کا جواب دینا پسند نہیں کرتی، مجھے کہا کہ یہ بچی ہے لیکن نانی ہے، میں ایک نہیں دو بچوں کی نانی ہوں، آپ میری نہیں نانی کے مقدس رشتے کی توہین کررہے ہیں وہ، میں اگر آپ کو نشانہ بنانا چاہوں تو میرے پاس باتیں ہیں لیکن مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ ایسی باتیں زبان پر لاؤں، یہ رشتے ان لوگوں کو ملتے ہیں جو ان رشتوں کی عزت اور قدر جانتے ہیں۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ میں اور بلاول اس طرح سے بہن بھائی ہیں جس طرح بے نظیر بھٹو اور نواز شریف بہن بھائی کی طرح قریب آگئے تھے، بلاول وعدہ کریں کہ ہم انتخابی میدان میں حریف بنیں گے تو ایک دوسرے سے ذاتی عناد نہیں رکھیں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر آپ نواز شریف کی تقریر پر پابندی لگاتے ہیں اور اسے نشر ہونے سے روکتے ہیں تو آپ کو اس پر تبصرہ کرنے کا بھی کوئی حق نہیں، کل تقریر میں عمران خان نے سچ کہہ دیا کہ نیب ہمارے ساتھ ہے، کون نہیں جانتا ہے کہ نیب عمران خان کے اشارے پر کام کرتا ہے، دنیا جانتی ہے کہ ایف آئی اے اور ایف بی آر سمیت تمام ادارے حکومت کے اشارے پر کام کرتے ہیں۔

پرورش میں جائز کمائی نہ ہونے کے الزام پر مریم نواز نے کہا کہ عمران خان بتائیں کہ سلیکٹر کی اس نوکری کے سوا آپ نے کوئی نوکری کی؟ تو پھر یہ شاہ خرچیاں کہاں سے پوری ہورہی ہیں؟ دوسرے پر الزام لگانے سے پہلے اس بات کا تو جواب دیں۔

مریم نواز نے کہا کہ بی آر ٹی پروجیکٹ 120 ارب میں بنا جس رقم سے لاہور ملتان سمیت چار میٹرو سروسز بنیں، یہ عمران خان کی کرپشن کی داستان ہے، اسی طرح فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ اس لیے نہیں ہورہا کہ اس میں پی ٹی آئی کی چوری پکڑی گئی ہے، کب تک میڈیا کو دبایا جائے گا اور کتنی پابندیاں لگائی جائیں گی ایک نہ ایک دن یہ زنجیریں ٹوٹیں گی اور پی ٹی آئی کی کرپشن کی داستانیں سامنے آئیں گی، ہم کچھ کہیں تو کہا جائے کہ مودی کی زبان بولتے ہیں، کشمیر کو آپ پلیٹ میں رکھ کر بھارت کو پیش کریں اور ہمیں کہیں کہ ہم مودی کی زبان بول رہے ہیں؟

مریم نواز نے کہا کہ ضرب عضب اور ردالفسار آپریشن، کارگل جیسے معاملات کی سربراہی کرنے والے نواز شریف مودی کی زبان بول رہے ہیں؟ فوج کے خلاف بات کررہے ہیں؟ جب بھی ہم آپ کی نااہلی کی بات کرتے ہیں تو آپ فوراً فوج کی وردی کا سہارا لے کر فوج کو آلودہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، فوج کو اپنی ناکامی چھپانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا فوج عمران خان کی ہے؟ کیا یہ پاکستان کی فوج ہے؟ یہ ہماری فوج ہے یہاں موجود ہرشخص کی فوج ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ ہاں نواز شریف نے یہ ضرور کہا کہ اس نے کرداروں اور اداروں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی ہے، جو شخص عدالتوں پر اثر انداز ہو، ووٹ کے خلاف سازش کرے اور سازشوں کے ذریعے منتخب وزیراعظم کو منصب سے محروم کرے وہ ہمارا ہیرو نہیں، اسے ہم نہیں مانتے، نواز شریف کا موقف ہے کہ سیاست میں دخل اندازی نہیں کی جائے اور عوام کے ووٹ پر ڈاکا مت ڈالا جائے، عوامی نمائندوں کی تذلیل نہیں کرو اور مینڈیٹ کی عزت کرو تو کیا غلط کہا؟

مریم نواز نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) پر پابندی کی بات سوچنا بھی مت، یہ پاکستان تحریک انصاف نہیں کہ لیفٹیننٹ ظہیر الاسلام بنا کر چلا گیا، اگر (ن) لیگ پر پابندی لگائی تو پاکستان کے 22 کروڑ عوام پر بھی پابندی لگانی ہوگی، آپ جائیں الیکشن کمیشن ہم بھی پیچھے پیچھے آرہے ہیں ہمارے پاس بھی ویڈیوز موجود ہیں جس میں پی ٹی آئی والوں نے فوج کے خلاف بات کی ہے،عوام کو اندھیروں، نالائقی اور سلیکٹڈ حکومت سے نجات دلانے تک یہ تحریک جاری رہے گی۔

 ہم خود مختاری کی بات کرتے ہیں تو ہمیں غدار کہا جاتا ہے، محمود خان اچکزئی

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم یہاں لوگوں کو گالیاں دینے نہیں آئے ہمیں عوام کا اتحاد اور سپورٹ چاہیے، ہم خود مختاری کی بات کرتے ہیں تو ہمیں غدار کہا جاتا ہے، ہم اس مٹی کے خلاف نہیں یہ مٹی ہمیں عزیز ہے، ہم نے ہر جگہ وطن کی آزادی کے لیے لڑائیاں لڑیں، ہمارے بچوں نے اس میں قربانیاں دیں۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر میں کہوں کراچی دہشت گردوں کا شہر ہے تو یہ زیادتی ہوگی، اس شہر میں دہشت گرد اثر رکھتے ہیں، کراچی کو بڑی محنت سے بنایا گیا ہے ہمیں اس شہر کی حفاظت کرنی ہے، ہم غدار نہیں ہیں ہماری تاریخ ہے کہ ہم نے خارجی تسلط قبول نہیں کیا، پہلا حق عالمی قانون کے تحت ہر صوبے کا اپنے وسائل پر ہے سب صوبے یہ ہی چاہتے ہیں۔

سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے، عبدالمالک بلوچ

نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ ریاست اس طرح نہیں چلتی، بلوچستان میں پانچ آپریشن کرچکے ہیں، ہزاروں نوجوانوں کو لاپتا اور قتل کردیا گیا، نواب اکبر بگٹی کو شہید کیا گیا، آئین پاکستان نوجوانوں کو لاپتا کرنے کی اجازت نہیں دیتا، کچھ وقت کے بعد سندھ کی تقسیم کا نعرہ لگایا جاتا ہے، سندھ اوربلوچستان کی ساحلی پٹی پر قبضے کی کوشش ہورہی ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک نے مزید کہا کہ لاپتا افراد کے پی، بلوچستان اور سندھ میں ایک مسئلہ بن گیا ہے، گولیوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے اس سے نفرتیں بڑھتی ہیں اگر حکومت نے یہ فیصلہ تبدیل نہ کیا تو ہم اس احتجاج کو تقویت دیں گے، ہم سمجھتے ہیں بلوچستان کے علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کی ضرورت ہے، حکومت سازش کے تحت سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی کو الگ کرنا چاہتی ہے ہم یہ نہیں ہونے دیں گے، یہ کام مشرف اور ضیاء الحق بھی کرنا چاہتے تھے مگر ہم نے انہیں یہ کرنے نہیں دیا، ہم ایسی تحریک چلائیں گے کہ ایوب خان کے خلاف تحریک یاد آجائے گی۔

عمران خان کو لانے والوں کو اندازہ ہوگیا کہ یہ گھوڑا دوڑنے والا نہیں، انس نورانی

جلسے سے سب سے پہلے خطاب کرتے ہوئے جے یو پی کے سربراہ شاہ اویس نوارنی نے کہا کہ کے وزیراعظم کے چہرے کی گھبراہٹ دیکھی ہے، دوسال قبل جو لوگ انہیں لے کر آئے وہ خوش تھے کہ گھوڑا میدان میں دوڑے گا مگر اب انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ یہ گھوڑا نہیں چلے گا، نواز شریف کو جیل میں بھیجنے کی بات کرنے والے نے نصیراللہ بابر کے ساتھ لندن جاکر الطاف حسن کو لانے کا وعدہ کیا جو پورا نہ ہوا، گرین لائن پروجیکٹ اس لیے تعطل کا شکار ہے کہ اس پر تختی نواز شریف کی لگی ہوئی ہے۔

پنڈال میں 50 ہزار کرسیاں لگائی گئیں

جلسے کے لیے پنڈال میں 50 ہزار کرسیاں لگائی گئی ہیں، جلسہ گاہ کے پانچ مرکزی دروازے ہیں جس میں تین مردوں کے لیے، ایک خواتین اور ایک دروازہ مرکزی قائدین کی آمدورفت کے لیے مختص ہے۔ جلسہ گاہ میں تمام جماعتوں کے پرچم اور خیر مقدمی بینر آویزاں کیے گئے ہیں۔

پیپلز پارٹی رہنماؤں کے مطابق جلسہ گاہ میں ساؤنڈ اور لائٹنگ کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جلسے کا اسٹیج کنٹینر سے بنایا گیا ہے جو 20 فٹ اونچا، 160 فٹ چوڑا اور 160 فٹ لمبا ہے۔ جلسہ گاہ میں پیپلز پارٹی کے 15 سو ورکرز ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جس میں اندرونی سیکیورٹی کے علاوہ ٹریفک کنٹرول، پانی پلانے، کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے اور دیگر امورکی انجام دہی شامل ہے۔

جلسہ گاہ میں خواتین کے لیے الگ جگہ مختص کی گئی ہے جہاں پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی ورکرزڈیوٹی انجام دے رہی ہیں۔ جلسہ گاہ کے اطراف انتظامیہ کے ساتھ مل کر پارکنگ اور سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور مختلف قافلوں کی آمد کے لیے مختلف روٹ کا تعین کیا گیا ہے۔ جلسہ گاہ میں داخلے سے پہلے تمام داخلی گیٹ پر واک تھرو گیٹ رکھے گئے ہیں۔ جلسے کے اسٹیج پر مرکزی اسکرین کے ساتھ 80 فٹ طویل اور 80 فٹ چوڑی ایس ایم بی اسکرین نصب کی گئی ہے۔

آصف زرداری شرکت نہیں کرسکے

علیل ہونے کے سبب سابق صدر آصف علی زرداری جلسے میں شرکت نہیں کرسکے۔

سیکیورٹی کے لیے 4800 پولیس افسران و اہلکاروں تعینات

دریں اثنا کراچی پولیس نے جلسے کی سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کرلیے۔ پولیس ترجمان کے مطابق باغ جناح میں آج 4 ہزار 800 سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی میں 30 سینئر پولیس افسران کے سوا 65 ڈی ایس پیز، 870 سب انسپکٹر اور اے ایس آئی جب کہ 3 ہزار 740 پولیس اہلکار شامل ہیں۔

subscribe YT Channel install suchtv android app on google app store