Mon 20 November 2017

عوام نے نوازشریف کی نااہلی کا عدالتی فیصلہ مسترد کر دیا، مریم نواز

عوام نے نوازشریف کی نااہلی کا عدالتی فیصلہ مسترد کر دیا، مریم نواز عوام نے نوازشریف کی نااہلی کا عدالتی فیصلہ مسترد کر دیا، مریم نواز

مریم نواز کا کہنا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد نے نوازشریف کی نااہلی کا عدالتی فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔

حلقہ این اے 120 میں انتخابی مہم کے دوران ماڈل ٹاؤن میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ لاہور وکلاء کنونشن تاریخ ساز تھا جس پر شرکاء اور منتظمین کو مبارکباد دیتی ہوں، وکلاء کنونشن سے پوری دنیا اور باالخصوص مخالفین کو مضبوط پیغام گیا جب کہ کنونشن میں وکلاء کی بڑی تعداد کی شرکت نے ہمیں حوصلہ دیا۔

مریم نواز نے کہا کہ کنونشن اتنا بھرپور تھا کہ مخالفین کو کہنا پڑا کہ لیگی ورکرز کو کالے کوٹ پہنچائے گئے جب کہ عوام کی بڑی تعداد نے نوازشریف کی نااہلی کا عدالتی فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹے سے پیسے لینے میں کیا انہونی ہے کہ ایک سال تک خاندان کی تذلیل کی گئی جب کہ نااہل اس بات پر کیا کہ چھوٹے بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی، نواز شریف کا نہ ہی پاناما پیپرز میں نام تھا اور نہ ہی کرپشن کا کوئی الزام تھا، ایک مقدمہ میں 4 بار فیصلہ آیا اور اب پانچویں مرتبہ فیصلہ آئے گا۔

مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف پاکستان کے مفاد اور ترقی کی بات کرتے ہیں، نواز شریف اگر اتنے ہی کرپٹ تھے تو یہ الزامات کو ثابت کرتے،اقامے پر نااہلی کا مطلب ہے نواز شریف کے خلاف کچھ نہیں تھا جب کہ جے آئی ٹی کے ہیرے بھی ایک پائی کی کرپشن نہیں نکال سکے، سزا دینے کے بعد کیس نیب کو بھیجا گیا ہے جب کہ گھریلو معاملات کھول کر ایک خاندان کی تذلیل سپریم کورٹ کے شایان شان نہ تھی۔

مریم نواز نے کہا کہ کامیاب ترین وکلا کنونشن دیکھ کر مخالفین کو بھی چپ لگ گئی، مخالفین کی جانب سے پراپگینڈہ کیا گیا کہ کارکنوں کو کالا کوٹ پہنا کر لائرز کنونشن میں لا یا گیا تاہم وکلا کی بڑی تعدا د نے کنونشن میں شرکت کر کے حیران کردیا اور حوصلہ دیا۔

انہوں نے کہا میڈیا ٹرائل کرکے ہمارے خلاف مہم چلائی گئی جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نواز شریف پاکستان کی ترقی کی بات کرتے ہیں اس لیے ان کے خلاف فیصلہ آیا جب کہ پاکستان کی تاریخ میں عوام نے فیصلے پر فوری رد عمل دیا۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.